“میں سگریٹ پیتا ہوں یہ شکایت مام سے تم نے کی ہے” اسے پول کے کنارے لے جاتے وہ سرد لہجے میں پوچھا تو حناء تیزی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔”جھوٹ” حناء کو مزید پیچھے کرتا وہ پول میں گرانے لگا تھا جب حناء نے اچانک اس کا کالر تھاما اور وہ اس کے ساتھ خود بھی پول میں گرا۔ وہ اس کے ماموں کی بیٹی تھی جو گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے گاؤں سے آئی تھی۔ “نہیں پلیز مجھے پانی میں نہیں پھینکنا مجھے تیرنا نہیں آتا ” اس کے گلے میں بانہیں ڈال وہ ٹانگیں اس کے گرد لپیٹ گئی اس بات سے بے خبر کے اس کی قربت پر مقابل کا دل زور سے دھڑکا تھا”احمق لڑکی ۔۔میرے بال تو چھوڑو°°°°°°°°°°°°°” ہائے اللّٰہ پھوپھو آپ کا گھر تو بہت بڑا اور خوبصورت ہے ۔” سر پر دوپٹہ لیے وہ بڑی بڑی کاجل سے بھری آنکھوں کو چاروں اطراف گھماتی ہوئی خوشگوار حیرت لیے گویا ہوئی تھی ۔” تمہارے ماموں نے تو صرف اس عمارت کو بنوایا تھا میں نے اس عمارت کو گھر بنایا ہے اس کو اپنا وقت اور توجہ دی ہے اس لیے یہ گھر تمہیں خوبصورت دکھ رہا ہے ۔” انہوں نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا ۔حناء شجاعت شاہ جع اپنے ماموں کے گھر پہلی بار شہر میں رہنے آئی تھی جبکہ فاروق اور مہناز بیگم اکثر ہی گاؤں رہنے جایا کرتے تھے ۔ کئی دن وہاں گزارنے کے بعد وہ اذلان کے بلانے پر واپسی کی راہ لیتے تھے کیونکہ ناہی اذلان شاہ کو گاؤں جانا پسند تھا اور ناہی وہاں کا لائف اسٹائل اسے کچھ خاص پسند تھا ۔ہاں جب کبھی زینب پھوپھو ان کے گھر آتی تھیں وہ انہیں اپنے ساتھ رکنے کی ضد کرتا تھا مگر وہ گاؤں کی سادہ زندگی گزارنے کو زیادہ ترجیح دیتی تھی جس کی وجہ سے ان کا شہر میں دل ہی نہیں لگتا تھا اور دو دن گزارنے کے بعد واپس چلی جاتی تھیں ۔زینب اور شجاعت شاہ کی دو بیٹیاں تھیں ایک ثناء جس کی شادی دو سال پہلے انہوں نے کردی تھی اور چھوٹی حناء جو ابھی میٹرک پاس کرنے کے بعد فاروق شاہ اور مہناز بیگم کی ضد پر ان کے ساتھ چھٹیاں گزارنے آئی تھی ۔مہناز بیگم رشتے میں حناء کی مامی ہونے کے ساتھ اس کی پھوپھو بھی لگتی تھی دوہرا رشتہ تھا جسے وہ تیسرے رشتے میں باندھنے کی خواہ تھیں ۔” آپ کا گھر اتنا پیارا ہے مامی پھر بھی آپ وہاں گاؤں میں رہنے جاتی ہیں ؟” حناء نے مسکراتی نگاہوں سے انہیں دیکھا تھا ۔” اپنی مٹی کی کشش ہی ایسی ہوتی ہے حناء چاہ کر بھی انسان بھول نہیں پاتا ، یہاں ہر آرائش ہے مگر وہ سکون نہیں ہے ۔” انہوں نے افسردگی سے کہا تھا ۔” مگر مجھے تو یہاں آکر گاؤں یاد نہیں آرہا ۔” اس نے سادگی سے کہا تھا جس پر مہناز بیگم مسکرائی تھیں ۔” یہ تو بہت اچھی بات ہے اچھا ہے تمہارا یہاں دل لگ جائے پھر زینب باجی کو منانا آسان ہو جائے گا ۔” ان کی ذومعنی بات پر حناء نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا تھا ۔” اماں منع کررہی تھیں مجھے بھیجنے سے ؟” اس کے سوال پر وہ لب دبا مسکرائی تھیں ۔” نہیں میں تو ایسے ہی کہہ رہی تھی چلو میں تمہیں تمہارا کمرہ دکھاتی ہوں تھک گئی ہوگی تم اتنا لمبا سفر طے کرکے آئی ہو ۔” ان کے ساتھ چلتی ہوئی وہ اب بھی ستائش بھری نگاہوں سے پورے گھر کو دیکھنے میں محو تھی ۔°°°°°°°°°°°°”
Dil Weraan Episode 1| Romantic Novel | |Classic Urdu Novels|

