چند دن بعد ۔”میں سگریٹ پیتا ہوں یہ شکایت ماما سے تم نے کی ہے۔” اسے پول کے کنارے لے جاتے وہ سرد لہجے میں پوچھا تو حناء تیزی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔”جھوٹ۔” حناء کو مزید پیچھے کرتا وہ پول میں گرانے لگا تھا جب حناء نے اچانک اس کا کالر تھاما اور وہ اس کے ساتھ خود بھی پول میں گرا۔ وہ اس کے ماموں کی بیٹی تھی جو گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے گاؤں سے آئی تھی مگر اب وہ اس کی جاسوسی بھی کرنے لگے گئی تھی ۔ “نہیں پلیز مجھے پانی میں نہیں پھینکنا مجھے تیرنا نہیں آتا۔ ” اس کے گلے میں بانہیں ڈال وہ ٹانگیں اس کے گرد لپیٹ گئی اس بات سے بے خبر کے اس کی قربت پر مقابل کا دل زور سے دھڑکا تھا۔”احمق لڑکی ۔۔میرے بال تو چھوڑو۔” اس نے درد سے کہا تھا ۔” نہیں پہلے آپ مجھ سے وعدہ کریں آپ مجھے پانی میں نہیں پھینکیں گے ۔” اس نے مضبوطی سے اس کے بالوں کو نوچا تھا ۔” اگر سچ بتاؤ گی تو نہیں پھینکوں گا ۔” وہ اب درد بھلائے تفتیش پر اترا تھا ۔” ہاں بتایا تھا بلکہ پھوپھو کو بھی دیکھایا تھا اور ماموں نے بھی آپ کو خود سیگریٹ پیتے ہوئے دیکھا تھا کل رات کو ۔” روانگی سے بولتی ہوئی پانی سے خوفزدہ ہوتی ہوئی وہ اس کے مزید قریب ہوئی تھی جس پر اذلان شاہ نے اپنے سانس روکے تھے ۔” تم میری جاسوسی کرتی ہو ؟” حناء نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا تھا اور نفی میں گردن ہلائی تھی ۔”پھر ؟” اس کی نم آنکھوں میں دیکھتا ہوا وہ نرم پڑا تھا ۔” میں مامی کے پاس جارہی تھی راستے میں آپ کا کمرہ پڑتا ہے اور کمرے کا دروازہ بھی کھلا تھا اور آپ سامنے بیٹھے ہوئے سیگریٹ پھونک رہے تھے تو میرا کیا قصور اس میں ۔” اس نے معصومیت سے پوچھا تھا جبکہ اذلان شاہ کا دل اسے پول میں غوطے دینے کا کررہا تھا ۔” مام اور ڈیڈ کو کیوں بلا کر لائی پھر تم ؟ دروازہ بند کرکے جاسکتی تھی ناں تم ۔” اس نے غصے سے پوچھا اور اسے لیے پول سے نکلا تھا ۔” ہااا ۔۔ ہائے ایسے کیسے بچے جب نشے کی طرف جاتے ہیں تو سب سے پہلے سیگریٹ پھونکتے ہیں اور میں یہ سب دیکھ کر کیسے چپ رہ سکتی تھی کہ میرے ماموں کا بیٹا سیگریٹ نوشی کرنے لگ گیا ہے اور انہیں پتا بھی نہیں ہے تو یہ تو بہت بڑی نا انصافی ہوئی نا ماموں اور مامی کے ساتھ ۔” اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو مزید بڑا کرتے ہوئے کہا تھا ۔” مجھ سے میرے معاملات سے دور رہو حناء ورنہ ۔” غصے سے کہتا ہوا وہ اس کی پلکیں جھپکائے پر خاموش ہوا تھا ۔” ورنہ کیا ؟ آپ بھول رہے ہیں اذلان بھائی میں کسی سے نہیں ڈرتی ۔” دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے وہ مضبوط لہجے میں بولی تھی ۔” ڈریں گے تو اب تمہارے اچھے بھی ۔” وہ ایک بار پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر پول کے پاس لے کر گیا تھا ۔” اب بولو ۔” ” مذاق کررہی تھی میں تو آپ سے ، قسم سے بہت ڈرتی ہوں میں آپ سے ، آپ کے معاملات سے سو فٹ کی دوری پر ہی رہوں گی ،بلکہ جہاں سے آپ گزریں گے وہاں سے بھی نہیں گزروں گی ۔ پلیز مجھے اس تالاب میں مت ڈالیں میں اس میں ڈوب کر مر جاؤں گی اور مجھے ابھی نہیں مرنا ۔” جھیل سی آنکھوں میں نمی اترتے دیکھ اذلان شاہ نے اسے پیچھے کو کیا تھا جبکہ نظریں اس کے چہرے پر ٹھہر سی گئیں تھیں جس پر سکون کا سانس خارج کرتی ہوئی حناء نے اسے گھور کر دیکھا تھا ۔” ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟” وہ پل میں سنجیدہ ہوا تھا ۔” کچھ نہیں ۔” غصے سے پیر پٹختی ہوئی وہ وہاں سے گئی تھی جس پر اذلان شاہ کی مسکراتی نگاہوں نے دور تک اس کا تعاقب کیا تھا ۔” پاگل لڑکی ۔” اپنے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوا وہ اپنے کمرے کی سمت بڑھا تھا تاکہ دوبارہ سے چینج کرکے آفس جاسکے ۔°°°°°°°°°°°°”
Dil Weraan Episode 2| Romantic Novel | |Classic Urdu Novels|

