Uncategorized

Dilbar Miyane by Sara Urooj Episode 10

دوسری جانب کائد غزنوی اپنی کرسی پر بیٹھے کتاب تو تھامے ہوئے تھے، مگر نظر ایک بھی لفظ پر نہ تھی۔ ان کے ہاتھ میں بظاہر کتاب تو کھلی تھی مگر، اصل توجہ کا مرکز آج رات کے فنکشن کے گرد گھوم رہا تھا ، بار بار ان کے ذہن میں وہ منظر گردش کر رہے تھے۔
جب اچانک۔۔۔ ان کا سامنا امانی ملک سے ہوا تھا۔ وہ پل، وہ لمحہ کائد غزنوی کا سانس جیسے ایک لمحے کو رک گیا تھا۔ ان کی نظریں اس لڑکی کی آنکھوں میں گم ہو گئی تھیں۔ ان آنکھوں میں ایک سحر سا تھا جو سیدھا ان کے دل سمیت ان کو اپنا گرویدہ کر گیا۔
کمرے میں چلتے پنکھے کی ہوا کی باعث کتاب کا صفحہ پلٹا اور اس قرطاس کی چڑچڑاہٹ نے ان کو خیالوں کی دنیا سے حقیقت میں لا پٹخا اور پھر ، ان کی نظریں لاشعوری طور پر اپنے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کی جانب اٹھیں ، جہاں اب بھی ہلکا سا نشان باقی تھا۔
ایک شریر مسکان ان کے لبوں پر آ ٹھہری۔۔۔
💞✨
رات کی خاموشی چاروں طرف پھیل چکی تھی۔ ملک مینشن کی دیواروں پر جلتے مدھم بلبوں کی روشنی نے ماحول کو اور زیادہ سنجیدہ کر دیا تھا۔
کمرے میں بیٹھی امانی ملک اپنے وجود سے بےخبر، کھڑکی کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھیں کھڑکی سے باہر خلا میں گڑی تھیں اور دل بار بار ایک ہی منظر کو دہرا رہا تھا۔
کائد غزنوی کی نظریں،
وہ نظروں کا ٹکراؤ،
لمحہ بھر کے لیے سارا وجود ساکت ہو گیا تھا۔
آج پہلی بار ڈاکٹر صاحبہ کا دل الگ لہہ میں دھڑک رہا تھا ،اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ لمحہ اتنا بھاری ہو گا۔ دل جیسے اندر سے لرز اٹھا
کائد غزنوی کی آنکھوں میں کوئی خاموش سی کسک، کوئی ان کہی بات جھلکتی محسوس ہوئی تھی۔ ایسا لگا جیسے وہ بھی اندر ہی بہت کچھ چھپائے بیٹھے ہوں ، کچھ الگ سی چمک تھی۔
اس نے بےاختیار اپنی انگلیوں کو مٹھی میں بند کر لیا۔ اس کے دل کی دھڑکن اب بھی معمول سے تیز تھی۔ جب بھی وہ گہری سوچ میں ہوتی یہی عمل دوہرا کر خود کو پر سکون کیا کرتی تھی۔
وہ لمحہ،
وہ نظر،
ایک پل میں سب کچھ بدل کر چلی گئی تھی۔
اچانک دروازہ کھلا۔
نورا اندر آئی۔
نورا کی موجودگی ہمیشہ امانی کے لیے سکون کا ذریعہ تھی، مگر آج امانی اسے دیکھ کر بھی مسکرا نہ سکی۔
“پھوپھو،  آپ ٹھیک ہیں؟”
نورا نے دھیرے سے پوچھا۔
امانی نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔
بس ایک نظر اسے دیکھا، اور پلکیں جھکا لیں۔
نورا آگے آئی، اور اپنی پھوپھو کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
“پھوپھو، آپ کی آنکھیں اتنی خاموش کیوں  ہیں؟ ہم جب سے پارٹی سے آئے ہیں آپ بہت چپ چپ سی لگ رہی ہیں”۔
اس نے معصومیت سے پوچھا۔
امانی کے گلے میں جیسے آنسوؤں کا گولا اٹک گیا تھا۔ اس نے بمشکل اپنے جذبات پر قابو پایا۔
“کبھی کبھی کچھ باتیں بےآواز ہو کر بھی دل میں شور مچا دیتی ہیں، نورا۔”
نورا خاموش ہو گئی۔
وہ امانی کی آنکھوں میں چھپی اداسی کو سمجھ تو نہیں پائی، لیکن وہ اتنا ضرور جان گئی تھی کہ کچھ ایسا ہے جو پھوپھو کو اندر سے بے چین کر رہا ہے۔
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔
نورا خاموشی سے اس کے پاس بیٹھی رہی، اور امانی کھڑکی سے باہر دور اندھیرے آسمان کو دیکھتی رہی۔
✨❤️

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on