Uncategorized

Dilbar Miyane by Sara Urooj Episode 9

نورا نے ایک نظر امانی ملک کی طرف دیکھا، جو قائد غزنوی کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھی۔ نرم لہجے میں دو منٹ انتظار کا کہہ کر وہ ہلکی چال چلتی، پیچھے شیشے کی جانب بڑھی۔
ہلکا سا جھنجھلاہٹ بھرا سانس لیا اور خود سے بڑبڑائی، “پھوپھو سے کہا بھی تھا کہ یہ اورگینزہ کا دوپٹہ سنبھالا نہیں جاتا، مگر…” وہ جملہ مکمل نہ کر سکی۔ ہاتھوں میں موجود دوپٹہ بے قابو سا ہل رہا تھا، پن کسی نہ کسی طرح کھل گئی تھی، اور اب یہ ریشمی کپڑا نرمی سے اس کے کندھوں سے سرک رہا تھا۔
نورا نے جلدی سے شیشے میں اپنا عکس دیکھا۔ ماتھے پر کچھ نرمی سے بکھرے بال، دوپٹہ جو کندھے سے ڈھلک کر بازو پر آ گیا تھا، اس نے گہری سانس لی۔
“یہ دوپٹہ نہ ہوا، کوئی ضدی بچہ ہو گیا، ہر وقت سلپ ہوتا رہتا ہے۔” خود سے کہتے ہوئے اس نے دوپٹہ دوبارہ کندھے پر ڈالا اور ایک ہاتھ سے پن تلاش کرنے لگی۔
ہوا کی ہلکی سی لہر نے دوپٹہ کو مزید چھیڑا، جیسے کسی شرارتی بچے نے آ کر سرسراتی ہنسی کے ساتھ اسے مزید الجھا دیا ہو۔ نورہ نے آنکھیں بند کر کے صبر کا سانس لیا اور جلدی سے پن لگا کر دوپٹہ سیٹ کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
لیکن۔۔۔۔
عین اسی لمحے اسٹینڈ فین کا رخ اچانک اس کی طرف مڑ گیا۔ ایک پل میں ہی ہلکی، ریشمی ڈوپٹہ ہوا میں بلند ہوا۔ نورا کی انگلیاں دوپٹے کو قابو میں کرنے کے لیے حرکت میں آئیں، مگر تیز ہوا نے اس کے ہاتھوں سے پہلے ہی بازی مار لی۔ دوپٹہ نرمی سے اُڑتا ہوا سیدھا پیچھے کھڑے الیکزینڈر کے چہرے پر جا گرا۔
نورا کا سانس رک گیا۔
الیکزینڈر جو موبائل کان سے لگائے کسی سنجیدہ موضوع پر گفتگو کر رہا تھا، لمحہ بھر کے لیے جیسے کہیں اور پہنچ گیا۔ سانسیں قید ہو گئیں، دھڑکنیں شور سے ساکت ہو گئیں۔ پلکیں جھپکنا بھولیں اور وہ کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔
“بعض اوقات ایک پل، ایک لمحہ، ایک چھوٹی سی غلطی، انسان کو کسی ایسے راستے پر ڈال دیتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ اور شائد نورا اور الیگزینڈر کے درمیان یہ لمحہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔”
نورا نے ڈوپٹہ سنبھالا، دل کی دھڑکن کو قابو میں رکھنے کی ناکام کوشش کی اور تیزی سے رخ موڑ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ اس کے قدموں میں بےاختیار عجلت تھی، جیسے وہ کسی انجانے احساس سے بھاگنا چاہ رہی ہو۔
الیکزینڈر وہیں کھڑا رہا۔ کچھ لمحے پہلے کی الجھن اور حیرانی، اب ایک غیر محسوس مسکراہٹ میں بدلنے لگی تھی۔ اس نے بےاختیار ہاتھ سے چہرہ چھوا، جیسے وہاں ابھی بھی نورا کے ڈوپٹے کی لطافت باقی ہو۔
“اوہ…!” وہ سر جھٹک کر رہ گیا، مگر اس کے ہونٹوں پر اب بھی ایک عجیب سی کیفیت رقصاں تھی۔
🌺💖

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on