“تم میرے شوہر نہیں ہو میں نہیں مانتی اس شادی کو۔” نفرت سے اس نے اسکا ہاتھ جھٹکا تھا۔ وہ قیامت روپ لئے ماہر کا ضبط آزما رہی تھی۔”میرے نکاح میں آکر بھی مجھ سے نفرت کی دعویدار ہو۔”اسکی گردن پر جھکتا وہ مدہوش ہوا جس پر غصے سے اسے پیچھے دھکیل گئی “چھوڑو مجھے نفرت کرتی ہوں میں تم سے” وہ غصے سے پاگل ہوئی تھی “نفرت کا اظہار بعد میں کرنا فلحال مجھے میرا حق دو ۔۔۔”وہ جو کبھی اسکے آگے نہیں بولا تھا اچانک ہی روپ بدل گیا تھا ۔”میں یہ رشتہ ختم کرنا چاہتی ہوں تم جیسے دو ٹکے کے انسان کے ساتھ نہیں رہنا مجھے” اسکی بات پر وہ اسے گھما کر اسکی پشت اپنے سینے لگاتا اسے مکمل اپنے مظبوط حصار میں لے چکا تھا۔”تم نے میری اب تک نرمی دیکھی ہے اب غصہ دلایا ہے تو سزا بھگتو ۔۔”اسے غصے میں بیڈ پر گراتا وہ۔۔۔۔ناول ۔۔وہ دونوں ٹکر کے دشمن تھے۔ ان کی آپس میں کبھی بھی نہیں بنی تھی۔ سب سے پہلے گھروں میں اور پھر سکول میں اور اس کے بعد یہ لڑائی یونیورسٹی اور کام تک جاری رہی تھی ۔ان کے خاندانوں میں باقاعدہ دشمنیاں پائی جاتی تھی اور یہ دشمنیاں پیڑھی در پیڑھی آگے چلی جا رہی تھی۔ اب دشمنی ان دونوں کے درمیان آ چکی تھی اور وہ دونوں اپنی پچھلی ساری نسلوں کا حساب چکتا کرنے پر راضی تھے۔ماہر شیرازی اور ریشم آفریدی ۔۔۔شیرازی خاندان اور آفریدی خاندان دونوں میں دشمنیاں تو ایک وقت سے مشہور تھی۔ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے اور ایک ہی کام کرتے ہوئے ان دونوں کے درمیان دشمنی نہ ہونا تو ایک اچمبے کی بات ہوتی جو کہ ایک ناممکن بات تھی۔بچپن سے ہی ان دونوں کے ایک دوسرے کے خلاف کان بھرے گئے تھے۔ ایک کو دوسرے کی مثالیں دی جاتی تو دوسرے کو پہلے کی اور اس طرح یہ دشمنی ان تک بھی جاری رہی تھی۔ سکول میں ان دونوں کا اسی بات پر جھگڑا ہوتا۔ پہلے نمبر پر آنا ان دونوں کو ہی پسند تھا۔ مگر ظاہر سی بات ہے جیت تو کوئی ایک ہی سکتا تھا۔ اور پھر یہ کہانی وہیں تک رکی نہیں تھی۔ آگے چلتی گئی تھی۔ کالج میں یونیورسٹی میں اور اس کے بعد اب جب وہ اپنے کام کی شروعات کرنے لگے تھے۔ تو تب بھی وہ دونوں آمنے سامنے تھے۔سنہری آنکھیں لیے ان کے ساتھ گہرے بھورے رنگ کے بال۔۔۔۔ سرخ و سفید رنگت ۔۔۔ چھ فٹ تک پہنچتا ہوا قد۔۔۔ وہ بلا شبہ وجہی نوجوان تھا۔سبز بڑی بڑی آنکھیں گہرے سیاہ بال۔۔۔ تھوڑی پر چمکتا ہوا تل اور سرخ و سفید رنگت لیے ۔۔۔ اس کے ٹکر کا قد وہ بھی لے کر آئی تھی۔۔۔ ہر چیز میں مقابلے بازی ان دونوں کے خون میں تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے کو آخری سانس تک ہرانا چاہتے تھے۔ایک سیر تھا تو دوسرا سوا سیر تھا۔اگر ایک نے پتھر مارا تھا۔۔۔ تو دوسرے نے آگ کے شعلے اگلے تھے۔ وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے کم نہیں تھے اور دونوں ہی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

