سِنان لان میں داخل ہوا اور اپنی نشست کی سمت بڑھنے لگا کہ احمد صاحب نے اس کا راستہ روکا۔
“بیٹے آئیں چلیں،اندر چلتے ہیں۔”وہ ان کی جانب متوجہ ہوا۔وہ اسے دیکھ مسکراتے ہوئے،منتظر کھڑے تھے۔ہاتھ سِنان کی پشت پر رکھا ہوا تھا۔
“جی بالکل۔”سِنان نے اپنے سسر کو مسکرا کر دیکھا اور ان کے ہمراہ گھر کی اندرونی سمت چل دیا۔
یہ پہلا موقع تھا جب سِنان نے اس گھر کی دہلیز پار کی تھی اور آج پہلی ہی مرتبہ وہ سبین کے گھر کی خواتین سے ملنے والا تھا۔
“اب تم مکمل طور پر اس گھر کے بیٹے بن گئے ہو۔”احمد صاحب نے پیار سے اسے دیکھا اور مطمئن انداز میں اس کو ساتھ لیے گھر کا اندرونی دروازہ عبور کیا۔ایک طرح سے باقاعدہ اسے گھر کے افراد میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔
***

