Uncategorized

Haroot O Maroot Ek Sachi Kahani by Seema Shahid Chapter 2

ہاروت و ماروت – ایک سچی کہانی

باب دوم

تحریر: سیما شاہد

بابل کا سحر انگیز شہر !!
یہ شہر، جو تاریخ کے ہر دور میں جادو، علومِ غیب اور رازوں کا مرکز رہا تھا، اب ایک نئی آزمائش کی جانب بڑھ رہا تھا۔ دریائے فرات کے کنارے جہاں چاندنی راتوں میں ستونوں پر چمکتے ہوئے سنہری محلات اور معابد کی سایہ داری میں لوگ اپنی تقدیر کے فیصلے تلاش کرتے تھے، وہیں آج کچھ اور ہی ہو رہا تھا۔ بابل کے لوگ نئے معجزوں کی تلاش میں تھے، اور یہ معجزے ان دو اجنبیوں میں چھپے تھے ۔ ہاروت اور ماروت!
یہ دونوں مرد جو دیکھنے میں کوئی عام قاضی یا درباری لگتے تھے، ان کے جسم میں ایسی کشش تھی جو بابل کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی۔ لوگ ان کے فیصلوں میں ایسی حکمت تلاش کر رہے تھے کہ وہ صرف قاضی نہیں، بلکہ “داناترین” لوگ بن چکے تھے۔ ان کی ایک نگاہ سے تقدیر بدل جاتی، اور ان کے ایک لفظ میں انسان کی زندگی کا رخ بدل جاتا تھا۔
بابل کے بازاروں میں ان کے نام کی گونج تھی۔ لوگ ان کے بارے میں سرگوشیاں کرتے، اور ان کے دروازے پر ہمیشہ رش رہتا۔ کوئی انصاف کے لیے آتا، تو کوئی اپنی تقدیر کے فیصلے جاننے۔ یہ عجیب بات تھی کہ ان دونوں کے پاس کوئی سادہ انسان کا علم نہیں تھا، ان کے پاس ایسا علم تھا جسے بابل کے عام لوگ “جادو” سمجھتے تھے۔
“تم جانتے ہو، جو فیصلہ کرتے ہیں، وہ ہمیشہ درست ہوتا ہے!”
“یہ دونوں وہ باتیں جانتے ہیں جو کسی اور سے نہیں سنی گئیں!”
یہ سرگوشیاں بابل کے ہر گلی، ہر چوراہے پر پھیل گئیں۔ ان دونوں کی شخصیت میں ایسا سکون اور طاقت تھی کہ لوگ ان سے جڑنے کے لیے تڑپتے، ان کے قدموں میں اپنی تقدیر کی بھیک مانگتے۔
لیکن ہاروت اور ماروت، جو ان سرگوشیوں کو سنتے، وہ جانتے تھے کہ یہ مقام صرف آزمائش کے لیے ملا ہے۔ وہ اپنی نیتوں کو پاک رکھنے کی کوشش کرتے، اپنے اصولوں کو دہراتے، مگر بابل میں جتنے راز چھپے تھے، ان میں سے ہر ایک ان کے ایمان کو چیلنج کر رہا تھا۔
————*
زہرہ اپنے دور کی خوبصورت ترین عورت جسے حسن کی دیوی کہا جاتا تھا پر وہ انسانوں کی دنیا سے سخت بیزار ہو چکی تھی اور دیوتاؤں کی دنیا میں شامل ہونے کی خواہش رکھنے لگی تھی ۔
وہ چاہتی تھی کہ جہاں ایک طرف انسان اپنی تقدیر کے جھگڑوں میں الجھے ہوئے ہیں، وہاں دیوتاؤں کی دنیا میں جا کر وہ خود کو اس مقام پر دیکھے جہاں کوئی انسان نہ پہنچ سکا ہو۔
اپنی اسی خواہش کو پورا کرنے کی لالچ میں اس نے بابل کے سب سے بااثر آدمی سے شادی کی تھی جس نے وعدہ کیا تھا کہ اگر زہرہ اس کی ہو جائے تو وہ اسے دیوتاؤں کی دنیا تک پہنچانے میں مدد کرے گا پر افسوس ایسا نہ ہوسکا ۔
زہرہ یہ راز حاصل کرچکی تھی کہ آسمانوں میں جانے کے لئیے اسے خداوند کا اسم اعظم حاصل کرنا ہوگا۔۔۔
” مجھے خداوند راع کا اسمِ اعظم معلوم ہو جائے تو میں بھی اس کی مانند زمین اور آسمان پر حکمرانی کرنے لگوں گی۔” وہ اٹھتے جاگتے یہی خواب دیکھنے لگی تھی ۔
خداوند راع کے بے شمار نام تھے، اور بابل کے لوگ ان میں سے بہت سے ناموں سے واقف تھے۔ وہ ان ناموں کا استعمال کرتے، عبادت میں ان کا ذکر کرتے، لیکن ان کے ایک نام کا راز،
” اسمِ اعظم” ، سوائے راع کے کسی بھی دیوتا یا انسان کے علم میں نہ تھا۔ اس اسم کو کوئی نہیں جانتا تھا، کیونکہ وہ طاقت جو اس اسم میں پوشیدہ تھی، صرف اس کے حقدار کو ہی عطا کی جا سکتی تھی۔
یہ وہ حقیقت تھی جسے زہرہ جانتی تھی، اور اسی جستجو میں وہ بابل آئی تھی، تاکہ وہ اس پوشیدہ طاقت کو حاصل کرے جو اس کی تقدیر کا رخ بدل دے۔
اس نے لوگوں سے ہاروت ماروت کے قصے سنے کہ دو بے پناہ خوبصورت جوان ہیں انہیں جادو آتا ہے اور رات گئے وہ شاید آسمانوں پر چلے جاتے ہیں ۔
(یاد رہے ہاروت ماروت کو اسم اعظم دے پر زمین پر بھیجا گیا تھا وہ دن ادھر گزارتے تھے اور رات آسمان پر چلے جاتے تھے )
زہرہ کو شک ہوگیا تھا کہ یہ عام انسان نہیں ہیں اور یوں وہ انصاف لینے کے بہانے ان کے پاس پہنچ گئی ۔
اسے یقین تھا کہ اگر وہ اس علم تک پہنچ گئی تو اس کی تقدیر بھی بدل سکتی ہے اور وہ ، وہ طاقت حاصل کر سکتی ہے جو اس کی اولین خواہش تھی ۔۔۔۔
اور پھر وہ آئی۔۔۔
ایک رات، جب دریائے فرات کے کنارے چراغوں کی روشنی میں جھلملاتے ہوئے پانی میں چھنک رہی تھی، وہ ایک نیا چہرہ لے کر ان کے دروازے پر آئی۔
زہرہ نامی عورت (جسے عبرانی اور انگریزی کتابوں میں وینس بھی کہا گیا ہے )، اس کی خوبصورتی دیو مالائی تھی ایسا لگتا تھا وہ کسی اور ہی دنیا سے آئی ہوئی ہ تھی۔ اس کے چہرے پر ایک غیر معمولی نور تھا، اور اس کی آنکھوں میں ایک ایسی گہرائی تھی جیسے کسی صدیوں پرانے راز ان میں دفن ہوں ، سانچے میں ڈھلا خوبصورت بدن اور اس کے بال کمر تک دراز تھے، جب وہ چلتی، تو ایسا لگتا کہ کائنات بھی اس کے قدموں کے ساتھ جھوم رہی ہو ۔۔۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی کہ وہ بابل میں آئی تھی، کیونکہ بابل کے بازاروں میں حسین عورتوں کی کمی نہ تھی۔ مگر زہرہ کی سادگی اور اس کا جاذبِ نظر حسن کچھ ایسا تھا جس نے پورے شہر کی فضا میں ایک ہلچل مچا دی۔ وہ کوئی عام عورت نہیں تھی، بلکہ وہ ایک سحر تھی، جو بابل کی تقدیر کے حوالے سے ایک نئی آزمائش بن کر آئی تھی۔
“کون ہو تم؟”۔۔۔ ہاروت نے سنجیدگی سے سوال کیا
زہرہ نے ہلکی مسکراہٹ سے سر جھکایا، پھر کہا
“میں زہرہ ہوں، ایک عورت جو انصاف کی تلاش میں آئی ہے۔۔۔۔”
ماروت نے اس کی آنکھوں میں ایک لمحہ بھر کے لیے غمگینی اور سنجیدگی کی جھلک دیکھی، اور پھر اپنی جگہ سے تھوڑا آگے بڑھا۔
” تمہیں ہم سے کیا کام ہے؟”
زہرہ کی آنکھوں میں انہیں دیکھ کر ایک خاص چمک ابھر اٹھی تھی اور اس کا شک حقیقت میں بدلنے لگا تھا کہ یہ دونوں انسان نہیں تھے ۔
“میرے شوہر نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ تم مجھے کوئی ایسا جادو ، ایسا اسم بتاؤ کہ وہ مجھ پر دوبارہ مر مٹے، وہ مجھ سے پھر محبت کرے ۔۔۔۔۔”
ہاروت اور ماروت دونوں ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئے۔ یہ سادہ سا مسئلہ نہیں تھا، یہ کوئی معمولی آزمائش نہیں تھی۔
“یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟” ہاروت نے اسے ٹوکا ۔
“ہم انصاف کے لیے بیٹھے ہیں، جادو کے لیے نہیں۔” ماروت نے واضح کیا ۔
“لیکن تم دونوں جانتے ہو کہ تم جادو بھی جانتے ہو۔ تمہاری طاقت سب سے الگ ایسی طاقت جس کا مقابلہ یہاں کوئی نہیں کرسکتا کہ تمہارے پاس خداوند عالم کا اسم اعظم موجود ہے۔” وہ مسکرائی اس کی مسکراہٹ میں کچھ ایسا اثر تھا کہ ہاروت ماروت دونوں کا دل ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گیا۔
“یہ عورت کون ہے؟ اور اسے اسمِ اعظم کے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟”۔۔۔ہاروت نے خود کو سنبھالا، مگر اس کا دماغ کچھ نہ کچھ تذبذب کا شکار ہو گیا تھا۔
“تمہیں کس نے بتایا؟۔۔۔”
“بابل میں کوئی راز چھپ نہیں سکتا میرے عزیزو!”زہرہ نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے کہا،
” اسمِ اعظم!” وہ کلمات جو کسی بھی انسان کے ہاتھ میں نہیں آنا چاہیے تھے۔ وہ الفاظ جو دنیا کی تقدیر کو بدلنے کی طاقت رکھتے تھے۔ ان الفاظ کو بابل کی سرزمین پر چھپایا گیا تھا، مگر زہرہ جانتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ہاروت اور ماروت کے پاس وہ علم تھا جو صرف منتخب لوگوں تک پہنچتا تھا۔
ہاروت اور ماروت کے دلوں میں ایک لمحے کے لیے ہلچل مچی۔ زہرہ کی مسکراہٹ، اس کی موجودگی، اور اس کے الفاظ نے ان کے ایمان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ کیا وہ ان کی کمزوری بننے آئی تھی؟ یا یہ ایک آزمائش تھی، جس کے ذریعے بابل کی تقدیر بدلنی تھی؟

اسم_اعظم کیا ہے ؟؟

اسم اعظم کے سلسلہ میں مختلف روایات بیان کی گئی ہیں جن سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو شخص بھی اسم اعظم سے باخبر ہوجائے تو نہ صرف یہ کہ اس کی دعا قبول ہوجاتی ہے بلکہ وہ شخص اس اسم اعظم کے ذریعہ اس دنیا کی بہت سی چیزوں میں دخل و تصرف کرسکتا ہے اور بہت سے عجیب و غریب کام انجام دے سکتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا ۔
خواجہ شمس الدین عظیمی فرماتے ہیں کہ
اﷲتعالیٰ کا اسم ہی پوری کائنات کو کنٹرول کرتا ہے۔لفظ یا اسم کی بہت سی قسمیں ہیں۔ہر قسم کے اسم کا ایک سردار ہوتا ہے۔وہی سردار اسم اپنے قسم کے تمام اسماء کو کنٹرول کرتا ہے ۔یہ # سردار_اسم بھی اﷲتعالیٰ کاا سم ہے اور اس ہی سردار اسم کو ” اسمِ اعظم ” کہتے ہیں۔
اسماء , نور اور روشنی ہیں۔ ایک طرز کی جتنی روشنیاں ہیں ان کو کنٹرول کرنے والا اسم بھی انہی روشنیوں کا مرکب ہے اور یہ اسماء کائنات میں موجود اشیاء کی تخلیق کے اجزاء ہیں۔مثلاََ
نوع ِ انسانی کے اندر کام کرنے والے تقاضوں اور حواس کو جو اسم کنٹرول کرتا ہے یہی اسم نوع انسانی کے لئے اسمِ اعظم ہے۔
جنات کی نوع کے لئے الگ اسم ِ اعظم ہے ۔نباتات کیلئے الگ،جمادات کیلئے الگ اور نوعِ ملائکہ کے لئے الگ اسمِ اعظم ہے۔
جاری ہے

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on