آج اسے گھر سے گئے دو ہفتہ ہو چکا تھا لیکن اس سے ایک بار بھی بات نہیں کی بلکہ اماں کے فون پر یا بھابی پر اس کی دن بھر میں ایک دفعہ کال ضرور آتی تھی لیکن نہ ہی نمرہ کی ہمت ہوئی کہ کہہ کر بات کر لے اور نہ ہی اس نے کوشش کی۔۔
وہ ناراض تھا اور اس کو ناراض ہونے کا پورا حق تھا لیکن وہ اپنے دل کا کیا کرتی جو اب اس دشمن جاں کے لئے رو رہا تھا، تڑپ رہا تھا۔ پہلے ہی دن جب آرزو بھابی نے اسے سب کچھ کلیر کیا تو وہ بہت روئی تھی اور اسے سب کچھ بتا کر معافی مانگنی چاہی لیکن وہ موقع ہی تو نہیں دے رہا تھا۔۔
گھر میں آرزو بھابی کے سوا کسی کو بھی کچھ معلوم نہیں تھا اس لیے جب اماں غازیان سے بات کرنے کا اس سے پوچھتی تو وہ آرزو بھابی کے موبائل سے بات کرنے کا بہانہ کر دیتی لیکن پھر کمرے میں آکر بلک بلک کر روتی تھی۔ اس کی ناراضگی بڑی جان لیوا تھی۔۔
آج بھی وہ بیڈ پر لیٹی اس کے تکیے پر سر رکھے اس کی خوشبو محسوس کرتے ہوئے رو رہی تھی۔۔
“غلطی ہوئی ہے لیکن ایسی سزا کون دیتا ہے۔۔؟ پلیز ایک بار آجائیں غازیان۔۔!!” اسے یاد کر رہی تھی، اس کے لئے تڑپ رہی تھی لیکن کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ سامنے والا بےنیاز ہو چکا تھا یا شاید حد سے زیادہ ناراض۔۔
آج بھی نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ ذہن اسی دشمن جاں میں اٹکا ہوا تھا۔ وہ روتی ہوئی اٹھ بیٹھی اور الماری سے اس کی ٹی شرٹ نکال کر اپنے ناک کے قریب کرتی اس کی خوشبو سونگھنے لگی۔ اس کی خوشبو سے لگا کہ وہ آس پاس ہی ہے۔ ٹی شرٹ سینے سے لگائے ہوئے ہی وہ دھیرے دھیرے چلتی بیڈ پر دراز ہوئی۔۔
نومبر کے اوائل دن تھے، ٹھنڈ اپنے عروج پر تھی۔ چارو طرف کہرے نے پہاڑوں تک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ جیسے جیسے رات گزر رہی تھی فضاء میں خنکی کچھ اور بڑھ رہی تھی۔ خوفناک اندھیرے کو چیرتی ہوئی چاند کی پرنم روشنی سفید برف پوش پہاڑوں کو چھو کر آتی بےحد خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
وہ بخار سے تپتی ہوئی غنودگی میں تھی۔ اس دشمن کی یاد دل میں بسائے وہ اس حال کو پہنچ گئی تھی۔ جب صبح وہ نیچے نہیں اتری تو آرزو بھابی خود ہی اس کے کمرے میں داخل ہو گئیں۔۔
وہ بیڈ پر وست میں بےسدھ لیٹی ہوئی تھی۔ چہرہ سرخ لگ رہا تھا اور چہرے پر آنسوؤں کے مٹے مٹے نشان دیکھ کر وہ تڑپ ہی تو اٹھی تھیں۔ قریب جا کر اسے چھو کر دیکھا تو وہ سچ میں بخار میں مبتلا ملی۔ انہیں غازیان پر بہت غصہ آیا جو اس سے لاتعلقی اختیار کر گیا تھا۔۔
انہوں نے جیکٹ کی جیب سے موبائل نکال کر صبح ہی صبح غازیان کو فون کھڑکا دیا، تیسری ہی بیل پر اس کے نیند میں ڈوبی آواز سنائی دی، وہ تو پہلے ہی بھری بیٹھی ہوئی تھیں اس لئے نان اسٹاپ شروع ہو گئیں۔۔
“اگر تمہارے اندر اسے معاف کرنے کی سکت نہیں ہے تو اسے سزا دے دو لیکن اس طرح اسے بےرخی اور بےنیازی کی مار مت مارو غازیان۔۔!!” وہ پہلے ہی صبح ہی صبح آرزو بھابی کی کال دیکھ کر ہڑبڑا اٹھا تھا اوپر سے ان کے توپوں کے گولے اس کے سر سے گزر رہے تھے۔۔
“بھابی کیا ہوا ہے۔۔؟ گھر میں سب ٹھیک تو ہے ناں۔۔؟” وہ فوراً چوکنا ہوا۔ دل اپنی متاعِ جاں کا سوچ کر ہی بےسکون ہوا تھا۔۔
“گھر میں سب ٹھیک ہے لیکن تمہاری بیوی ٹھیک نہیں ہے۔ اسے بہت زیادہ بخار ہے اور مجھے اچھے سے معلوم ہے کہ ایسی حالت اس کی کیوں ہیں۔ کیا اس زویا کی لگائی آگ اتنی اہم ہے کہ اس میں تم دونوں ہی اپنے اتنے پیارے رشتے کو جلا دو۔۔؟” ان کے سوال پر وہ بلبلاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“بھابی ایسا کچھ نہیں ہے آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔۔!!” وہ لب بھینچ کر بمشکل ہی ضبط کر رہا تھا ورنہ دل تو اس کو بیمار سن کر ہی تڑپ رہا تھا۔۔
“تم خاموش رہو، میں اسے جگاتی ہوں سنو کہ اس کے دل و دماغ میں کیا ہے تب تمہیں معلوم ہوگا۔۔!!” انہوں نے ڈانٹ کر کال آن ہی موبائل جیب میں رکھا اور بیڈ کی طرف بڑھیں جہاں وہ دنیا جہاں سے بےخبر پڑی تھی۔۔
“نمرہ۔۔ نمرہ اٹھو، یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے اور تمہیں تو بہت تیز بخار بھی ہے۔۔!!” اسے زبردستی اٹھا کر بیٹھاتے ہوئے اس کے پیچھے تکیہ سیٹ کیا۔ وہ کھلتی بند ہوتی آنکھوں سے بمشکل انہیں دیکھ رہی تھی کیونکہ بخار سے پورا وجود ٹوٹ رہا تھا۔۔
“بھابی مجھے کاڑھا بنا کر دے دیجیے لیکن دوا نہیں کھاؤں گی۔۔!!” وہ نقاہت سے کہتی آنکھیں موندنے لگی۔۔
“سنو تمہاری بات غازیان سے ہوئی ہے۔۔؟ اور اس کی ٹی شرٹ یہاں بیڈ پر کیا کر رہی ہے۔۔؟” آرزو بھابی نے جان بوجھ کر اسے کریدا حالانکہ سب معلوم تھا۔۔
“وہ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے بھابی کیونکہ نمرہ ہے ہی بری، محبت کے قابل تو ہرگز نہیں ہے۔۔!!” اس کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی صورت گالوں پر بکھرنے لگے اور آواز بھاری ہو گئی۔ کچھ بخار اور کچھ رونے کے باعث اس کا گلا بھی بیٹھ گیا تھا۔۔
“بھابی اگر انہوں نے مجھے خود سے دور کر دیا تو میں کیا کروں گی اس بھری دنیا میں تنہا کیسے جیوں گی۔۔؟ میرے محافظ اور مسیحا تھے اور اللہ کا کرم ہوا وہ میرے محرم بنے لیکن میں نے اس کی بھی لاج نہیں رکھی اور بھر بھر کر سنا دیا، ناراض کر دیا بھابی میں نے، ساری میری غلطی ہے۔۔!!” وہ بےقراری سے روتی ہوئی اپنے دل کی بات عیاں کر گئی جبکہ وہ جو فون کان سے لگائے اس کے لفظ لفظ پر تڑپ رہا تھا۔ وہ ٹھیک نہیں تھی تو غازیان کیسے ٹھیک رہ سکتا تھا۔ بےسکونی اس کی رگ رگ میں سرایت کر گئی۔۔
“آپ کی بات مانتے ہیں ناں بھابی تو آپ ہی ان سے کہہ دیں کہ واپس آجائیں، میں معافی مانگ لوں گی اور سجا بھی کاٹ لوں گی لیکن اس سے زیادہ بےرخی برداشت نہیں کر سکتی۔ اپنا بنا کر یوں بیگانہ ہو جانا کیا اچھی بات ہے۔۔!!” اس کی آواز رونے کے باعث مدھم ہوئی تھی لیکن پھر بھی اس کی سماعت تک پہنچ گئی۔ وہ جو ضبط کیے ہوئے تھا ٹوٹ گیا۔ اپنے کمرے سے دو چار ضروری چیزیں سمیٹ کر بیگ میں رکھا اور فون کان سے لگائے ہی بھاگتے ہوئے گاڑی تک پہنچا۔۔
“بس چپ ہو جاؤ میری جان، کس رشتے میں لڑائی جھگڑے نہیں ہوتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ وہ رشتے آپ سے دور ہو رہے ہیں۔ تم یقین رکھو کہ تمہارا شوہر تمہیں کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔۔!!” انہوں نے اسے خود سے لگا کر تسلی دی۔ غازیان بس اتنا ہی سن سکا اس سے زیادہ سننے کی سکت اس میں نہیں تھی۔ فون کاٹ کر دراب کو اپنے گھر جانے کے بارے میں بتایا اور ہوٹل کی ٹیم کو ایک وائس نوٹ چھوڑا جس میں ہدایات تھیں۔ اب وہ بس گھر پہنچ جانا چاہتا تھا اس لیے گاڑی میں بیٹھ کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا جہاں اس کے دل کی ملکہ تھی جسے اس کی ضرورت تھی۔۔
بڑی مشکل سے بھابی نے اسے تھام کر منہ دھلوا کر اسے دوبارہ بیڈ پر بیٹھا دیا۔ گھر کا ہر فرد اس وقت میں موجود تھا۔ اماں اس کے قریب بیٹھ کر دعائیں پھونک رہی تھیں جبکہ سونی اس کو کھانے کے لئے کچھ لے آئی تھی۔۔
وہ بڑی مشکل سے تھوڑا سا کھا کر لیٹ گئی تھی کیونکہ اس سے بیٹھا نہیں جا رہا تھا۔ آرزو بھابی اس کے لئے کاڑھا بنا کر لے آئیں تھیں جسے پینے سے پہلے ہی وہ غنودگی میں پہنچ گئی تھی۔ اماں اس کے قریب بیٹھ کر اس پر کمفرٹ بار بار درست کر رہی تھیں۔۔
❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣
Hijar Ke Samandar Mein by Sana Sufiyan Khan Last Episode 10

