السلام علیکم میں ہوں آپ کی میزبان ارفع علی اور میں لے کر آئی ہوں آپ کی پسندیدہ لکھاری “حرا طاہر” کا انٹرویو جو میچور رائیٹنگ اور معیاری ناولز لکھنے کی وجہ سے مقبول ہیں۔ حرا طاہر کلاسک اردو مٹیریل گروپ کی آفیشل لکھاری ہیں۔ ان کی تحاریر میں پختہ اردو ان کی تحاریر کو منفرد بناتی ہے۔
حرا طاہر کے اب تک لکھے گئے ناولز اور ناولٹ
ناول
ایک شخص بہاروں جیسا
جانم ہم کو بھول نہ جانا
ملن کا خواب ادھورا ہو جیسے
کبھی یوں ملے تجھے راہ میں
خواب شکستہ
عشق نے مرشد مان لیا
تیری چاہت کی دهنك
ناولٹ
نیلا آنچل
سبز محل
خوابوں کی ملكہ
دل غافل
ٹیم پراجیکٹ
میں تیرا عکس ہو جاؤں
عشق کوہ گراں
جی تو سوالات کی جانب بڑھتے ہیں۔
1۔ السلام علیکم! کیسی ہیں آپ؟
وعلیکم السلام!
الحمد لله!
کبھی آہستہ کبھی تیز مگر زندگی کی گاڑی چل رہی ہے۔
2۔ آپ کا اصل نام کیا ہے؟ اور آپ کس شہر سے تعلق رکھتی ہیں؟
میرا اصل نام حرا طاہر ہی ہے کیونکہ مجھے فیک سے زیادہ اصل چیزوں سے محبت ہے اور
شہرت تو اپنے نام سے ہی اچھی لگتی ہے۔
اگر کوئی میرے لکھے کی تعریف کریں اور کہیں کہ پریٹی مسکان کا ناول بہت اچھا تھا۔
واللہ میرا دل محسوس ہی نہیں کرے گا،
کیونکہ اصل نام ہی دل کو طمانیت بخشتی ہے،
اور ہاں،
میرا تعلق خیبر پختون خوا کے ضلع چارسده کے ایک خوب صورت علاقے ہشتنگر سے ہے۔
3۔ پیشے کے لحاظ سے آپ کیا ہیں؟ اور تعلیم کہاں تک حاصل کی ہے؟
میں نے اپنی مادری زبان پشتو میں ایم اے کیا ہوا ہے، کیونکہ مجھے پشتو سے بے انتہا محبت ہے۔
وہ الگ بات کہ ناول لکھنا میں نے اردو میں شروع کیا اور وہ بھی شاید اس لیے کہ سب سے پہلے جو ادارہ مجھے ملا، وہ اردو زبان سے منسلک تھا۔
خیر، اردو بھی اپنی قومی زبان ہے، سو نو ٹینشن۔
ہاں اگر کبھی ادارہ اجازت دے کہ پشتو میں اک ناول لکھو تو میری خوش نصیبی ہوگی۔
ویسے شاعری پشتو میں ہی کرتی ہوں۔
پیشے کے لحاظ سے ایک استانی ہوں۔ پرائمری سکول میں پڑھاتی ہوں۔ یعنی کہ چھوٹے بچوں کی تربیت ہمارے ذمے ہے۔
4۔ پسندیدہ رنگ، جگہ، کھانا اور شخصیت کونسی ہے؟
پسندیده رنگ، تو بات یہ ہے کہ رنگوں کی پسند بدلتی رہتی ہے۔ کبھی ایک رنگ زیادہ پسند ہوتا ہے کبھی دوسرا۔
اور ہر چیز کے لیے اپنے ہی رنگ پسند ہیں۔ ایسا نہیں کہ اگر سفید رنگ پسند ہو تو کپڑوں سے لے کر پردے اور کارپٹ بھی سفید ہی ہو۔
ویسے مجھے جامنی اور گلابی رنگ بہت اٹریکٹ کرتے ہیں۔
میرے ہر ناول میں ہیروئن یہ دو رنگ ضرور پہنتی ہیں اگر کوئی فنكشن ہو۔
ہر وہ جگہ پسندیده ہے جو نیچر کے قریب ہو۔
مجھے پہاڑی علاقے بہت پسند ہیں اور اب تو وہ جگہیں بھی دل کے قریب آ گئی ہیں جسے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ آئی ہوں۔
مسجد الحرام اور مسجد النبوی۔
کھانے میں وہ چیز جو میں بار بار کھا سکتی ہوں اور جس سے میں پرہیز نہیں کر سکتی ہوں وہ ایک ہی ہے۔
چاؤل۔
اب چاؤل کی جونسی بھی قسم ہو، مجھے منظور بس چاؤل ہو۔
پسندیده شخصیت ایک نہیں۔
سب سے پہلے تو
ہمارے پیارے نبی
حضرت محمدؑ
آپؑ کے بعد
ہمارے پشتو کے بہت ہی خوب صورت شاعر غنی خان
سیاسی شخصیت
عمران خان
اور
آن لائن دنیا کی وہ شخصیت
جو خود سے دور جانے ہی نہیں دیتا۔
سیما شاہد
5۔ پسندیدہ شاعر کون ہے؟ کونسی شاعری آپ کو پسند ہے؟
پشتو کا شاعر غنی خان حمزہ خان شنواری
اردو کے
قتیل شفائی
احمد فراز
پروین شاکر
وصی شاہ
مجھے وہ شاعری اچھی لگتی ہے جس میں لطیف جذبات اور نیچر بیان ہوا ہو۔
6۔ ناولز پڑھنے کا شوق کب اور کیسے ہوا؟
پڑھنے کا شوق تو بہت بچپن سے تھا۔ جب والد صاحب رسالہ لے کر آتے تو اس میں وہ تین عورتوں۔ کی کہانیاں ہوتیں۔ وہ پڑھتی۔
پھر سارے آرٹیکل اور خبریں پڑھ لیتی۔
باقاعدہ ناول پڑھنے کا آغاز تقریباً چھٹی جماعت سے ہوا جب دادا کے الماری سے سسپنس اور جاسوس ڈائجسٹ اٹھا کر پڑھے۔
پھر ایک دن اس الماری میں خواتین ڈائجسٹ ہاتھ لگا اور بس ناول کے دیوانے ہو گئے۔
7۔ آپ نے پہلا ناول کب اور کونسا پڑھا تھا؟
پہلا ناول چھٹی جماعت۔ میں۔ ہی پڑھا تھا اور اس کانام یاد نہیں، مگر اب بھی ہیروئن کے گلابی گال یاد ہیں۔ وہ پہاڑوں میں رہتی تھی اور ہیرو شہر سے آیا تھا۔
8۔ آپ نے ناول لکھنے کا آغاز کب اور کیسے کیا؟
میں نے سیکنڈ ائیر میں ایک ناول کاپی میں لکھا جو میری دوستوں۔ کو بہت پسند آیا۔
اس کے بعد میں نے مزید ناول لکھے جو اب بھی پڑے ہوئے ہیں۔
پھر ہاتھ اور گردن میں کچھ مسلہ آیا تو لکھنا چھوڑ دیا۔
شادی کے آٹھ سال بعد عاقب کوھلر کا ناول پڑھا جو مجھے سیما شاہد کےناول تک لے گیا اور سیما آپی کے مزید ناول تلاش کرتے ہوئے میں کلاسک میں پہنچی۔
میرا دل کیا میں دوبارہ سے لکھنا شروع کروں۔
سو ایک دن فریال کے پوسٹ میں کمنٹ کرکے پوچھا میں کیسے لکھوں کیونکہ آن۔ لائن کا تجربہ نہ تھا۔
اس نے طریقہ بتا دیا تو میں نے ایک شخص بہاروں جیسا لکھنا شروع کیا اور بس پھر لکھتے گئے۔
9۔ آپ کو کس کیٹیگری پر ناولز لکھنا پسند ہیں؟
مجھے فیملی بیس لکھنا اچھا لگتا ہے۔
میرے ناولز میں ہیرو ہیروئن سے زیادہ ان کی فیملیز کو دکھایا جاتا ہے۔
باقی میں مار دھاڑ اور ایلیٹ کلاس کے ناول نہیں لکھ سکتی۔
میں سادہ سی کہانیاں لکھتی ہوں۔
10۔ کس پلیٹ فارم پر ناولز لکھنا پسند ہیں؟
ڈیجیٹل لائبریری اور فیس بک
11۔ اب تک کتنے ناولز لکھے ہیں؟ آپ کے دل کے نزدیک کونسا ناول ہے؟
اب تک دس بارہ لکھے ہوں گے اور دل کے قریب تو سارے ہیں مگر عشق نے مرشد مان لیا
اور کبھی یوں ملے تجھے راہ میں میرے دل میں رہتے ہیں اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ دونوں ناول ونی بیس ہیں۔
12۔ آپ کے ناول کا کردار جسے آپ حقیقی زندگی میں دیکھنا چاہتی ہوں؟
میرے ہر ناول کا ہیرو بڑا سوبر، کیئرنگ ہوتا ہے جو ہیروئن کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد کے لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے۔ جس کی نیچر بہت سوفٹ ہوتی ہے۔
میں چاہتی ہوں سارے مرد ہی ایسے ہوں۔
اور میرے ناولز کے زیادہ تر بزرگ افراد کسی ناول میں ماں تو کسی میں باپ اور کسی۔ میں دادا تو کسی میں دادی بہت سٹرونگ اور لونگ ہوتی ہیں جو خاندان کو جوڑے رکھتی ہیں۔
میں چاہتی ہوں ہر گھر میں ایسے بزرگ ہوں۔
13۔ آپ کے ناولز کے ہیرو اور ہیروئن میں کوئی ایسی خوبی جو آپ چاہتی ہیں اصل زندگی میں بھی لوگوں میں ہوتی؟
میرے ناولز کی ہیروئنز حیا دار ہوتی ہیں۔ حد پار نہیں کرتی۔
میں چاہتی ہوں ساری لڑکیاں ایسی ہی ہوں۔
اور میرے ہیرو بہت لونگ اور عزت دینے والے ہوتے ہیں۔ میں اصل زندگی میں بھی یہی چاہتی ہوں۔
14۔ کوئی ناول یا کردار جو حقیقت پر مبنی لکھا ہو؟
میرے ہر ناول میں کوئی نہ کوئ کردار ہوتا ہے حقیقت پر مبنی مگر ملن کا خواب ادھورا ہو بالکل حقیقی کہانی ہے۔
15۔ اپنے کونسے ناول کو کتابی شکل میں دیکھنا چاہتی ہیں؟
خواب شکستہ۔
کیونکہ اس کے ڈائلاگ بہت پیارے ہیں۔
16۔ آپ کا پسندیدہ ناول کونسا ہے؟ کوئی ایسا ناول جسے پڑھ کر آپ متاثر ہوئی ہوں؟
قراقرم کا تاج محل میرا پسندیدہ ناول۔
جنت کے پتّے سے میں نے پردہ کرنا شروع کیا تھا۔
17۔ گھر والوں اور دوستوں کا ردعمل کیسا تھا جب آپ نے لکھنے کا آغاز کیا تھا؟
گھر والوں اور دوستوں کا ردعمل،
گھر کی مرغی دال برابر والی جیسی ہے۔
کوئی پڑھتا ہی نہیں۔ کہتے ہیں کتاب لا کر دو تو پڑھ لیں گے۔ جیسے احسان کریں گے مجھ پر۔
18۔ رائٹنگ ورلڈ میں سب سے زیادہ کس نے سپورٹ کیا؟
سیما آپی
19۔ کس قسم کے لوگ آپ کو پسند ہیں؟
جو اندر اور باہر سے ایک جیسے ہوتے ہیں۔
منافق لوگوں سے نفرت ہے
اور ایسے لوگ جو غصہ کرکے کہتے ہیں ہم منافق نہیں جو دل میں تھا وہ کہہ دیا وہ بھی نہیں پسند ،
کیونکہ غصّے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ دوسرے کو بے عزت کرکے کہتے ہیں میرے دل میں کچھ نہیں۔
انسان کو تھوڑا برداشت کرنا چاہئے۔اسے منافقت نہیں مصلحت کہتے ہیں۔
20۔ اگر حرا طاہر سے اصل زندگی میں ملیں تو کیا دیکھنے کو ملے گا؟
اگر حرا طاہر سے کوئی پہلی دفعہ ملے تو کچھ وقت کے لیے اسے وہ بہت خاموش اور مغرور لگے گی، کیونکہ اسے خود سے بات شروع کرنا نہیں آتا۔
لیکن اگر کوئی دوسرا پہل کرے تو جان لے گا کہ وہ کتنی نرم دل، حساس، محنتی اور
کو آپریٹیو ہے۔
تعلق تھوڑا مضبوط ہوجائے تو جان لیں گے کہ حرا ایک
ساتھ نبھانے والی لڑکی ہے، جو مرده تعلقات کو بھی آخر تک رابطوں کا پانی دیتی ہے۔
ہاں اگر اس کے خلوص اور اچھائی کے بعد بھی اس سے برا پیش آئے یا اسے برا سمجھے تو اس کے لیے وہ ضدی لڑکی ہوتی ہے جو خاموش ہوجائے گی۔
خود سے کبھی بھی بات نہیں کرے گی لیکن اگر سامنے والا بات کرنا شروع کریں تو سب کچھ بھول کر پہلی جیسی بن جائے گی۔
21۔ رائٹر بلاک سے کیسے نمٹتی ہیں؟
وقت پر چھوڑتی ہوں۔
ڈرامے دیکھ کر چِل کرتی ہوں۔ سکرولنگ کرتی ہوں اور جیسے ہی کوئی اچھا لکھاری خوب صورت سے ٹائٹل والا ناول شروع کرتا ہے جو مجھے اپنی طرف اٹریکٹ کر دیتا ہے تو میرا دل بھی ناول لکھنا چاہتا ہے بس پھر لکھنا شروع کر دیتی ہوں۔
22۔ لکھتے وقت آپ کا عام شیڈول کیا ہوتا ہے؟
ویسے تو اسکول سے آکر جب سارے کام ہوجائیں اور سستانے بیٹھوں تو لکھتی ہوں۔
عشا پڑھنے کے بعد اور فجر سے پہلے یا بعد میں اگر وقت ملے لکھا کرتی ہوں۔
بلکہ اگر موڈ ہو اور تنہائی مل جائے تو ہر وقت میں لکھ لیتی ہوں۔
23۔ زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم۔ نکلے۔
خیر اللہ بہت مہربان ہے اور ہم ان کی نعمتوں کے قدر دان ہیں۔ اس نے دل کی ہر اک خواہش پوری کر دی ہے۔
اللہ کا گھر دیکھنے کی خواہش سب سے بڑی تھی جو ابھی ہی اللہ نے پوری کر دی۔
اس کے بعد خواہش تھی کتاب کی تو بھروسہ ہے مجھے اپنے اللہ پر وہ میری یہ خواہش بھی پوری کر دے گا۔ ان شاء اللہ۔
24۔ آپ آج سے کچھ سال بعد خود کو کس مقام پر دیکھتی ہیں؟
امید اور خواہش تو اچھے کی ہے۔
واللہ عالم!
25۔ آپ کو بطور مصنف اب تک کی بہترین نصیحت کیا ملی ہے؟
بس یہی کہ جمود موت ہے۔
اگر تم متحرک رہو تو ساری دنیا کی نظریں تم پر ہوں گیں اور اگر تم ساکت ہوئے تو سب اک نظر ڈال کر گزر جائیں گے۔
26۔ آنلائن لکھاریوں کے لیے کوئی پیغام؟
پیسہ وقت کی ضرورت ہے مگر اسے کبھی بھی خود پر سوار کرکے وہ الفاظ اور جذبات نہ لکھیں، جس کی وجہ سے آپ دوسروں کے کیے گئے گناہوں میں حصّہ دار بن جائیں۔
جو بھی لکھیں اپنے دل کی تسكین کے لیے نہ کہ لائکس اور کمنٹس کے لیے۔
27۔ فیس بک فرینڈز کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی؟
اگر تو فیس بک کی ان دوستوں کی بات ہو رہی ہے جو برائے نام دوست ہیں تو ان کے لیے بس اتنا کہوں گی، کبھی کچھ بول بھی دیا کریں۔
اور اگر بات ہو رہی ہے ان دوستوں کی جن سے فیس بک کے علاوہ بھی رابطے ہونے لگے
تو انہیں کہوں گی کہ آپ کا ہونا ایک انعام ہے کیونکہ ہم جو کچھ بھی ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں وہ ہمارے دلوں میں ہی رہتا ہے کیونکہ ہمارے رشتہ دار مشترکہ نہیں ہوتے🤪
28۔ نئے لکھنے والے لکھاریوں سے کچھ کہنا چاہیں گی؟
دل سے لکھیں۔
لائک اور کمنٹ کے لیے پریشان نہ ہوں ۔
آپ اچھا لکھیں گے تو ایک دن آئے گا جب آپ کا نام ہی کافی ہوگا۔
دل برداشتہ ہو کر اپنے شوق کو نہ چھوڑیں۔
آپ چھوڑیں بھی تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر ہاں، اس سے آپ کو ضرور پڑے گا۔
اس لیے اپنا نقصان نہ کریں۔
اپنے دل کے سکون کے لیے لکھیں۔
29۔ کلاسک اردو مٹیریل گروپ کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی؟
جس ادارے نے انگلی پکڑ کر سکھایا، پلیٹ فارم دیا، کام دیا اور سب سے بڑھ کر پہچان دی،
اس کے لیے شاید میں لفظوں میں کچھ بیان نہ کر سکوں۔
كلاسك اردو مٹیریل سے میری محبت کی یہی دلیل کافی ہے کہ میں چھ سالوں سے اس کے ساتھ ہوں۔
اس عرصے میں مجھے کچھ لوگوں نے اپروچ بھی کیا مگر وہ کیا ہے کہ میں پہلی محبت کے اثر سے نکل ہی نہیں پا رہی ہوں۔
کیونکہ جس ادارے کے سربراه سے محبت ہو وہاں سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔
30۔ بے حد شکریہ حرا آپی اپنا قیمتی وقت دینے کے لیے۔
انٹرویو لینے کے لیے بے حد شکریہ!
آپ نے ہمیں چنا تو اس کا مطلب، ہم بھی کسی کے نگاہوں ہیں۔
شکریہ پیاری مجھے اتنا اہم جاننے کے لیے۔

