۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہماری کانٹریکٹ میرج ہوئی تھی نا اس حساب سے آپ میرے قریب نہیں آ سکتے۔۔” زوہیب آفندی کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ وہ خوف سے بولی “میں صرف اتنا جانتا ہوں تم میری بیوی ہو۔۔ اور مجھے میر احق چاہیے” زوہیب آفندی خمار آلود آواز میں بولا تھا اس کا لڑکھڑاتا لہجہ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ نشے میں ہے۔۔ زرتاشہ نے نفرت سے اس کی طرف دیکھا تھا وہ زوہیب آفندی کی کلاس میں پڑھتی تھی اپنی بہن کی جان بچانے کے لیے اس نے زوہیب آفندی سے کانٹریکٹ میرج کی تھی لیکن تیسرے ہی روز وہ زبردستی اسے اپنے کمرے میں لایا تھا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رات کے گہرے سناٹے میں صحن سے آتی چیخوں کی آواز نے پورے گھر کو دہلا دیا تھا۔ ماہا، ننگے پاؤں، بکھرے بالوں اور کانپتے وجود کے ساتھ فرش پر گری ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب تھا، اور ہونٹوں پر صرف ایک ہی التجا۔۔۔ رحم!”عدنان… خدا کے لیے… مت مارو… میں نے کچھ نہیں کیا…”ماہا نے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے، رو رو کر کہا۔ اس کی آواز میں وہ کپکپاہٹ تھی جو دل کی گہرائی سے نکلتی ہے، جب انسان اذیت کی انتہا پر پہنچ جاتا ہے۔عدنان کی آنکھوں میں غصے کی چنگاریاں بھڑک رہی تھیں۔ وہ بغیر کچھ سنے، ایک بار پھر اس پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔’’آواز بند کر منحوس! ورنہ جان سے مار دونگا۔۔‘‘اس کی آواز درندوں کی طرح گونجی۔ماہا نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ لیا۔ اس کی آواز اب فریاد بن چکی تھی۔”خدا کا واسطہ ہے عدنان… مجھے مت مارو… میرا قصور بتا دو، میں مافی مانگ لوں گی۔۔۔ بس ہاتھ نہ اٹھاؤ…”عدنان نے اسے دھکا دیا، اور ماہا زمین پر گر گئی۔ اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسو اب خون سے ملے جا رہے تھے۔’’تیرا علاج کرنا پڑے گا۔۔نشئی باپ کی بے غیرت اولاد۔۔‘‘ماہا نے کرب سے آنکھیں میچ لی تھیں۔باپ کا کئے کی سزا اس کا مقدر بن گئی تھی۔۔”امی نے کہا تھا بیٹی، شوہر کا گھر جنت ہوتا ہے… لیکن میری جنت تو جہنم بن گئ ہے۔۔‘‘وہ کرب سے سوچتی ہچکیوں اور سسکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوپہر کے وقت دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔ اماں بی نے گھبرا کر دوپٹے کو سنبھالا اور دروازہ کھولا تو سامنے ماہا کھڑی تھی۔ بال بکھرے ہوئے، آنکھیں سوجی ہوئی، کپڑے مٹی اور خون میں لت پت… اور چہرے پر وہ درد جو لفظوں سے بیان نہ ہو سکے۔”ماہا!” ماں کی چیخ نکل گئی، اور وہ فوراً اسے گلے لگا کر اندر لے آئیں۔”کیا ہوا بیٹا؟ یہ کیا حال بنا رکھا ہے؟” ماں نے کانپتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ماہا کچھ بول نہیں پا رہی تھی، صرف رو رہی تھی۔ اس کی ہچکیوں نے سارا ماحول سوگوار بنا دیا تھا۔ زرتاشہ جو کمرے سے باہر نکلی تھی، بہن کو اس حالت میں دیکھ کر ایک پل کو ٹھٹھک گئی۔”آپی… یہ کس نے کیا؟” زرتاشہ تیزی سے ماہا کے پاس آئی اور اس کے زخم دیکھنے لگی۔ماہا نے روتے ہوئے بمشکل کچھ الفاظ ادا کیے،”عدنان… اُس نے… آج پھر مارا… ماں جی، میری ہڈیاں توڑ دی ہیں اُس نے…”ماں کا دل کٹ کے رہ گیا۔ زرتاشہ نے بہن کو سہارا دے کر صوفے پر بٹھایا، اور آنسو پونچھنے لگیں۔”بیٹا… آخر کیوں؟ کیا کہا اُس نے؟””کچھ بھی نہیں… بس ایک معمولی بات پر جھگڑا ہوا اور اُس نے… اُس نے گھسیٹ کر مارا… مجھے دیوار سے دے مارا… میں چیختی رہی، لیکن اُس نے نہ سنی…” ماہا کی آواز ٹوٹ رہی تھی، ہر لفظ کے ساتھ اُس کی آنکھوں سے نئے آنسو بہہ نکلتے۔زرتاشہ کی مٹھی سختی سے بند ہو گئی۔ وہ ایک پل کے لیے خاموش رہی، پھر ایک دم غصے سے بھڑک اٹھی۔”میں چھوڑوں گی نہیں اُسے… اُس کمینے کو! وہ اپنی بیوی کو ایسے مارتا ہے جیسے وہ کوئی غلام ہو! کیا سمجھ رکھا ہے اُس نے خود کو؟!”زرتاشہ کی آواز طیش تھا، اور اس کے الفاظ ماں کو بھی لرزا گئے۔باپ تو مر گیا تھا۔۔مگر اس کے کئے کا بھگتان وہ لوگ اب تک بھگت رہے تھے۔”زرتاشہ، بیٹا صبر کر، حالات ایسے نہیں…” ماں نے نرمی سے کہا۔”نہیں ماں، اب صبر نہیں!” وہ چیخی۔ “آپ ہر بار چپ کراتی ہیں، اور وہ ہر بار میری آپی کو توڑتا ہے! آپی کوئی گڑیا نہیں ہیں، کہ جب چاہا مار دیا، جب چاہا پھینک دیا!”ماہا نے آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے، زرتاشہ کی طرف دیکھا،”زری… تمہیں پتا ہے، اب تو مجھے مرنے سے بھی ڈر نہیں لگتا… عدنان سے زیادہ اذیت تو موت بھی نہ دے پائے گی۔۔۔”زرتاشہ کا دل تڑپ اٹھا۔ وہ ماہا کے قدموں میں بیٹھ گئی،”آپ کو مرنے نہیں دوں گی آپی… آپ اب اس جہنم میں نہیں جائیں گی، یہ وعدہ ہے میرا!”ماں خاموش تھیں، لیکن ان کی آنکھوں سے بہتے آنسو گواہی دے رہے تھے کہ وہ کس قدر بے بس عورت تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگلے دن زرتاشہ یونیورسٹی کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی تو اس کی آنکھوں میں نیند کی تھکن، دل میں دکھ اور چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔ پچھلی رات کی تکلیف اور ماہا کا روتا چہرہ اُس کے دماغ سے نکالے نہیں نکل رہا تھا۔ وہ آہستہ قدموں سے شعبہ سوشیالوجی کی طرف بڑھنے لگی، لیکن جیسے ہی وہ گارڈن کے پاس سے گزری، ایک مانوس سی نگاہوں کی تپش نے اسے چونکا دیا۔زوہیب آفندی، جو کہ یونیورسٹی کے اونر کا بھتیجا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی پرکشش شخصیت کے باعث اکثر طالبات کی توجہ کا مرکز رہتا تھا، دور سے زرتاشہ کو گھور رہا تھا۔ اُس کی نظریں ایسی تھیں جیسے ہر گزرتے لمحے میں زرتاشہ کی روح کو چھو رہی ہوں۔زرتاشہ نے ان نگاہوں کو محسوس کیا اور تیزی سے نگاہیں چرائیں۔ دل میں بے چینی سی جاگ اٹھی۔”یہ شخص… ہر بار مجھے ہی کیوں دیکھتا ہے؟” اس نے دل ہی دل میں سوچا۔وہ تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی لیکن زوہیب کی نظریں اس کا تعاقب کرتی رہیں۔ جیسے کوئی شکاری اپنے شکار کو نظر سے اوجھل نہیں ہونے دیتا۔کلاس کے دروازے پر پہنچ کر وہ ایک لمحے کو رکی، پلٹ کر پیچھے دیکھا ۔۔زوہیب ابھی تک وہیں کھڑا تھا، ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر اور نگاہوں میں کچھ ایسا جسے زرتاشہ سمجھنے سے قاصر تھی۔”کتنا عجیب انسان ہے…” وہ بڑبڑائی اور جلدی سے کلاس روم میں داخل ہو گئی، لیکن دل کی دھڑکن ابھی بھی بے ترتیب تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Hisar E Mohabbat |Classic YouTube Special|

