Uncategorized

In Lamhon Ke Daman Mein by Romaisa Baloch Episode 7

یہ کیا کہ رہی ہیں بیٹا آپ وہ معمولی سا ورکر جسے آفس میں آۓ ہوۓ محض چند ہی ہفتے ہوۓ ہیں آپ نے اسے شادی کا پرپوزل بھیج دیا کم از کم مجھ سے تو ایک بار پوچھ لیتیں اور کہاں ہمارا سٹیٹس اور کہاں وہ !!

خورشید ملک بےیقینی کی انتہا پر تھے ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ وہ ایک عام سے ورکر کو یوں ہی سرے راہ پرپوز کر دے گی” ۔
انکل اس میں برائی ہی کیا ہے آپ نے ہی تو کہا تھا جب مجھے کوئی اپنے قابل لگے تو اسے میں اپنی زندگی میں شامل کر لوں اور الحان اصغر میں مجھے وہ سارے گٹس نظر آتے ہیں جو میں نے اپنے شوہر کے لیے سوچے تھے ” !!
پر بیٹا بات سمجھنے کی کوشش کرو ہمیں اپنے سٹیٹس سے میچ کرتے لوگ اپیل کرتے ہیں نہ کے ان جیسے غریب غربا، تنگ گلیوں والے چچی کا لہجہ اچھا خاصہ کراہت سے بھرا ہوا تھا “
اس نے ناگواری سے ان کا لہجے پر افسوس کیا۔
چچی غریب بھی تو انسان ہوتے ہیں اور وہ جیسا بھی ہے مجھے بہت عزیز ہے آئی ہوپ اس سے ملنے کے بعد آپ کے سارے خدشات دور ہو جائیں گے آکاشہ نے اپنے تئیں ان کی باتوں کو رد کرتے اپنا حتمی فیصلہ سنایا وہ ایک بار پھر کچھ کہنا چاہتی تھیں ” 
مگر شوہر نامدار کے اشارے پر چپ ہوتی لب سی گئیں۔
اوکے ہنی جیسا آپ چاہو گی بلکل ویسا ہی ہوگا خورشید ملک اس کے سر پر ہاتھ رکھتے مسکراتے لہجے میں بولے تھے تو آکاشہ بھی ان کی بات پر ہولے سے مسکرا دی ” ۔
اچھا اب کچھ کھا تو لو کھانا تو ویسے کا ویسا ہی پڑا ہوا ہے اسے یونہی لاپرواہی سے پلیٹ میں چمچہ گھماتے دیکھ انہوں نے ٹوکا تو وہ سوچوں سے باہر نکلتی اٹھ کھڑی ہوئی ” !!
نہیں انکل میرا ہوگیا میں سونے چلتی ہوں اب صبح ملے گے گڈ نائٹ نیپکین سے ہاتھ پونچھ کر وہ دونوں کو وش کرتی سیڑھیاں پھلانگتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی ” 
یہ کیا کہ رہے تھے آپ اسے منع کیوں نہیں کیا آپ نے اگر اس نے آگے جاکر ہمارے خلاف ورزی شروع کر دی تو۔؟؟
مسز خورشید اس کے جانے کے بعد شوہر کے کان میں پھسپھسائی ان سے تھوڑے سے فاصلے پر ملازم موجود تھے جبھی وہ دھیرے سے منمنائی “۔
ہوش کے ناخن لو بیگم اس نے اگر شادی کرنی ہے تو بےشک کرے ہم انکار کی صورت میں اسے خود سے بدظن نہیں کر سکتے سوچو ایک معمولی سی بات پر ہمارے کئی سالوں کی محنت داؤ پر لگ جاۓ گی “
اسی لیے فلحال کچھ مت کرو جب صیح وقت آۓ گا تو میں خود اسے ہینڈل کر لوں گا مگر ابھی اسے یوں ظاہر کرواؤ جیسے ہم اس کی رضامندی میں بہت خوش ہیں۔
عقل کا استعمال کرتے وہ بولتے ہوۓ کسی گہری سوچوں میں غرق تھے جیسے آگے کا لاحیہ عمل ترتیب دے رہے ہوں ” ۔
ہممم۔۔!!
ان کی بات پر وہ محض ہنکارا بھرتی شوہر کے شیطانی دماغ میں بنتی منصوبہ بندی میں پیش پیش تھی۔
—
کیا ہوگیا میرے بھائی تیرا کھانا پڑے پڑے ٹھنڈا ہوگیا اور تو نجانے کون سی سوچوں میں ڈوبا ہوا ہے الحان کو کب سے ایک ہی زوایے میں بیٹھا دیکھ وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی ” ۔
کک۔۔ کچھ نہیں۔۔۔!! 
وہ نفی میں سر ہلاتا ساری سوچوں کو بثِ پشت ڈالتا کھانے کی طرف متوجہ ہوا۔
کوئی تو بات ہے پتر ورنہ تجھے میں نے اتنا پریشان کبھی نہیں دیکھا جتنے آج دِکھ رہے ہو چچا اس کے نظریں چورانے پر کھٹکے کا شکار ہوۓ جبھی اندر کی بات پوچھنا چاہ رہے تھے !!!
میری جو باس ہیں انہوں نے مجھے شادی کی آفر کی ہے آواز تھی یہ بم جو دھماکے کے ساتھ ان سبھی کی سماعت میں گزری تھی چچی، چچا منہ کھولے ہونک بنے الحان کا چہرہ تکنے میں مصروف تھے !!
تو نے آج پی وی تو نہیں رکھی جو ایسی باتیں ہانک رہا ہے چچی اس کے قریب جاکر اسے مشکوک نظروں سے اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھتی ہوئی بولی۔
نہیں چچی میں نے نہیں پی آپ کی قسم وہ ان کے بے بنیاد الزام پر خوامخواہ ہی سٹپٹایا “۔
پھر مخول کر رہی ہوگی وہ تیرے ساتھ جانتی ہے تو کتنا بھولا بھالا ہے اسی لیے وہی مرغی کی ایک ٹانگ”
ارے کیوں وہ مزاق کرے گی میرے شہزادے بھائی کے ساتھ اتنا خوش شکل ہے، محنتی ہے اور سب سے بڑھ کر پیار اور محبت دینے والا ہے کوئی لولا، لنگڑا تھوڑی جو اللّٰہ کے واسطے اسے اپنا کر ثواب کمانے والی ہو ” 
رانی ان کی باتوں پر برا مناتی بھائی کے فیور میں حصہ ڈالتی ناک سکوڑ کر بولی۔
تم نے کیا کہا پھر۔۔۔؟؟
چچا ٹھوڑی پر ہاتھ ٹکاتے تجسس کے مارے پوچھے بغیر نہ رہ سکے۔
میں نے فلحال کوئی جواب نہیں دیا وہی لٹھ مار انداز۔
رانی۔ نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی اس کا دل کیا اس کا گلہ دبا دے جو اتنی آسانی سے بدلتی قسمت کو ٹھکرانے پر تلا ہوا تھا ” !!
سلام ہے بھائی تجھے دل کر رہا ہے تجھے اکیس توپوں کی سلامی پیش کروں اس نے خشمگیں نظروں سے الحان کو گھورتے دل کی بھڑاس نکالی !!
تو چپ رہ آئی بڑی ماں کے گھڑکنے پر وہ چور سی ہوتی دانت کچکچا کر رہ گئی۔
ان بڑے لوگوں کا کوئی بھروسہ نہیں پتا نہیں کون سی بات بری لگ جاۓ اور وہ ہمیں سلاخوں کے پیچھے پہنچا دے نہ بابا نہ وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر تخیل میں سوچ کر ہی جھری جھری لے گئی ” !!
الحان نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی ورنہ سچ بتا کر تو انھیں ابھی دارے فانی سے کوچ کروا چکا ہوتا۔
سمجھانے کی بجاۓ الٹا اسے ڈرا رہی ہو بیگم کیوں کچھ برا ہو گا اللّٰہ پاک خیر کرے گا اور وہ بڑے لوگ انکار کی صورت میں ہمیں بخش دیں گے کیا نہیں نہ پھر بھی وہ لوگ ہمیں تھانے پہنچا کر ہی دم لیں گے “
اسی لیے ہماری بھلائی اسی میں ہے کے ہم لوگ ہاں کر دیں ” !!
میں تو کہتی ہوں کل آفس مت جانا پھر دیکھیں گے کیا ہوتا ہے چچی نے مانوں چٹکیوں میں ساری پریشانی حل کر دی تھی انہوں نے بیوی کی بات پر نفی میں سر ہلاتے بات کو رد کیا ” 
جبکہ یہی حال رانی اور اس کا بھی تھا وہ تاسف سے ان کی بات پر گہرا سانس بھر کر رہ گیا تھا۔
میری معصوم سی بیوی ایسا کرنے سے کیا ہو جاۓ گا ایک نہ ایک دن اسے آفس جانا ہی ہے اور کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے جتنا تم نے اسے سوچ سوچ کر سر پر سوار کر لیا ہے رب سے اچھے کی امید رکھو “
ان شاء اللّٰہ سب ٹھیک ہوجاۓ گا ” !!
اکمل صاحب نے بیوی کی غلط فہمی کو دور کرتے الحان کا شانہ تھپتھپاتے ساری پریشانی ربِ کریم پر چھوڑنے کو ترجیح دی۔
اور بےشک ہمارا رب بڑا مہربان ہے وہ اپنے بندوں کو یونہی یارو مددگار نہیں چھوڑتا ۔۔!!
—

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on