Age Difference Novels Latest Novel Romantic Novels Youtube Novels

Intazar e Yar |Classic YouTube Special|

۔۔۔۔ پلیز دروازہ کھول دیں، بہت ٹھنڈ ہے، ہم مر جائیں گے۔”وہ بیرونی دروازہ پیٹتی اندر بیٹھے بے حس لوگوں سے گویا تھی جو سوات کی کڑکتی سردی میں اُسے بغیر چادر کے باہر نکال کر خود اندر گرم ماحول میں پُرسکون تھے۔ دو گھنٹے سے زیادہ وقت ہو گیا تھا اور وہ یتیم لڑکی بنا چادر کے انتہائی سردی میں کھڑی، دروازہ مسلسل بجاتے اُن سے فریادیں کر رہی تھی کہ اچانک اپنے کندھے پر کسی کا لمس محسوس کرتے دلاویز نے ڈر کر پیچھے دیکھا تو آنکھیں منظر پر ساکت ہوگئیں۔حاذق خانزادہ چار سال بعد اس کے سامنے تھا، جو نکاح کی رات اپنا حق وصول کر کے اگلے دن بیرونِ ملک چلا گیا تھا۔ جس کے بعد وہ اُس کے گھر والوں کی ٹھوکروں پر جی رہی تھی۔۔۔”حاذق، تم پر مجھے سب سے زیادہ یقین ہے اور میں جاتے ہوئے اُسے کسی ایسے انسان کے حوالے کر کے جا رہا ہوں جس پر مجھے سب سے زیادہ یقین ہو۔”ہسپتال کے سرد کمرے میں اس کے جذبات بھی سرد ہو چکے تھے۔ اس کی ماں نے بے ساختہ پہلو بدلا۔ وہ جانتی تھی یہاں پر کیا بات ہونے جا رہی ہے۔ انہوں نے دنیا دیکھ رکھی تھی اور کچھ اندازہ تو حاذق کو بھی تھا، مگر جسے اندازہ نہیں تھا وہ تھی دلاویز۔ وہ بالکل نہیں جانتی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔جاتا ہوا آخری سانس لیتا وہ شخص اس کا باپ تھا۔ ماں کو گزرے کئی برس ہو چکے تھے۔ اس کی کل کائنات وہ باپ ہی تھا۔”میں نے سترہ سال اس کو ماں کے بنا کس طرح پالا ہے، میں جانتا ہوں۔ جس کی حفاظت کرنا اور پالنا اتنا آسان نہیں تھا۔ حاذق یہ میری جان کا سب سے عزیز ترین حصہ ہے۔”انہوں نے نم آنکھوں سے بیٹی کو دیکھتے کہا تھا جو چپ چاپ پلکیں جھکائے آنسو بہائے جا رہی تھی۔ ڈاکٹرز اب جواب دے چکے تھے۔ جگر کا وہ عارضی مسئلہ اب ان کا وہ خواب پورا کرنے جا رہا تھا جو کئی برس سے وہ دیکھ رہے تھے۔ وہ اپنی جان عزیز بیوی سے ملنا چاہتے تھے اور بقول دلاویز کے وہ اس کی ماں سے بہت محبت کرتے تھے۔دلاویز اکثر کہتی تھی”بابا، آپ کو جتنی محبت ماما سے ہے اتنی محبت ہم سے نہیں ہے۔”وہ اپنی ماں سے ان کی محبت کی شراکت داری برداشت نہیں کرتی تھی۔ ماں کی محبت تو اس نے دیکھی ہی نہیں تھی لیکن وہ اپنی ماں کی اس قربانی کے لیے احسان مند تھی۔ اس کی ماں نے اسے پیدا کرتے اپنی جان گنوا دی تھی۔ کیا یہ احسان کم تھا؟مگر محبت جو اس کے باپ سے تھی، وہ دنیا میں کسی سے بھی نہیں تھی۔ وہ صرف باپ ہی اس کا دوست، اس کا خاندان، اس کا بھائی اور اس کا غمگسار تھے۔۔۔۔ پچھلے کئی سالوں سے ان کا جگر کام کرنا چھوڑ چکا تھا اور اب جگر ٹرانسپلانٹ کے بعد بھی آپریشن کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ ڈاکٹر نے اگلے اڑتالیس گھنٹے خطرناک بتائے تھے اور صاف الفاظ میں کہہ دیا گیا تھا کہ ان اڑتالیس گھنٹوں میں کسی بھی وقت ان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ زندگی کی کوئی امید باقی نہیں تھی اور وہ جانتے تھے کہ کل کا سورج وہ اپنی بیٹی کے ساتھ نہیں دیکھ سکیں گے۔بیٹی جانتی تھی کہ وہ یتیم ہونے والی ہے اور اس کے باپ کو فوراً اس کے لیے سہارا چاہیے تھا۔ عمر کم تھی اور وقت بھی۔ کوئی ایسا انسان جو اس کے لیے قابلِ اعتبار ہو۔ وہ حاذق کا ہاتھ تھام کر اب اعتبار سے کہہ رہے تھے، مان سے کہہ رہے تھے۔ خان نے بے یقینی سے ہاتھ کھینچنے چاہے، لیکن جب چچا کے سرہانے کھڑے باپ کی آنکھوں میں دیکھا تو ان میں نکلتے شعلے اسے ساکت کر گئے۔ یعنی وہ انکار نہیں کر سکتا تھا، انکار کی گنجائش نہیں تھی۔ ناممکن وہ کسی اور سے منسوب تھا اور وہ اسی حویلی میں رہتی تھی۔۔۔۔ اسکی پسند اسکی کمٹمنٹ سب بیکار تھا کسی نے مرضی تک نہیں پوچھی تھی۔۔۔۔ “تم بالکل فکر مت کرو، حاذق اس نکاح سے انکار نہیں کرے گا۔”انکار کی گنجائش نکلتی ہی نہیں تھی۔ وہ اس کی چچا زاد ہے اور اس وقت حاذق کا فرض ہے کہ وہ اپنے چچا کا سہارا بنے۔”حاذق، آج سے تمہارا بیٹا ہے اور نکاح ابھی تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوگا۔”وہ جانتے تھے بھائی کے پاس مہلت ختم ہو چکی ہے۔ روح کو پرواز کرنے کی جلدی تھی۔ وہ جاتے ہوئے انسان کی جھولی خالی دامن نہیں بھیج سکتے تھے۔ وہ اپنی اکلوتی بھتیجی کو بے سہارا نہیں کر سکتے تھے۔ حویلی والوں کے دل اور قانون سخت ہوا کرتے ہیں۔ وہ اس نازک لڑکی کو بھی جانتے تھے کہ وہ ٹوٹ کر بکھر جائے گی مگر اپنا دکھ کسی سے بیان نہیں کرے گی اور اسی طرح کسی دن حویلی کے کسی کمرے سے اس کی لاش برآمد ہوگی۔سوات کے خانزادے اپنے حسن اور تباہیوں کے لیے مشہور تھے اور آج ایک خانزادی کے نصیب میں حاذق نام کی تباہی لکھی جا رہی تھی۔۔۔ مگر حاذق کا دل ہمیشہ سے اس لڑکی کے لیے نرم تھا اُنہیں اپنے فیصلے پر یقین تھا وہ خوش رہے گی ہاں وہ انکا بیٹا تھا کمپرومائز کر لے گا۔۔۔۔ اور کبھی کسی دن محبت بھی امید تھی۔۔۔ وہ سب سمیٹ لے گا۔۔۔حاذق نے شعلہ لپکتی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا کہ وہ انکار کر دے مگر وہ نظر چرا گئی۔ وہ اپنے باپ کو انکار نہیں کر سکتی تھی۔ پھر چاہے اس کے بعد اس کے ساتھ کوئی بھی سلوک ہوتا، وہاں ہر شخص ایک شخص کی وجہ سے خاموش تھا اور وہ تھے حاذق خانزادہ کے والد مجاہد خان تھے۔۔۔ مجال تھی جو کوئی ان کے آگے اونچی آواز میں بات بھی کر دے، ان کا رعب ہی ایسا تھا۔ اور کچھ، اب حاذق کی ماں کے دل میںلالچ بھی آ چکی تھی۔ دلاویز باپ کے حصے کی ساری جائیداد کی مالک تھی اور وہ جائیداد اب حاذق خانزادہ کو ملے گی۔ وہ آسانی سے سب انکے بیٹے کو ملتی۔۔۔۔

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on