‘سر وہ بیوہ ہے۔ اس کا ایک چھوٹا بیٹا بھی ہے۔” سیکرٹری کے بتانے پر جمشید آفندی مسکرایا۔ “اچھا ہوا بیوہ ہے۔ ورنہ میں بیوہ کر دیتا۔ میں جانتا ہوں وہ شادی کے لیے راضی نہیں ہوگی اس لیے اس کے بچے کو اٹھا لو۔” جمشید آفندی کے حکم پر سیکرٹری باہر نکل گیا۔ کچھ گھنٹوں بعد اس کا بیٹا جمشید آفندی کے قبضے میں تھا اور وہ نکاح کرنے پر مجبور تھی اس شخص سے جس سے اسے سخت نفرت تھی۔°°°°°°°°°°°°°°°”صبح بخیر میرا بچہ میری جان خدا تعالیٰ ہمیشہ سرخرو رکھے میرے بچے کو عمر دراز کرے میرے بچے کی ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہو اور خوشیاں تمہارا مقدر بنیں اور خدا جلد تمہاری زندگی میں بہار لائے ۔۔۔۔ ” فل سائز جہازی بیڈ پر اوندھے منہ سوئے اپنے لاڈلے بیٹے کو اٹھانے کی غرض سے آئیں مسسز آفندی اسے آج بھی بچوں کی طرح سوتے دیکھ کر مسکرائیں تھیں دل سے اسے دعائیں دیتی وہ اس کے سر پر لب رکھ گئیں ۔”صبح بخیر اماں سائیں ۔۔۔” کروٹ بدلتا وہ سرخ آنکھوں کو مسلتا ہوا اپنی ماں کے کھلے کھلے چہرے کو دیکھ کر مسکرایا تھا ۔”کب بڑے ہوگے تم ۔۔ بچوں کی عمر میں بچے بنے ہوئے ہو ۔۔۔ ” پیشانی پر بکھرے بال سیٹ کرتی وہ گویا ہوئیں ۔”اماں سائیں صبح صبح نہیں پلیززز ۔۔۔ ” ان کی گود میں سر رکھتا وہ منہ بگاڑتا بولا ۔صبح دوپہر شام اب اس حویلی میں اس کی شادی کی ہی پرچار رہتی تھی جسے سن کر وہ ہمیشہ ہے پاؤں دبا کر نکل جاتا تھا ۔”بات تو ہوگی بیٹا سائیں خیر سے آج پینتیس سال کے ہوگئے ہو تمہارے بابا کی اس عمر تم اپنے بابا کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے تھے اور ایک تم ہو ہمیں ہوتے کی شکل ہی نہیں دکھا رہے ۔۔۔۔” اسے منہ کے زاویے بگاڑتے دیکھ کر وہ نے میں سر ہلاتی بولیں اور یہاں جمشید آفندی کو چپ لگی تھی ۔”بس ہم نے سوچ لیا اس سال ہم تمہاری شادی کریں گے ۔۔۔” اسے چپ چاپ لیٹے دیکھ کر وہ اٹل لہجے میں بولیں تھیں ۔”اچھا کرلوں گا شادی پر پلیز چچا سجاد کی بیٹی کا ذکر نا کیجیے گا میرے سامنے ۔۔۔” ان کے ارادے بھانپتا وہ تیوری چڑھا کر بولا گا ۔ اپنی ماں کو منہ پھولاتے دیکھ کر وہ بیڈ سے اترتا ہوا فریش ہونے کا سوچ پر ڈریسنگ روم کی سمت بڑھا تھا ۔”تو کس کی بات کروں ۔۔۔” اسے ڈریسنگ روم کی سمت بڑھتے دیکھ کر وہ خفگی سے گویا ہوئیں ۔ “جب کوئی سمجھ آئے گی تو بتا دوں گا میں ۔۔۔” سنجیدگی سے کہتا ہوا وہ ڈریسنگ روم میں بند ہوا تھا ۔°°°°°°°°°°°°°°°

