دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں فرانس کا شہر پیرس بھی آتا ہے.
اس شہر کے ایک خوبصورت اپارٹمنٹ میں ایک درمیانی عمر کی خاتون مغربی لباس پہنے کانوں میں ٹاپس پہن رہی تھی.
“منیب! اٹھ جائیں جانم.” کان میں ٹاپس پہن کر وہ ہیل کی ٹک ٹک کرتی وسیع بیڈ پر سوئے وجود کی طرف بڑھیں.
“جاناں! کسی دن تو آرام کرلیا کرو ہر دن یوں پنکچوئل رہنا لازمی ہے کیا!” منیب نے تکیے میں منہ چھپاتے اعتراض کیا.
“جانم اس لئے ہی تو اچھی خاصی زندگی چھوڑ آئی ہوں. ” اچانک سے ان کی آنکھوں کی وہ چمک ختم ہوگئی.
منیب کو اس کی بات پر اٹھنا پڑا, آگے بڑھ کر اسے ہگ کرلیا.
“میں جانتا ہوں میری وجہ سے تکلیف دہ دن گزرے ہیں. مگر پھر بھی ہم یہاں ایک بہترین زندگی گزار رہے ہیں.” منیب نے بیوی کے ماتھے پر بوسا دیا.
“اللہ کا شکر ہے, مگر اولاد سے ہم محروم ہی رہے.” ماہرا نے شکر کے ساتھ ایک اور شکوہ کیا.
“بیگم… ہم ایک دوسرے کے ساتھ خوش ہیں.” منیب کو اس کی بات بری لگی تھی.
“اچھا چھوڑیں ان باتوں کو چلیں آفس کے لیے تیار ہوجائیں, وعدہ ہم ویک-اینڈ پر پکنک پر چلیں گے.” ماہر نے منیب کا موڈ سیٹ کرنے کے لیے پلان بنالیا.
منیب اس کی بات پر ہولے سے مسکرادیا.
منیب جلدی سے کپڑے لئے واشروم میں گھس گیا.
منیب اور ماہرا کا پرفیومز کا بزنس تھا جو انہوں نے محبت اور لگن سے آگے بڑھایا تھا.
ابھی تک وہ کئی پرفیومز اور کئی ممالک کے فلسفے پر بناچکے تھے.
آج ان کی اسکائپ پر ایک پاکستانی ایڈورٹائیسمنٹ فرم سے میٹنگ تھی.
“منیب پلیز آج یہ پاکستانی کمپنی سے ڈیل ضرور کرنا.” ماہر نے منیب کے کیبن کے دروازے پر کھڑے کھڑے اسے مخاطب کیا.
“میں خود دعا کررہا ہوں کے ہوجائے ڈیل میں نے کافی تعریف سنی ہے.” منیب بھی سالوں بعد اپنے ملک کے مکینوں سے گفتگو کرنے کے لیے بہت زیادہ اکسائیٹڈ تھا.
“جانتی ہوں تم نروس بھی ہورہے ہو.” ماہرا نے مسکراتے کہا.
“ویسے یہ جھوٹ بھی نہیں ہے اگر تم ساتھ آجاؤ تو آسانی ہوگی.” منیب نے اس کی بات پر ہلکے سے مسکراتے جواب دیا.
“ٹھیک ہے.” ماہرا اس کی بات مسکراتی وہاں سے چلی گئی.
ماہرا اپنے کیبن میں آکر لیپ ٹاپ پر ای میلز چیک کرنے لگی لیکن اچانک سے اس کے چہرے کے رنگ بدلے تھے.
ایک ای میل پر اس نے کلک کرتے اسے پڑھنا شروع کیا جس پر اس کی آنکھوں میں آنسوں آنا شروع ہوئے تھے.
“میم!پاکستانی فرم سے میٹنگ کا وقت ہوگیا ہے.” اسسٹنٹ نے دروازے سے ہی اسے مطلع کیا.
“آپ چلیں میں آتی ہوں.” ماہرا نے جلدی سے لیپ ٹاپ بند کرتی اسے بولی.
اسکائپ پر میٹنگ اسٹارٹ ہوچکی تھی, ماہرا بھی میٹنگ روم میں چلی آئی.
“السلام علیکم!” ماہرا نے اسکرین پر نظرآنے والے ڈارک بلیو سوٹ میں موجود شخص کو سلام کیا.
“وعلیکم السلام, مسز ماہرا منیب! ” دوسری جانب سے کنفیڈنٹ بھرا جواب ملا.
“جی مسٹر ارحاب حیدر شاہ آپ نے یقین ہماری میل پہلے ہی پڑھ لی ہوگی اور امید کرتا ہوں آپ نے کوئی پروپوزل تیار کرلیا ہوگا.” منیب نے اسکرین میں نظر آنے والے شخص کو مخاطب کیا.
“جی کرلیا ہے پروپوزل تیار امید کرتا ہوں آپ کو سیٹس فائے کرلوں گا.” ارحاب کا کانفیڈنس انہیں بہت پسند آیا تھا.
ارحاب نے اسکرین پر اپنی بنائی ہوئی پریزینٹیشن چلائی جس کو دیکھ منیب اور ماہرا کافی متاثر ہوئے تھے.
“بہت خوب مسٹر ارحاب آپ کی پریزینٹیشن ہمیں پسند آئی ہے.” منیب نے متاثرکن لہجے میں کہا.
“بہت خوشی ہوئی.” ارحاب نے رسمی جواب دیا.
“اور اس ایڈ کے بعد آپ کا انٹرویو ہوگا فیشن میگزین میں اور اس کے کور پر آپ کی فوٹو لگے گی.” ارحاب نے انہیں مزید اپنے پلان سے آگاہ کیا.
“بہت اچھا! مگر امید کرتی ایڈ کامیاب ہونے کے بعد انٹرویو پر آپ ہمارے ساتھ پیرس میں ضرور ہوں گے کیونکہ اس میں بڑا کریڈٹ آپ کا ہوگا.” ماہرا نے ارحاب کی کوششوں کو سراہا اور ساتھ ہی پیرس آنے کی دعوت دی.
“وعدہ نہیں کرسکتا ہوسکا تو ضرور آؤں گا.” ارحاب کا لہجہ ہنوز رسمی تھا.
پھر الوداعی کلمات ادا کرتے یہ میٹنگ ایک بہترین طریقے سے اختتام کو پہنچی.
“سمجھ نہیں آرہا ہم اچھے ہیں یا ہماری لک جو اتنا اچھا فرم ملا ہے.” منیب نے خوشی سے کہا.
“شاید دونوں ہی ہے.” ماہرا نے منیب کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے مسکراتے جواب دیا.
وہ دونوں کافی محنت و مشقت کے بعد اس عالیشان مقام پر پہنچے تھے.
**********************

