Uncategorized

Ishq Ki Baazi by Hadisa Hussain Episode 7

طے شدہ وقت کے مطابق اس وقت حیات خان کے گاٶں میں جرگہ لگا تھا۔
شاہ خاندان کے تمام مرد حضرات اس جرگے میں شامل ہوئے تھے۔
ارحاب اور منیر خان کی نظریں ملیں تھیں جن پر ارحاب کو شرمندگی محسوس ہورہی تھی۔
“سردار حیات سائیں جرگہ شروع کریں؟” پنچائت کے سربراہ نور محمد نے اجازت چاہی۔
“جی شروع کریں۔” حیات خان کے لہجے میں لرزش تھی۔
“ہمیں افسوس ہے جواد شاہ آپ کے بیٹے کی موت کا، روحان شاہ کی موت کافی افسوسناک ہے اور یہ خان حویلی کے بیٹے بلال منیر سے ہوا ہے جس کے نتیجے میں آج یہ پنچائت لگی ہے میں چاہتا ہوں سردار مظہر شاہ جو فیصلہ کریں وہ خان سائیں آپ کو ماننا پڑے گا، کوئی بھی شخص کوئی اعتراض نہیں اٹھائے گا۔” نور محمد نے مُہذب انداز میں بات کہی تھی۔
“سب سے پہلے بلال کا بیان لیا جائے جو بہتر ہے۔” نواز بیچ میں بولا جو روحان کا بڑا بھائی ہے۔
“بلال ابھی تک ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے، اسے ہوش نہیں آیا ہے اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کے ہوسکتا ہے اس کی یادداشت پر اثر پڑا ہو۔” منیر صاحب نے حوصلہ کرتے وضاحت دی۔
“اس کے ساتھ جو لوگ تھے ان سے ماجرا جانا جائے۔” نواز نے ایک اور تجویز پیش کی۔
“ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ دونوں لڑکیاں ہیں اور آپ واقف ہوں گے عورتیں جرگے میں نہیں آتیں۔” شبیر صاحب نے جواب دیا۔
“نواز پہلے سردار مظہر شاہ کچھ کہیں تو ٹھیک رہے گا۔” نور محمد نے نواز کو ٹوکا۔
“اصول یہی ہے جان کے بدلے ہمیں ونی ہی چاہیے۔” سردار مظہر شاہ کی بات پر کئی چہروں کے رنگ اُڑے تھے جن میں ارحاب بھی شامل تھا۔
“ہم جانتے ہیں آپ کا نقصان بہت بڑا ہے لیکن۔۔ونی سے آپ کا بچہ واپس تو نہیں آجائے گا۔” شبیر صاحب پہلی بار میں ہی بات سن کر غصہ ہوئے تھے۔
“شبیر صاحب آپ بھول رہے ہیں وہ ایک انسان تھا اگر آپ کو اپنی بیٹی اتنی پیاری ہے تو ہمیں بھی اپنا بیٹا بہت عزیز تھا۔” جواد شاہ شبیر کی بات پر بپھر کر بولے۔
“اگر ہوتا تو یوں رات کے ایک بجے سڑکوں میں نشے کی حالت میں نہ مرتا۔” رافع نے طنز کیا۔
“جواد خاموش بیٹھو۔” مظہر شاہ نے داماد کو ٹوکا۔
“دیکھیں ہماری آپ سے کوئی دشمنی نہیں ہے، اصول کی بات کریں تو اصول یہی ہے جس سے ہوا ہے اس شخص کی بہن یا بیٹی لیکن اس کی بہن نہیں ہے۔” حیات خان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے کہا۔
“آپ کیا ہم سے یہاں مذاق کرنے آئے ہیں، آپ کے گھر میں بیٹی ہے اتنا ہم بھی جانتے ہیں۔” مظہر شاہ بھی اب ان کی بات کا برا مان گئے۔
“وہ بیٹی ہے مگر شبیر خان کی اور بلال منیر کا بیٹا ہے۔” حیات خان نے مظہر شاہ کی نالیج میں اضافہ کیا۔
“وہ کسی کی بھی بیٹی ہے مگر وہ حویلی کی بیٹی ہے اور ہمیں ونی میں چاہیے۔” مظہر شاہ اپنے فیصلے پر اٹکے ہوئے تھے۔
“وہ ہمارے خاندان کی اکلوتی بیٹی ہے اور وہ بھی آپ کو دے دیں یہ تو ناانصافی ہے۔” شبیر خان نے سنجیدگی سے کہا۔
“پیارے دادا جان ویسے نواز پہلے ہی شادی شدہ ہیں تو کیا لڑکی ونی میں آپ اپنے لیے لیں گے؟” کب سے خاموش بیٹھے ارحاب نے اچانک سے ٹونٹ بھرے لہجے میں کہا۔
“ارحاب۔۔۔تمہارے لیے ونی لے رہا ہوں۔” مظہر شاہ نے بھی پوتے کو کرارہ جواب دینے کے لیے ایسے ہی بات چھیڑ دی۔
اس بات پر وہاں موجود ہرشخص اپنی جگہ چپ ہوگیا تھا۔
“آپ بخوبی جانتے ہیں مجھے آپ کے یہ چونچلے پسند نہیں ہیں اس لیے مجھے بیچ میں مت گھسیٹیں۔” ارحاب نے ان کی بات پر چڑ کر کہا۔
“ارحاب میں نے کہ دیا مطلب کہ دیا بات ختم، وہ لڑکی ونی ہوگی اور تم اسے قبول کروگے۔” مظہر شاہ فیصلہ اس پر تھوپنے والے انداز میں بولے۔
“پیارے دادا جان اگر آپ چاہتے ہیں ایسا ہو تو میری کچھ شرائط ماننا پڑیں گی۔” ارحاب ایسے بولا جیسے پہلے ہی کسی موقع کے انتظار میں تھا۔
“ارحاب یہاں مذاق ہورہا ہے؟” مظہر شاہ نے پوتے کی حرکتوں پر زچ ہوتے پوچھا۔
“پیارے دادا جان اپنی زندگی کا سکون برباد کررہا ہوں آپ کی فرمانبرداری کرکے لوگوں کی بددعائیں لے رہا ہوں اتنا حق بنتا ہے۔” ارحاب نے انہیں جتایا۔
“ٹھیک ہے کہو۔” مظہر شاہ کو اب اس لڑکے کی بات ماننا ہی بہترین حل لگا۔
ارحاب کی یہی خاصیت تھی وہ مظہر شاہ جیسے لوگوں کو انگلیوں پر نچانا اچھے سے جانتا تھا۔
“پہلی شرط نکاح مسجد میں ہوگا، آپ،چاچو اور میرے یہ دونوں بھائی میرے ساتھ چلیں گے۔” ارحاب نے پہلی شرط ہی ایسی رکھ دی تھی جس پر وہاں کچھ لوگوں کو آگ ہی لگ گئی۔
“یہ کیا طریقہ ہے ہمارے گاؤں میں ونی کا نکاح جرگے میں ہوتا ہے اورلڑکی بھی وہیں آتی ہے ہمیں یہ منظور نہیں ہے۔” جواد شاہ نے غصے سے کہا۔
“وہ ونی میں آرہی ہے یا کبھی عام حالات میں آتی وہ ارحاب حیدر شاہ کی بیوی بننے جارہی ہے اور میں اچھے سے اپنے سے جڑی عورتوں کی عزت کروانا جانتا ہوں اس بات سے دادا جان واقف ہیں۔” ارحاب نے جواد شاہ کو دو ٹوک جواب دیا۔
“ٹھیک ہے ارحاب کی بات مانی جائے گی۔” مظہر شاہ نے اُنہیں بحث میں پڑتے دیکھ بیچ میں کہا۔
“دوسری شرط میری ماں کو میرے ساتھ حویلی سے باہر جانے کی اجازت ملے گی۔” ارحاب کی اگلی شرط نے مظہر شاہ کو بھی چونکا دیا۔
“ارحاب گھر کی باتیں جرگے میں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” مظہر شاہ نے خود پر ضبط کرتے کہا۔
“گھر کی بات نہیں ہے پورے گاؤں کی بات ہے بلکہ عورت کے حقوق کی بات ہے، غیرت اور ونی کی بات پر بیٹیوں کو سولی چڑھاتے آپ لوگوں کا دل نہیں کانپتا لیکن اگر مرد مرگیا تو عورت تاعمر کال کوٹھڑی میں بند رہے یہ کونسا انصاف ہے؟ اگر مجھے ونی مل بھی گئی پھر ہانیہ؟ اس کو آپ ہمیشہ کے لیے حویلی میں قید کردیں گے،اس کی مسکراہٹ چھین لیں گے، اسے رنگوں سے دور کردیں گے اس ناانصافی پر آج نہیں بولوں پھر کب بولوں؟ اس کے بھائیوں کو احساس نہیں ہے پر مجھے ہے کیونکہ میرے باپ نے مجھے عورت کی عزت کرنا سکھائی ہے۔” ارحاب ان کی بات پر بھڑک اُٹھا تھا۔
“اگر آپ لوگوں کو اعتراض نہ ہو تو اس معاملے میں میرے پاس حل ہے۔” اتنی دیر خاموش رہنے کے بعد بلآخر ان کی بحث کو دیکھتے ماہیر نے خاموشی توڑی۔
“حل؟ اس کا کیا حل ہوگا وہ میرے بیٹے کو کھاگئی ہے اور تم کہہ رہے ہو حل ہے۔” جواد شاہ سیخ پاہ ہوئے۔
“روحان کی منگ کا رشتہ ہمارے گھر میں کردیں۔” ماہیر نے جواد شاہ کی بات کو نظرانداز کرتے اپنی تجویز پیش کی۔
“ماہیر بیٹا آپ کے دماغ پر اثر ہوگیا ہے؟ ہمارے گھر میں مطلب کون؟” حیات خان پوتے کی بات پر حیرت میں بولے۔
“میں نکاح کرنے کو تیار ہوں۔” ماہیر کی جگہ رافع نے جواب دیا۔
“لیکن ابا میری بیٹی؟” طاہر شاہ نے رافع کی بات سن کر مظہر شاہ کو مخاطب کیا۔
“فکر مت کریں وہ ونی میں نہیں جائے گی وہ عزت و احترام سے آپ کے گھر سے ہی رخصت ہوگی۔” منیر صاحب نے طاہر شاہ کو تسلی دی۔
“ٹھیک ہے ہانیہ کا رشتہ رافع خان کو دیا جائے گا اور ارحاب کی شرط بھی مجھے منظور ہے۔” مظہر شاہ آج اپنے پوتے کے آگے کمزور پڑگئے تھے۔
“اس کا مطلب ہے ہم اپنے آخری فیصلے پر پہنچ چکے ہیں، شبیر خان کی بیٹی ارحاب حیدر شاہ کو ونی میں دی جائے گی اور شاہ خاندان کی بیٹی کا نکاح رافع منیر خان سے کیا جائے گا، جرگہ ختم ہوتا ہے۔” نور محمد نے جرگے کا آخری فیصلہ سنایا۔
اس فیصلے پر ماہیر نے زور سے آنکھیں میچی تھیں کئی آنسوں اس کے چہرے پر پھسلے تھے۔
“ماہیر۔۔۔مرد اِن محفلوں میں روتے اچھے نہیں لگتے۔” نواز نے اپنی جگہ سے اُٹھتے ماہیر پر طنز کیا تھا۔
“بیٹیوں کے نصیب اچھے اچھوں کو رولادیتے ہیں نواز شاہ خدا سے دعا ہے تمہیں کبھی بیٹی کا غم نہ ملے۔” رافع نے دوبدو جواب دیا۔
ماہیر اور رافع ساتھ حویلی کی جانب چل دیئے۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on