Epi 1″بابا۔۔ بابا مت کریں میری معصوم بہن کے ساتھ ایسا مت کریں بابا” وہ سفید چادر اوڑھے اپنے باپ کے پیروں میں گری تھی ۔”سامنے سے ہٹ جا سکینہ اپنے بابا کے لئے مشکل مت کرو” اسکے چچا نے اسکا بازو تھام اسے اپنے باپ کے قدموں سے اٹھانا چاہا۔”چچا سائیں آپ بابا کو سمجھائیں۔۔۔ وہ معصوم ہے نابالغ ہے اسکے ساتھ ایسا ظلم نا کریں وہ مر جائے گی “”تو کیا چاہتی ہو تم تمہارے بھائی کو دے آؤ ان ظالموں کو؟”اسکا باپ غصے سے دھاڑا تھا ماتھے کی رگیں ابھری ہوئی تھیں۔”بابا وہ سکینہ نہیں ہے سکینہ ڈھیٹ تھی جی گئی لیکن وہ مر جائے گی” سفید چادر سر سے سرکتے کندھے پر آگئی تھی ۔۔وہاں موجود عورتوں کے ہاتھ منہ کو گئے تھے آخر ایسا غضب آج تک نہیں ہوا تھا عورت کا پلو کیسے سر سے اتر سکتا تھا۔۔۔”ہٹ جاؤ سکینہ یہ بیٹی ہے ہمیں وارث نہیں دے گی مگر بیٹا ہمیں بچانے دو” سکینہ کو دھکا دیا وہ پندرہ سال آبرو کو گھیسٹتے آگے بڑھے تھے۔۔سکینہ کی آہ بکا کہیں پیچھے ہی رہ گئی تھی۔اسکی معصوم بہن نے روتے سسکتے اپنی بہن کو دیکھا۔”سکینہ مجھے نہیں جانا”دونوں ہاتھ پھیلائے وہ رو رہی تھی اور سکینہ وہ کچھ نہیں کر سکی۔۔۔____________________شام کے سائے ڈھلنے لگے تھے ایسے میں وہ مکمل تیار اس بڑے سے ہوٹل کے سامنے کھڑی تھی ۔اپنا اسکارف ٹھیک کرتے اس نے بیزاری سے اپنے موبائل کی جانب دیکھا جہاں روم نمبر شو ہو رہا تھا۔”ایسا منحوس باس آج تک نہیں دیکھا خود آرام کرکے مجھ جیسی حسین جوان جہاں لڑکی کو فائل دینے بھیج رہا۔۔۔غصے سے بڑبڑاتے وہ فائل کو مضبوطی سے تھامے اندر بڑھنے لگی جب اسکی نگاہیں سیاہ رنگ کی مرسیڈیز پر پڑی اندر بیٹھے شخص کو دیکھ وہ چونکی۔۔یہ وہی شخص تھا جسے اسے فائل پہچانی تھی۔”اللّٰہ تیرا شکر یہ آدمی جلدی آگیا ورنہ تو میں یہی پھنس جاتی”خود سے کہتے وہ اندر کی جانب بڑھی تھیریسیپشن پر اس نے اپنے آنے کی اطلاع دی جس پر اسے ویٹنگ روم میں بیٹھنے کا کہا گیا۔نوکری پیاری نا ہوتی تو وہ کبھی اتنا انتظار نہیں کرتی۔ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی نے فون کان سے لگاتے کسی کو کچھ کہا تھا جبکہ نگاہیں اس پر جمی تھیں۔جو اس وقت سیاہ فراک ٹراؤزر میں سیاہ کی اسکارف اپنے چہرے کے گرد باندھے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بڑی فرصت سے بیٹھی تھی جبکہ اسکے پاس ہی اسکا بڑا سا بیگ بڑا تھا ۔۔”مس سلوہ۔۔۔ آپ جائیں” ریسپششنسٹ کی آواز پر وہ شکر ادا کرتی اپنا بیگ سنبھالے اوپری منزل کی جانب بڑھی تھی۔اسے آج نو سے پہلے گھر پہنچنا تھا اور اس وقت گھڑی سات بجا رہی تھی۔مطلوبہ کمرے کے باہر کھڑے ہوتے اسنے دروازہ ناک کیا۔۔دوسری دستک پر اسے اندر آنے کی اجازت ملی تھی وہ اندر داخل ہوئی تو اسکے چہرے ہے تاثرات عجیب سے ہوئے کیونکہ سامنے ہی وہ بوڑھا بزنس میں سفید بنیان اور شارٹس میں صوفے پر پھیل کر بیٹھا کوئی مشروب پی رہا تھا۔”گڈ ایوننگ سر٫” اپنی ناگواری چھپائے اس نے سر کو زرا سا خم دیتے فائل صوفے کے سامنے موجود ٹیبل پر رکھی ۔”سر یہ فائل دیکھ لیں””اتنی بھی کیا جلدی سے سکون سے بیٹھو نا تھوڑی باتیں کرتے ہیں” اپنے بالوں سے خالی سر پر ہاتھ پھیرتے وہ للچائی نگاہوں سے اسے دیکھتے اسکا دماغ خراب کر گیا۔”میں یہاں باتیں نہیں کرنے آئی آپ کی فائل یہ رہی چلتی ہوں” اس بوڑھے آدمی کے کہتے اس نے جانا چاہا جب اچانک اسکا بازو اس بوڑھے آدمی کی گرفت میں آیا تھا۔”اتنی جلدی بھی کیا ہے” وہ شاید نشے میں تھا”ہاتھ چھوڑو””ارے میری جان غصہ کیوں ہوتی ہے؟””میں نے کہا ہاتھ چھوڑ ” وہ حتیٰ الامکان خود کو کنٹرول کر رہی تھی جاب کھونا نہیں چاہتی تھی مگر اب لگتا تھا یہ جاب بھی اسکے ہاتھ سے جانے والی ہے۔”میری بلبل پیاری میری بات” اس سے پہلے وہ آدمی اپنی بات مکمل کرتا اسکا ہاتھ اٹھا تھا اور اس آدمی کے گنجے سر پر بری طرح پڑا۔۔”ابے او بوڑھے ہاتھ چھوڑ بیغیرت کہیں کا شرم نہیں گوار انسان” اپنا بازو اس آدمی سے چھڑائے وہ دھاڑی تھی جبکہ اسکے گالی دینے پر اس آدمی کے ماتھے پر بل پڑے”تیری تو میں”وہ آدمی غصے سے اسکی جانب بڑھا تھا جب اپنی ایک لات اسکے پیٹ پر مارتے وہ پھرتی سے اپنا بیگ سمبھالے وہاں سے نکلی تھی۔۔تیزی سے بھاگتے وہ وہاں سے نکلی تھیجب اچانک سامنے آنے والے وجود سے بری طرح ٹکراتی وہ زمین بوس ہونے کو تھی جب مقابل نے سختی سے اسکی کلائی تھام اسے گرنے سے بچایا تھا۔۔اسکا موبائل چھوٹ کر کہیں دور جا گرا تھا۔وہ بس خوفزدہ سی ہوا میں معلق سامنے کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی۔ہوش آنے پر ایک جھٹکے سے اسکی کلائی آزاد کرتا وہ سیدھا ہوا تھا۔۔نگاہیں ماسک سے چھپے اس چہرے پر تھیں”اندھے ہو کیا دیکھ کر نہیں چل سکتے تھے میرا موبائل گرا تھا” اسکا شکریہ ادا کرنے کے بجائے بدتمیزی سے کہتی وہ اپنا موبائل لئے غصے سے بھری باہر بڑھ گئی جبکہ اس نے حیرت سے اسے جاتے دیکھا تھا۔”اتنی بدتمیز ؟”سر جھٹکتے وہ آگے بڑھا۔”ہاں میری فلائٹ ہے میں بس آدھے گھنٹے میں ائیرپورٹ پہنچ رہا ہوں”وہ مقابل کو کہتے آگے بڑھا تھا۔___________________”ذلیل منحوس بڈھا قبر میں پاؤں ہیں اور لڑکی چاہیے ” اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ اس وقت کیا کر جائے۔اس کی جگہ کوئی دوسری لڑکی ہوتی تو اب تک رو رہی ہوتی مگر وہ اس وقت انتقام کے بارے میں سوچ رہی تھی کچھ دماغ میں آتے ہی وہ تیزی سے پارکنگ کی جانب بڑھی جہاں اتنی گاڑیوں میں اسے وہ ایک واحد سیاہ مرسڈیز نظر آئی۔”میں بھی دیکھتی ہوں یہ بڈھا اب کیسے یہاں سے جائے گا،” غصے سے کھولتے اس نے آس پاس نگاہیں دوڑائیں اور پھر بیگ سے پیچ کس نکالا۔۔اپنی حفاظت کے لئے وہ چھری اور ایسے آلات ساتھ رکھتی تھیاپنے چہرے پر ماسک ٹھیک سے لگاتے وہ مزے سے بیٹھتے اس کار کے ٹائر کا کچرہ کرنے لگی۔۔وہ مگن سی اپنے کام میں مصروف تھیجب پارکنگ میں آتا وہ شخص اسے دیکھ چونکا۔۔”ہے یو کیا کر رہی ہو ؟” وہ وہیں سے چیخا تھا”مارے گئے ” بنا پلٹے وہ اپنا بیگ اٹھائے تیزی سے دوسرے راستے کی جانب بھاگی مگر وہ آدمی اچانک اسکے سامنے آیا تھا گرنے سے بچنے کے لئے اس نے مضبوطی سے اسکی شرٹ تھامی کو آگے سے پھٹنے کے ساتھ اسکے ہاتھ پر لگی سیاہی پر اسکی سفید شرٹ پر کر گئی۔”یو۔۔ تمم۔۔۔۔””بعد میں حساب کرتے ہیں ” اسے یونہی ہونق بنا چھوڑ وہ پوری پھرتی سے وہاں سے نکلی تھی جبکہ پارکنگ میں کھڑا شخص آنکھیں پھاڑے اپنی شرٹ کو دیکھ رہا تھا پانچ منٹ بعد اسکی میٹنگ تھی اور وہ اس حال میں تھا۔۔۔اس سے پہلے وہ اسکے پیچھے جاتا بجتے موبائل نے اسکے قدم روکے تھے غصے سے کھولتا وہ اندر بڑھ گیا۔۔۔____________________سیاہ آسمان پر پھیلی سیاہی کو سمیٹتی سورج کی زعفرانی کرنیں چاروں اور پھیلنے لگی تھیں۔۔رات ہوئی تیز بارش کے بعد بھیگی سڑکوں پر سورج پوری شان سے اپنی روشنی نچھاور کرتا زمین پر رہنے والوں کو طمانیت بخش رہا تھا۔ایسے میں سردیوں کی دیوانی وہ میر ہاؤس کی چھت پر رکھے جھولے پر پیر پسارے بیٹھی دھوپ سینک رہی تھی۔۔چاکلیٹ براون بال میسی سے جوڑے میں قید تھے۔گھنیری پلکیں عارض پر سایہ افگن تھیں۔گود میں دھری بک پر ایک بے بس نظر ڈالتے اس نے چھت کے اطراف لگے گملوں پر نظر دوڑائی۔۔رات کی بارش نے انہیں بھی نکھار دیا تھا ۔”اسوہ۔۔۔ کہاں ہو؟””امی میں یہ رہی”اپنے نام کی پکار پر جھولے سے اترے چپل پہنتے وہ جلدی سے نیچے بڑھی جہاں سیڑھیاں چڑھتیں عاصمہ بیگم اسے دیکھ رکیں۔”اتنی صبح صبح چھت پر کیا کر رہی تھیں اسوہ؟ میں کب سے نیچے دیکھ رہی ہوں””سردی لگ رہی تھی تو دھوپ سینکنے گئی تھی نا”اس کی بات پر انہوں نے گھور کر اسے دیکھا نومبر کے مہینے میں وہ اپنا نرم بستر چھوڑ چھت پر دھوپ سینک رہی تھی۔”اچھا نا اب بھوک لگ رہی ہے ناشتہ تو دے دیں”لاڈ سے کہتے وہ ان کے پاس سے گزری مگر ان کی اگلی بات پر اس کے قدم تھمے تھے۔۔”حیدر ابھی گھر میں ہی ہے اسوہ”اس ایک شخص کا نام سن کر اسکا حلق تک کڑوا ہوا تھا۔۔”مما مجھے ابھی بہت نیند آرہی ہے پلیز میں دس منٹ کی نیند لے لوں بس”انہیں کہتے وہ چھپاک سے ان کی نظروں سے اوجھل ہوئی تو انہوں نے اپنا سر پیٹا تھا۔میر حیدر کا نام سن وہ ایسے ہی اپنی جان چھڑا کر بھاگتی تھی۔سر جھٹکتے وہ نیچے بڑھی تھیں جہاں سب ان کے منتظر تھے۔۔_________________کمرے میں جالی دار پردوں سے چھن کر آتی سنہری روشنی کا بسیرا تھا۔شیشے کے سامنے کھڑے اس نے خود پر اسپرے کیا گھڑی کلائی میں باندھتے اس نے ایک نظر گھڑی کی جانب دیکھا۔۔اپنی فائلز بیگ میں رکھتے وہ گول شیشے کا گولڈن فریم آنکھوں پر لگاتے سیدھا ہوا تبھی کمرے کا دروازہ ناک ہوا تھا۔”آجاؤ “اسکی اجازت ملتے ہی دو چہرے نمودار ہوئے تھے۔۔ایک میر عالی اور ایک رجا میر کا۔۔”گڈ مارننگ بھائی””مارننگ “صوفے پر بیٹھتے اس نے سامنے ٹیبل پر رکھا لیپ ٹاپ اٹھایا جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے اس کے سامنے بیٹھے تھے۔میر حیدر نے ایک نظر گھڑی میں ٹائم دیکھا اور پھر دروازے کی جانب۔۔”اسوہ کہاں ہے؟””بھائی وہ شاید سو رہی ہے”رجا کے جواب پر اسکے ماتھے پر بل پڑے تھے۔”تم دونوں ابھی جاؤ اور آج آف ہے تم دونوں کا”اس کے لفظوں نے جیسے ان دونوں کو ہفت اقلیم کی دولت تھمائی تھی۔چہرے پر پھوٹتی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔۔”اوکے بھائی “اسکی طرف سے اجازت ملتے ہی وہ دونوں ایسے بھاگے تھے جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور وہ بس انہیں جاتے دیکھتا رہ گیا۔”حد ہوتی ہے لاپرواہی کی ایسے پڑھیں گی یہ محترمہ” غصے سے بڑبڑاتے وہ اپنا بیگ لئے نیچے ڈائننگ ایریا میں آیا تو ڈائننگ ٹیبل پر پہلے سے سب براجمان تھے۔سب کو مشترکہ سلام کرتے وہ اپنی مخصوص نشت پر جا بیٹھا۔”حیدر ابتسام پہنچ گیا ؟ واپس کب تک آئے گا؟”ابرار صاحب کے سوال پر اس نے جوس کا گلاس سائیڈ رکھا تھا۔”بڑے پاپا میری بات ہوئی تھی آج رات کی فلائٹ سے جائے گا اور شاید اسے وہاں زیادہ دن لگے گیں””بہن کی شادی ہے اور ان صاحب کو فرصت ہی نہیں مل رہی کہ گھر آجائیں “”آجائے گا بھائی وہ کام کے سلسلے میں ہی تو گیا ہے ” فضل صاحب نے اپنے لاڈلے بھتیجے کی سائیڈ لی جس پر وہ سر جھٹک کر پلیٹ پر جھک گئے”آج شام تم سب تیار رہنا رہنا شاپنگ پر چلنا ہے””سچ میں پاپا؟”فضل صاحب کی بات پر سب سے پہلے راحمہ چہکی وہیں شاپنگ پر جانے کا سن میر حیدر لمحے کو تھما اور پھر اپنی جگہ سے اٹھتے سب کو خدا حافظ کہتے یونیورسٹی کے لئے نکل گیا۔۔۔اسکے جاتے ہی وہاں ایک بار پھر شادی کا موضوع شروع ہوا تھا جو آج کل سب کا پسندیدہ موضوع بنا ہوا تھا۔_______________دبئی کے برج العرب ہوٹل کے ایک روم میں میٹنگ جاری تھی۔۔اپنی سیٹ پر بیٹھا وہ بہت توجہ سے مقابل کی پریزنٹیشن سن رہا تھا۔سیاہ آنکھوں میں سنجیدگی تھی جبکہ چہرے پر سرد مہری چھائی تھی۔بلیک ٹیکسڈو میں ملبوس وہ مغرور نقوش والے شخص پر کسی عربی شہزادے کا سا گمان ہوتا تھا۔وہ وہاں موجود کئی نگاہوں کا مرکز تھا مگر اسے رتی برابر پرواہ نہیں تھی۔اپنی باری آنے پر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور پریزینٹیشن دینے لگا اسکی آواز کا ٹہراؤ مقابل کو سننے پر مجبور کر دیتا تھا۔۔اپنی پریزنٹیشن ختم کرتے وہ ریلکس سا اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا کیونکہ اس میٹنگ کے نتائج وہ اچھے سے جانتا تھا۔اور پھر وہی ہوا جیسا اس نے سوچا تھا وہ ایک بار پھر پراجیکٹ حاصل کرنے کے میں کامیاب ہوا تھا۔چہرے پر فتح کی چمک لئے وہ میٹنگ روم سے باہر آیا تو سامنے سے اسے عائلہ آتی نظر آئی۔ریڈ گھنٹوں تک آتا مغربی لباس ۔۔”فائنلی آپ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا مسٹر میر ابتسام” خوش اخلاقی سے کہتے اس نے اپنا ہاتھ ابتسام کی جانب بڑھایا جسے نظر انداز کرتے اس نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا۔”مبارک ہو مسٹر ابتسام “”تھینکس عائلہ محمود””اب تم اتنا بڑا پراجکٹ جیتے ہو اس خوشی میں پارٹی تو بنتی ہے نا؟”ابتسام کے کندھے پر ہاتھ رکھتے وہ ایک ادا سے کہتی اسکا ضبط آزما رہی تھی ۔۔عائلہ کا انداز۔۔ ابتسام نے محض ایک لمحے اسے دیکھا۔آنکھوں میں سرد مہری والا تاثر ابھرا تھا۔”میں ہر کسی کے ساتھ اپنی کامیابی سیلیریٹ نہیں کرتا اور ایسے لوگوں سے تو بالکل نہیں جنہیں میں پسند نہیں کرتا” اسکا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹاتے اگر بڑھ گیا جبکہ احساس توہین سے عائلہ محمود کا چہرہ سرخ ہوا تھا ۔۔__________________سورج کی سنہری کرنوں نے سفید سنگ مرمر سے بنے میر ہاؤس کو کسی ہیرے کی طرح چمکایا ہوا تھا۔میر ہاؤس عبد الرحمٰن میر کی ملکیت تھا۔۔میر ابرار اس گھر کے سب سے بڑے بیٹے تھے جن کی شادی حدیقہ بیگم سے ہوئی تھیمیر ابتسام ان کا سب سے بڑا بیٹا تھا اسکے بعد ،ادیبہ اور رجاان سے چھوٹے فضل میر جن کی شادی ثمرین سے ہوئی تھی۔حیدر ،عالی اور راحمہ ان کے بچے تھے۔عبد الرحمن میر کے سب سے چھوٹے بیٹےحسن میر۔۔۔ایک حادثاتی موت کا شکار ہوئے اور اپنے پیچھے عاصمہ بیگم اور اسوہ میر کو چھوڑ گئے ۔۔اتنے سال گزر گئے تھے وقت تیزی سے گزرا تھا بچے بچپن سے لڑکپن کی دہلیز پر قدم رکھتے گئے اور میر ہاؤس کی رونقیں بحال ہوتی گئیں۔اور اب اس رونق ادیبہ میر کی شادی کی صورت مزید بڑھی تھی۔۔تینوں خواتین بی بی جان( نرگس بیگم ) کے ساتھ لاونج میں جمع شادی کی تیاریاں ڈسکس کر رہی تھیں۔”عاصمہ اسوہ کہاں ہے آج نظر نہیں آرہی ؟””امی وہ کالج گئی ہے “”بچیوں کو کہو اب تو چھٹیاں لے لیں شادی میں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں””بی بی جان آپ یہ بات اسوہ کے سامنے بولیں گی نا وہ تو خوشی سے ناچنا شروع ہو جائے گی اوپر سے سام بھیا بھی نہیں خوب فائدہ اٹھا رہی ہے وہ ان کی غیر موجودگی کا”سینٹر ٹیبل پر چائے کی ٹرے رکھتے ادیبہ نے شرارت سے کہا جس پر سبھی خواتین مسکرا اٹھیں۔۔”بس ایسے ہی میری بچی کو ڈرا کر رکھا ہوا ہے اب بتاؤ چڑیا نہیں چہچہائے گی تو کون چہچہائے گا؟””آپ کے لاڈ نے اسے بگاڑ دیا ہے امی آج بھی حیدر سے بچنے کے لئے کمرے میں چھپ کر بیٹھی تھی ایسے کرے گی پڑھائی وہ؟””پڑھ لے گی عاصمہ ابھی چھوٹی ہے سمجھ جائے گی”حدیقہ بیگم کی بات پر وہ چپ ہوگئیں اب وہ کیا کہتی کہ وہ تو اسکے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتی تھیں مگر یہاں تو آثار ہی نہیں تھے۔سوچوں سے سر جھٹکتے وہ سب کی جانب متوجہ ہوگئیں۔۔__________________کراچی کی اس یونیورسٹی اس وقت اسٹوڈنٹس کا کافی رش تھا سب اپنی اپنی کلاسس میں جا رہے تھے ایسے میں اسی یونیورسٹی کی ایک کلاس میں کھڑکی کے پاس بیٹھی اس اسٹوڈنٹ کی نگاہیں بار بار دروازے کی جانب اٹھ رہی تھیں۔”یار حیدر سر کب آئیں گے میں صرف ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے یہاں آئی ہوں اور آج وہ لیٹ ہوگئے”ثانیہ نے ڈور کی جانب دیکھتے اپنے برابر بیٹھی لڑکی کو کہا۔”وہ لیٹ نہیں تم جلد آگئی ہو ثانیہ سر اپنے ٹائم پر ہی آئینگے””افف یہ انتظار ” ابھی اس نے اتنا ہی تھا کہ کلاس میں ایکدم ہی سب الرٹ ہوکر بیٹھے تھے تبھی کلاس کا ڈور اوپن ہوا تھا۔مضبوط قدموں سے چلتا حیدر ڈائس کے سامنے آکر رکا تو ثانیہ نے حسرت سے اسے دیکھا۔بلیک ڈریس میں ملبوس وہ بالوں کو سیٹ کئے اسکے سامنے تھا۔بائیں کلائی میں پہنی گھڑی آنکھوں پر لگا گول فریم کا گولڈن گلاسس جو اسکی کائی رنگ آنکھوں پر بڑے ججتے تھے۔۔کھڑے مغرور نقوش ہلکی بڑھی شیو ،شہزادوں کی سی آن بان اور شخصیت رکھنے والا حیدر میر اس کے سامنے تھا مگر اس تک رسائی ناممکن تھی۔۔مختصر سے تعارف کے بعد اب وہ لیکچر اسٹارٹ کرچکا تھا۔”کیا آپ سب کا کوئی سوال؟”نوٹس پر نگاہیں جماتے اس نے کلاس میں بیٹھے سبھی اسٹوڈنٹس کو مخاطب کیا جس پر سب کے نفی میں سر ہلایا۔کلاس آف ہوچکی تھی اس سے پہلے وہ کلاس آف نکلتا ثانیہ تیزی سے اسکے پاس آئی تھی۔”سر آپ سے ایک بات کرنی تھی ؟”جی؟””سر مجھے اکثر پوائنٹس سمجھ نہیں آتے کیا آپ مجھے پرسنل ٹیوشنز دے سکتے ہیں؟””سوری مگر میں ٹیوشنز نہیں دیتا” اس نے نرمی سے معذرت کی۔”اوو تو کیا آپ کا واٹس ایپ نمبر مل سکتا ہے یا آپ یونی میں ہی مجھے اکیلے میں لیکچر سمجھا سکتے ہیں؟””جنہیں پڑھنا ہوتا ہے نا وہ کلاس کے مختصر دورانیے میں بھی پڑھ ہی لیتے ہیں انہیں ٹیچرز کے پرسنل ٹائم یا نمبر کی ضرورت نہیں پڑتی اس لئے اگلی بار لیکچر ٹائم پر میری شکل سے زیادہ بورڈ کو دیکھیں گی تو مجھ سے ریکوسٹ کرنے کی نوبت نہیں آئے گی اگر پھر بھی پوائنٹس میں مسئلہ ہو تو آپ مس نتاشہ کے پاس جا سکتی ہیں فیمل اسٹوڈنٹس وہ ہینڈل کرتی ہیں” تحمل سے اسکی طبعیت صاف کرتا وہ لمبے ڈاگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا جبکہ اس ٹھنڈی بےعزتی پر ثانیہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔۔_______________میر ہاؤس میں اس وقت ہلچل سی مچی ہوئی تھی۔۔وجہ ان سب کی تیاریاں تھیں جو ختم ہونے میں نہیں آرہی تھیں۔۔”چلو بھی لڑکیوں کیا ہوگیا ہے شاپنگ پر جانا ہے شادی پر نہیں””اففف امی شادی کی شاپنگ کے لئے تو جانا ہے نا تیار ہونے دیں”اسوہ کی آواز پر کمرے میں داخل ہوتی عاصمہ بیگم نے اسے گھورا۔۔سیاہ لباس میں وہ نک سک سے جانے کو بالکل تیار اب آنکھوں میں کاجل کی لکیر کھینچ رہی تھی۔”اسوہ “”بس نا امی ہوگیا میں تیار ہوں”پاس پڑا دوپٹہ اوڑھتے وہ ان کے پاس آئی جس پر انہوں نے اسکا ہاتھ تھاما تھا۔”اسوہ شاپنگ پر””شاپنگ پر جا رہے ہیں مگر بڑے پاپا اور ڈیڈ کا زیادہ خرچہ نہیں کروانا ہے آئی نو امی ” مسکرا کر کہتے وہ باہر کی جانب بڑھی تو اپنی اداسی چھپائے وہ اسکے پیچھے ہی باہر نکلی تھیں ۔”اوہو بڑے صاف لگ رہے ہو عالی صاحب سب خیریت تو ہے سورج آج پتا نہیں کس سمت غائب ہوا ہے؟”صوفے پر تیار عالی کو دیکھ سیٹی بجاتے وہ شرارت سے کہتی عالی کے آگ لگا گئی.”جو خود جیسے ہوتے ہیں وہ ویسے ہی دوسروں کو سمجھتے ہیں””ہاں لیکن میرے جیسا جینئس یہاں کوئی نہیں ” اترا کر کہتے وہ صوفے میں دھنسی تھی کہ تبھی مین گیٹ سے اسے حیدر آتا دیکھائی دیا۔۔”اوو شٹ یہ ہلاکو خان کہاں سے ٹپک پڑے بھاگ اسوہ ورنہ تو تو گئی”میر حیدر کو دیکھ وہ فوراً سے کھڑی ہوئی تھی مگر برا ہو قسمت کا کہ وہ اسے دیکھ چکا تھا۔۔”کہاں جارہے ہیں سب ؟”سب کو تیار دیکھ وہ اپنا بیگ صوفے پر رکھتے خود بھی وہیں بیٹھا ۔”شاپنگ “”اور تم کہاں جا رہی ہو ؟” حیدر کی توپوں کا رخ اچانک ہی اسکی جانب ہوا تو وہ سٹپٹائی تھی۔۔”میں بھی شاپنگ””کوئی ضرورت نہیں ہے چچی آپ اسے بعد میں لے جائیے گا ابھی کالج میں ٹیسٹ ہیں اور آج صبح کا ٹیسٹ اسوہ نے نہیں دیا””مگر مجھے یاد ہے امی پلیز ” وہ رو دینے کو تھی۔”حیدر “ثمرین بیگم نے اسے کچھ بولنا چاہا مگر وہ نفی میں سر ہلا گیا۔”آگے اچھی یونی میں ایڈمیشن دلانا ہے تو ابھی پڑھائی کرنی پڑے گی اسوہ دو منٹ میں میرے روم میں بکس لے کر پہنچو””جاؤ اسوہ تم بعد میں چلنا ہمارے ساتھ” عاصمہ بیگم کے حکم کے بعد بھلا وہ کچھ کر سکتی تھی۔ایک نظر بے بسی سے سب پر ڈالے وہ بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو لئے پیر پٹختی اوپر بھاگی تھی جبکہ ثمرین بیگم نے تاسف سے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا ۔”کیا ضرورت تھی اسے روکنے کی ایک دن کی چھٹی کی اجازت سب کو ہوتی ہے””انہیں نہیں ہوتی جو پڑھائی میں زیرو انٹرسٹ شو کریں اس لئے آپ لوگ جائیں اسے میں خود بعد میں لے جاؤں گا”انہیں کہتا وہ خود اپنے روم کی جانب بڑھا تھا جبکہ باقی سب اسوہ کے لئے افسوس کرتے شاپنگ پر روانہ ہوئے تھے۔جبکہ وہ۔۔ اپنے کمرے میں بیڈ پر پڑی میر حیدر فضل کو ناجانے کون کون سی صلواتیں سنا چکی تھی۔۔-میر ہاؤس میں اس وقت سناٹا چھایا ہوا تھا۔لاونج میں بیٹھی وہ منہ بسورے کتاب کر جھکی ہوئی تھی آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھیں جنہیں میچتے وہ اپنے آنسو بہنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔۔حیدر شاید کچن میں تھا۔۔”کافی کی جگہ زہر پی لیں نا تاکہ میری زندگی آسان ہو” غصے سے بڑبڑاتے اس نے پڑھنا چاہا مگر یہ دل ۔ آج پڑھنے کر آمادہ نہیں تھا۔۔”کچھ کہا تم نے؟”عقب سے آتی حیدر کی آواز پر اسکے ہاتھ میں موجود پین چھوٹ کر گرا۔۔گھبرا کر اس نے حیدر کو دیکھا جو کمرے کی دہلیز پر کافی کا مگ تھامے کھڑا تھا۔۔”میں کیا کہوں گی؟””ہاں جو تمہارے حالات ہیں اسکے بعد تمہارا بولنا بنتا بھی نہیں ہے” صوفے پر بیٹھتے وہ اب اسکا ٹیسٹ پیپر دیکھنے لگا۔۔”میرے حالات بہت سے لوگوں سے اچھے ہیں” جل کر کہتے اس نے واپس سے کتاب سے چہرہ چھپایا۔۔”ہاں وہ مجھے دیکھ رہا ہے زرا سی بھی شرمندگی نہیں ہوتی نا تمہیں ایسے مارکس لانے پر؟”وہ اسکے پرانے ٹیسٹ پیپر کھولے بیٹھا اسوہ کا خون کھولا رہا تھا۔”مجھے کیوں شرمندگی ہوگی کون سا میں اٹھائیس کی ہونے والی ہوں اور ابھی تک شادی نہیں ہوئی”اسکی بات پر پیج پلٹاتا ہاتھ تھاما۔۔”کیا کہا تم نے ابھی ؟”اسوہ نے بےاختیار دانتوں تلے لب دبایا۔۔”کچھ بھی تو نہیں کہا””گڈ کہنا بھی نہیں تھا اس چیپڑ کے پانچ سوال ابھی کے ابھی کرو””حیدر بھائی پلیز۔۔ یہ بات نہیں ہوئی تھی آپ نے دو سوال بولے تھے ” وہ بوکھلا ہی تو گئی تھی۔۔حیدر نے تاسف سے اسے دیکھا۔”اسوہ اگر تمہاری سپلی آئی نا تو یاد رکھنا تمہارے ساتھ فضول خرچے بند۔۔ اس لئے تمیز سے بیٹھ کر اپنا یاد کرو” اسے دھمکی دیتا وہ اپنا لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا۔۔اسوہ نے اس وقت کو کوسا جب وہ اس کھڑوس انسان کے لئے بکواس کر رہی تھی۔۔”جتنی دیر کرو گی سوال بڑھتے جائیں گے” اسے سوچوں میں گم دیکھ وہ بولا۔”آپ کیا چاہتے ہیں میں سانس لینا چھوڑ دوں کر تو رہی ہوں یاد “..”سب کو جانے دیا اور مجھے روک دیا ہونہہ” غصے سے بڑبڑاتے وہ سارا دھیان پڑھائی پر لگانے لگی دل بری طرح خراب ہو رہا تھا۔بار بار پلکیں جھپکے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی وہ رخ ہی موڑ گئی۔۔حیدر نے لیپ ٹاپ سے نظر اٹھائے اسے دیکھا اور پھر واپس اپنے کام میں لگ گیا۔۔___________________لاونج میں اب بھی ویسا ہی سناٹا چھایا ہوا تھا جب شور کی آواز نے خاموشی فضا میں ارتعاش پیدا کیا ۔شور کی آواز پر اس نے سر اٹھایا آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ایک ایک کر گھر کے سبھی افراد گھر میں داخل ہو رہے تھے۔۔”ارے اسوہ ابھی تک پڑھ رہی ہے” صوفے پر بیٹھتے رجا نے مصنوعی حیرت سے اسے دیکھا۔”میرا ٹیسٹ ہوگیا ہے” بنا اسکی بات کا جواب دئیے اس نے خاموشی سے پیپیر حیدر کے سامنے رکھا اور اپنا سامان سمیٹنے لگی۔۔حیدر نے تعجب سے اسے دیکھا۔۔”اسوہ یار اتنا مزہ آیا تم نے مس کر دیا پتا ہے ہم آئسکریم بھی کھانے گئے” راحمہ اب اسے ان کی تفصیل دے رہی تھی۔۔ مگر وہ سن نہیں رہی تھی اسکا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔۔ثمرین بیگم نے ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھا انہیں حیدر پر غصہ آیا۔۔حیدر خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا جو اب اپنا سامان سمیٹتے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔”اسوہ کہاں جا رہی ہو بیٹا تمہارے لئے آئسکریم لائے ہیں وہ تو کھا لو””بڑی مما میرا دل نہیں عالی کو دے دیں” اپنا جواب دیتے وہ تیزی سے وہاں سے نکلی تھی۔سب نے حیرت سے اسے جاتے دیکھا۔۔اسوہ اور آئسکریم کے لئے انکار۔۔۔”لائیں مما۔۔ یہ مجھے دیں””عالی اپنا سامان سمیٹو اور کمرے میں جاؤ رجا تم بھی جاؤ ویسے ہی بہت دیر ہوگئی ہے۔۔”ان کے سختی سے کہنے پر وہ دونوں منہ بسورے اندر بڑھے باقی سب دوسری گاڑی میں تھے۔”کیا ملا حیدر تمہیں ،؟”ان کا انداز ایسا تھا حیدر نے انہیں ایسے دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کیا میں نے کچھ کیا ہے؟””اتنے انجان ہو نہیں جتنا بننے کی کوشش کر رہے ہو اس بچی کی خوشی خراب کر کے اگر دلی سکون مل گیا ہو تو اپنا یہ سامان سمیٹ کر کمرے میں جاؤ “درشتگی سے کہتی وہ اسے مسکرانے پر مجبور کرگئیں۔۔”اتنے بڑے بیٹے کو ڈانٹ رہی ہیں کل کو وہ بغاوت بھی کر سکتا ہے””کر کے تو دیکھائے ٹانگیں توڑ دونگی میں “وہ آج بخشنے کے بالکل بھی موڈ میں نہیں تھیں۔۔”سوچ لیں میں لنگڑا ہوجاؤں گا””باغی بیٹے سے لنگڑا بیٹا اچھا” ان کی بات پر حیدر کی آنکھیں پھیلیں۔”یہ اب زیادتی کر رہی ہیں آپ میرے ساتھ “”اور جو تم نے آج اس بچی کے ساتھ کیا وہ ٹھیک تھا؟””وہ ضروری تھا امی “”اگر ضروری تھا تو تمہیں عالی اور رجا کو بھی روکنا چاہیے تھا اصول سب کے لئے ایک رکھو حیدر ورنہ نا رکھو”اس سے پہلے وہ کچھ کہتا باقی سب کی آمد پر وہ کچھ کہہ نا سکا۔۔______________
Ishq Yaran By Fari Islam Episode 1

