Latest Novel Office Based Police Officer Based Uncategorized

Ishq Yaran By Fari Islam Episode 2

عشق یاراں قسط 2آج وہ اکیلے ہی کالج آئی تھی اسکا سیکنڈ لاسٹ پیپر تھا۔۔ رجا اور عالی کا آج آف تھا وہ پیپر دے کر باہر آئی تو سامنے ہی حیدر کو گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا پایا ۔اسے دیکھ اسکا منہ ایسے بنا کیسے کڑوا بادام چبا لیا ہو۔۔”اسوہ یار یہ تمہارے بھائی ہیں نا؟”اسکے ساتھ چلتی ثمرہ نے اشتیاق سے اس سے پوچھا البتہ نگاہیں حیدر کے چہرے پر مرکوز تھیں۔”بھائی۔۔ ایسے بھائی بنانے کا مجھے کوئی شوق نہیں میرے بھیا صرف ایک ہی ہیں وہ ہیں ابتسام میر”اس کے جل کر کہنے پر ثمرہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔”اچھا سمجھ گئی میں بھی پاگل ہوں اتنے ہینڈسم لڑکے کو کوئی کیوں بھائی بنانے لگا۔۔۔؟””ہینڈسم ؟ لڑکا؟” اسوہ نے اسے ایسے دیکھا جیسے اسکی دماغی حالت پر شبہ ہو۔۔”ہاں تو اور کیا؟””بہن آنکھیں کھول کر دیکھو پہلے تو وہ لڑکے نہیں آدمی ہیں اور ہینڈسم ؟ کبھی تم نے میرے سام بھائی کو دیکھا ہے یہ تو ایک نمبر کے سڑو آدمی ہیں”ثمرہ بس اسے دیکھ کر رہ گئی اس سے پہلے وہ کچھ کہتی اسوہ اسے بائے کہتی گاڑی کی طرف بڑھ گئی ۔”پیروں میں کیا کچوے کے پیر لگا لئے ہیں ؟” حیدر کی بات پر اس نے ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھا۔”آپ کیوں آئے ہیں مجھے لینے ؟””گاڑی میں بیٹھو فضول باتوں کو وقت نہیں میرے پاس” اس نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا اس ٹھنڈی بے عزتی پر وہ کھول کر رہ گئی۔”آپ کیا الگ سے دعوت دوں بیٹھو ؟””مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ گھر ” وہ برا ہی تو منا گئی تھی ایک تو اسے شاپنگ پر نہیں جانے دیا اوپر سے رعب بھی اسی پر جمانا۔۔”اسوہ مجھے آفس جانا ہے بیٹھو “”تو جائیں میں نے نہیں کہا تھا مجھے لینے آئیں”غصے سے کہتے وہ پیر پٹختے آگے بڑھتی حیدر کا دماغ گھما گئی تھی۔غصے سے گاڑی سے اترتے وہ ایک جست میں اس تک پہنچتا اسکا بازو پکڑے گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔”حیدر بھائی ہاتھ چھوڑیں میرا یہ کیا بدتمیزی””خدا کی قسم اسوہ اگر اب تمہارا منہ بند نہیں ہوا نا تو دیکھنا کیا کرتا ہوں میں تمہارے ساتھ ” اسے دھمکی دیتا وہ اسے اپنے ساتھ گھیسٹتے اسے گاڑی میں زبردستی بیٹھاتا اپنی جگہ پر بیٹھا اسوہ نے خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔اس نے آج سے پہلے حیدر کو اتنے غصے میں کبھی نہیں دیکھا تھا زبان تالو سے لگ چکی تھی۔اس نے گردن موڑ حیدر کو دیکھا جس کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا۔۔ اس سے ڈرتے وہ اب اپنی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگی۔۔_____________صبح کی تازہ تازہ ہوا سے اسکے بال کندھے پر بکھر رہے تھے وہ آج سویرے ہی گھر سے نکل آئی تھی اور اب آفس نے باہر کھڑی کاشان کی کزن کا ویٹ کر رہی تھی جو اپنے مطلوبہ وقت پر آتے ہی اسے اپنے ساتھ لئے اندر بڑھی۔۔اتنا بڑا اور شاندار آفس تھا مگر وہ ایسی خوبصورتی سے کبھی بھی مرعوب نہیں ہوتی تھی۔انیقہ نے اپنے ڈپارٹمنٹ ہیڈ سے اسکی بات کروائی اسے ملوایا ۔سب کچھ ٹھیک ہوگیا تھا۔بالآخر ایک مختصر سے انٹرویو کے بعد اسے انیقہ کی پوزیشن مل گئی تھی ان تین مہینوں کی تنخواہ بھی اسے ہی ملنی تھی یہ سب سے بڑا ریلیف تھا ورنہ اسے یہ پریشانی لاحق تھی کہ اگر متین صاحب کو پتا چلتا تو وہ خود نوکری ڈھونڈھنے کی کوشش کرتے وہ نہیں چاہتی تھی اسکے ابا اب کوئی کام کریں ۔وہ گھر پر رہ کر جتنا کرتے تھے بہت تھا۔”انیقہ آپی ایک بات پوچھوں ؟””ہاں پوچھوں نا؟” اسے کام سمجھاتے انیقہ نے اسکے پوچھنے پر سر اٹھا کر اسے دیکھا۔”کیا آپ کے باس بہت کھڑوس ہیں؟””کھڑوس؟ حد سے زیادہ کھڑوس۔۔ ایک غلطی برداشت نہیں کرتے بندے کو سیدھا فائر کر دیتے ہیں میں تو بہت محتاط طریقے سے کام کرتی تھی اور پلیز تم بھی ایسے ہی کام کرنا””وہ تو آپ بے فکر رہیں ایسا کام کروں گی تو باس خوش ہو جائے گا””انہیں خوش کرنا اتنا آسان نہیں ہے ہر وقت شکل پر بارہ بجے رہتے ہیں کبھی کسی ایمپلائی سے ہنس کر بات نہیں کرتے “”کیوں کیا ان کی بیوی انہیں چھوڑ گئی ہے” آس پاس دیکھتے اس نے شرارت سے پوچھا۔”شش۔۔ کوئی سن لے گا سلوہ۔۔ “”ہاں تو میں ڈرتی تھوڑی ہوں “”لیکن ڈرو اگر یہاں رہنا ہے تو زبان اور آنکھوں کو کنٹرول میں رکھنا پڑے گا اور سب سے اہم بات۔۔ یہاں کے مینجر ایچ آر ان کے معاملات سے دور رہنا “”کیوں فراڈ کرتے ہیں کیا؟” اس کی آواز قدرے بلند تھی۔انیقہ کو ابھی سے اپنی نوکری خطرے میں لگی تھی۔”اٹس اوکے میں کوئی گڑبڑ نہیں کروں گی آپ بس اپنی شادی انجوائے کرنا” اسکے چہرے پر لکھی تحریر پڑھ سلوہ نے اسے تسلی دی وہ مطمئن ہوئی تھی یا نہیں مگر سر ضرور ہلا گئی تھی_____________سورج کی سنہری تابناک کرنیں بخش محمد کے آنگن میں پڑ رہی تھیں۔”کامل۔۔۔ اٹھ جا پتر دیکھ سورج سر کو آگیا ہے”سکینہ کی آواز پر آنگن میں پلنگ پر خواب خرگوش کے مزے لیتا کامل کسمسایا ۔۔”اماں سونے دے””اٹھ جا کامل۔۔۔ تیرا چچا کھیت پر بلا کر گیا ہے تجھے”اسکے اوپر سے چادر کھینچتے سکینہ نے اسے اظہر کا پیغام دیا جس پر کامل کے ماتھے پر بل پڑے۔۔”ابا کے مرنے کے بعد تو کچھ زیادہ ہی نوکر سمجھ لیا ہے ہمیں۔ چچا نے،” غصے سے بڑبڑاتے وہ اٹھ کر سیدھا غسل خانے میں بند ہوا تھا جبکہ سکینہ نے تاسف سے غسل خانے کے بند دروازے کو دیکھا تھا۔”اماں یہ دودھ کیوں پکا رہی ہو اتنا؟”نسیمہ کی آواز پر سکینہ کا دھیان کامل پر سے ہٹا تھا۔۔”ایک تو یہ دماغ بھی بس،” جلدی سے کچن میں جاتے سکینہ نے لکڑی کا جلتا چولہا بند کرنے کی کوشش کی تھی۔۔”اماں یہ بھائی کیوں غصہ ہو رہا تھا؟””کچھ نہیں اسکا تو دماغ خراب ہے ۔۔ خیر میری بات سن نسیمہ۔۔ اسکول سے سیدھا نانی کے گھر ہی آجانا میں وہیں ہوں گی آج””میں نہیں جانے والی وہاں ممانی کے بچے فضول میں اچھے اچھے کپڑے دیکھا کر چڑاتے ہیں ” وہ منہ بنا کر کہتے اندر بڑھ گئی۔جبکہ سکینہ۔۔ خاموشی سے ہلکی ہوتی آگ کو دیکھنے لگی کچھ دیر بعد ان لکڑیوں نے مزید کوئلہ بن جانا تھا اسے اپنا آپ کوئلہ ہی تو لگتا تھا ساری زندگی جل جل کر بھی کچھ حاصل نہیں ہوا تھا۔۔۔”اماں اداس ہو؟” تھوڑی دیر بعد سکینہ کی محویت کو سجیلہ کی آواز نے توڑا تھا۔سکینہ کے تینوں بچوں میں سب سے چھوٹی سجیلہ۔۔۔ جسے ایک شدت سے کسی کی یاد آتی تھی۔۔”اٹھ گئی میری گڑیا۔۔۔؟””اماں تم اداس کیوں تھیں کیا چچا پھر ڈانٹ کر گیا ہے ؟”سجیلہ کے ہر انداز میں اسکے لئے فکر تھی۔۔ سکینہ نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگایا”اتنی پیاری بیٹی کے ہوتے ہوئے بھی اماں اداس ہو سکتی ہے بھلا؟ چل اب اٹھ گئی ہے تو تیار ہوجا نانی کے گھر جانا ہے”اسکے بکھرے بال سمیٹتے سکینہ نے لکڑی کے چولہے پر اظہر لئے چائے چڑھائی تھی ۔۔سجیلہ کو بھی چائے نہیں پسند تھی اسکے ہر انداز سے کسی وجود کی جھلک دیکھتی تھی اور سکینہ اسی میں خوش تھیں۔”تو زندہ ہوتی لاڈو تو آج ہم ساتھ ہوتے” تلخ ماضی کو یاد کرتے اسکے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔جب اچانک گھر کا لکڑی کا دروازہ دھاڑ دے کھلا تھا اور تابندہ( دیورانی) اندر آئی تھی۔۔”بھابھی۔۔۔ بھابی ؟””تابندہ کیا ہوگیا ہے سب خیریت ہے نا؟””بھابھی نازو کے ابا کو دیکھو۔ نا کیسی بہکی باتیں کر رہے ہیں””ہوا کیا ہے تابندہ بتا تو سہی””میری نازو کا رشتہ بشیر کسان کے بڑے بیٹے سے رشتہ طے کر رہا ہے میری نازو کا۔۔۔بھابھی میں ۔۔ اپنی بیٹی کو اس بوڑھے سے شادی نہیں کرنے دوں گی”تابندہ کے رونے پر کئی سالوں پرانا منظر سکینہ کے دماغ کے پردے پر لہرایا تھا۔۔دل کو دھچکا سا لگا تھا ۔۔تابندہ اور بھی کچھ کہہ رہی تھی مگر سکینہ کے آس پاس جیسے سارے منظر دھندلا گئے تھے۔۔___________ریسٹورنٹ میں رش آج معمول سے کم تھا وجہ ایسٹرن فیسٹیول تھا۔۔”ماہی برتن سمیٹ کر میرے پاس آنا”شیف جوزف کے کہنے پر وہ سر ہلاتے جلدی سے اپنا کام سمیٹتے باہر آئی تو انہیں اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھے پایا۔۔”خیریت ہے آج بڑے سیڈ سیڈ؟”ان کے سامنے موجود خالی کرسی پر جا بیٹھی۔۔”ڈگری ہوگئی نا تمہاری ؟””ہاں پچھلے سال ہی تو ہوئی ہے یاد ہے آپ آئے تھے ؟””ہاں یاد ہے اپنی اینٹرن شپ کے بعد بھی تم نے کوئی اچھی نوکری نہیں کی””گھر والوں سے چھپ کر کی تھی اینٹرن شپ یاد نہیں آپ کو۔۔۔ ؟””تمہارے گھر والے میری سمجھ سے باہر ہیں “”میری بھی یہ آپ کے اکیلے کا مسئلہ نہیں ہے ویسے کیوں آج یہ سب باتیں سوچ رہے؟””تم پاکستان جانا چاہتا ہے نا ماہی؟””کیوں پوچھ رہے ؟””میرے ایک بڑے اچھے دوست ہے ان کا بیٹا پاکستان میں ایک چینل چلاتا۔۔ تم اپنا رپورٹنگ کا شوق وہاں پورا کر سکتیں”ان کی بات پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھائے انہیں دیکھا تھا۔۔”نوکری سے نکال رہے ہیں ؟””تمہیں اچھے مستقبل کی جانب بڑھا رہا ہوں تم نے خود تو سوچنا نہیں””آپ کو لگتا ہے ممی پپا مجھے پاکستان جانے کی اجازت دینگے ؟””ماہی۔۔ وہ تمہارے ممی پپا۔۔۔ بس تمہیں اسی ریسٹورنٹ میں کام کرتے دیکھ خوش ہیں اگر تم آفس میں جاؤ گی تو ان کا ایگو ہرٹ ہوگا۔۔ ایسے پرینٹس نہیں دیکھے ہم نے کبھی۔۔ اس لئے ہم تمہارے گارئین بن کر بتا رہے ہیں کہ تم جاؤ وہاں اور اپنا فیوچر بناؤ۔۔۔””اور ماں باپ کو چھوڑ دوں ؟”وہ ناجانے کیا سننا چاہتی تھی۔”ان کو چھوڑنے کا نہیں بول رہا مگر آج کے دور میں لڑکی کا خودمختار ہونا ضروری ہے ایسے وقت میں اور بھی ضروری جب اسکے گھر والے اسے سپورٹ نا کرتے ہوں ۔۔۔ کل کو وہ تمہاری شادی کردینگے اور وہ بندہ بھی تمہارے پپا جیسا ہوا تو؟”وہ بہت ڈیٹیل میں اس سے بات کر رہے تھے مہمل کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔۔”یہاں رہ کر بھی میں نوکری کر سکتی ہوں نا “”پاکستان تمہارا ملک ہے کیا ہم نہیں جانتا وہاں جانے کے لئے اپنا سچ جاننے کے لئے تم کتنی کوشش کر چکیں۔۔۔۔۔” وہ واقعی ٹھیک کہہ رہے تھے۔اس سے پہلے وہ کچھ کہتی شیف جوزف نے ایک سفید لفافہ اسکے سامنے رکھا تھا۔۔اس نے ناسمجھی سے اس لفافے کو دیکھا۔۔”یہ کیا ہے؟””اس میں کچھ پیسے اور پاکستان کا ٹکٹ ہے اگلے ہفتے کی فلائٹ ہے اور ہاں اس میں وہ کارڈ بھی ہے جاب کا بھی مسئلہ نہیں “”شیف”وہ ایموشنل ہوئی تھی۔۔”زیادہ سینٹی مت ہو جب نوکری پکی ہوجائے تو پیسے واپس بھیج دینا۔۔۔ اب میں اتنا بھی اچھا نہیں ” ناک چڑھا کر کہتے وہ اسے مسکرانے پر مجبور کر گئے۔،”ہاں ویسے بھی آپ جیسا کھڑوس انسان آج تک نہیں دیکھا میں نے””اور دیکھے گا بھی نہیں آئی ایم ون اینڈ اونلی۔۔””نو ڈاوٹ “”اچھا ایک اور بات””کیا؟””ویسے کو تمہاری حرکات ہیں میں نے تو برداشت کرلیا اگر پاکستان والے باہر پھینک دیں تو واپس آجانا میں برتن دھونے کی جگہ خالی رکھوں گا تمہارے لئے “فائل سیٹ کرتے وہ نہایت سنجیدگی سے بول رہے تھے جب اس نے حیرت سے منہ کھولے انہیں دیکھا..”ایک سیکنڈ بھی ایکسٹرا کام نہیں کرنے والی میں آج” خفا خفا سی اپنا اینولپ اٹھائے وہ کچن کی جانب بڑھی تھی جبکہ شیف جوزف سر جھکائے ہنس پڑے۔۔۔___________

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on