Latest Novel Office Based Police Officer Based

Ishq Yaran By Fari Islam Episode 3

عشق یاراں فری اسلامقسط_03میر ہاؤس کے صحن میں ٹہلتی اسوہ اس وقت سخت غصے میں تھی۔۔حیدر نے تو اس صاف جھنڈی دیکھا دی تھی ایسے میں اسکے دماغ میں اچانک ایک خیال آیا ۔”اففف کیا کیا کرنا پڑ رہا ہے اسوہ ” خود سے کہتے اس نے سر اٹھا کر اوپر کی جانب دیکھا اور پھر کھل کر مسکراتے وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے اوپر چھت پر آئی۔۔۔”سنو عالی”وہ جو چھت کی منڈیر پر بیٹھا جامن سے انصاف کر رہا تھا اپنے نام کی پکار پر گردن موڑ کر اسے دیکھا۔”کیا ہوا؟”

“میرا ایک کام کروگے” انگلیاں مڑوڑتے وہ حد درجہ نرمی کا مظاہرہ کرتی عالی کو ہارٹ اٹیک دینے کے در پر تھی۔۔”سنو تمہارے اس منہ سے یہ نرمی والا انداز مجھے ہضم نہیں ہو رہا اس لئے مطلب کی بات پر آو”٫اس کا دل تو کیا کچھ اٹھا کر سر پر مار دے مگر ابھی اپنا مطلب تھا۔”دیکھو عالی تم میرے دوست ہو””ہیں ؟ کب سے ؟””بچپن سے اب تم مانو یا نہیں مگر ہم دوست ہیں تو”اففف نرمی سے بات کرنا کتنا مشکل تھا۔۔”دیکھو عالی ہم اچھے دوست ہیں ہم ساری زندگی ایک ساتھ اچھے سے گزار””او ہیلو کون ساری زندگی تم جیسی بلا کے ساتھ رہے گا بھئی شادی کرو جان چھوڑو کیا ساری زندگی گلے پڑے رہنے کا ارادہ ہے””گلے تو تم پڑے ہو بےروزگار ہڈ حرام بھاڑ میں جاؤ تم عزت کے تو قابل ہی نہیں “اسکے بے مروتی کے مظاہرے کے بعد اس کے لحاظ کرنے کا ارادہ ہی ترک کیا تھا۔”دیکھا کیسے آئی لائن پر جانتا تھا میں “وہ بھی عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھتا میدان میں آیا تھا۔۔”تم اور تمہارا وہ کھڑوس ہٹلر بھائی ایک جیسے ہو””ہاں تم سے اچھے ہی ہیں ایک نمبر کی کام چور بتاؤ گا چچی جان کو کہ کچن میں دھونے والے برتن تم نے ادیبہ اپیا سے صاف کروائے ہیں”,”خبردار جو تم نے منہ کھولا میں منہ توڑ دوں گی تمہارا عالی “”ارے جاؤ جاؤ آئی بڑی منہ توڑنے والی ڈرتا نہیں ہوں میں تم سے””اچھا تو پھر بتاتی ہوں بڑے بابا کو تمہارے سارے چیٹنگ والے کارنامے”اسکی دھمکی پر وہ بوکھلایا مگر اسکے پاس بھی بہت ساری باتیں تھیں۔عالی کو سکون سے دیکھ اس نے گھبرا کر اسے دیکھا۔جتنا وہ پرسکون ہوتا تھا اتنی ہی اسوہ کے کئے مصیبت آتی تھی۔۔”کیا۔۔ کیا ہے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو ؟””تمہیں تو نہیں دیکھ رہا مگر میری آنکھوں کے سامنے دادو کے بکسے کے پیچھے چھپی ڈائجسٹ””عالی خبردار۔۔ میرا مطلب پلیز ۔۔ میرے بھائی ہو نا””ہونہہ تمہارا بھائی ہونے سے اچھا میں اس جگہ سے کود کر اپنی جان دے دوں،””ہیںں۔۔۔ اچھا تو دو نا،””ارے میرا مطلب جامن کھاؤ جامن سیزن کے بعد نہیں آئینگے “”ٹھیک ٹھیک ہے کھا ہی رہا ہوں “”عالی ڈائجسٹ کا نا بتانا “”سوچوں گا فلحال تو جاؤ ” کسی شہنشاہ کی ہاتھ اسے جانے کا اشارہ کرتے وہ واپس جامن کی جانب متوجہ ہوگیا جبکہ اسوہ نے ایسے دانت ہچکچائے تھے کیسے دونوں کے درمیان عالی میر ہو۔۔۔بیچ روڈ پر اس وقت کسی کی لڑائی ہو رہی تھی۔۔کانسٹیبل نے حیرت سے مجتبیٰ کو دیکھا جو گاڑی سے ٹیک لگائے سکون سے گھڑا تھا۔”سر کیا لڑائی نہیں روکنی،؟””پہلے دیکھنے تو دو ہوا کیا ہے؟”وہ متجسس تھا کسی لڑکی کی تیز آواز اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی۔۔”ایسے کیسے راستے بند کر دیتے ہیں بھلے کوئی مر ہی کیوں نا رہا ہوں”,غصے سے بھری تیز آواز پر مجبتی سیدھا ہوتا آگے بڑھا۔سامنے ہی وہ لڑکی ٹریفک پولیس پر اپنا غصہ نکال رہی تھی۔مجتبیٰ نے تاسف سے سر کر جنبش دی۔۔”کیا ہو رہا ہے یہاں؟” اسکی کرخت آواز پر سبھی اہلکار الرٹ ہوئے تھے جبکہ اس لڑکی نے گردن موڑ کر آواز کے تعاقب میں دیکھا۔۔”کیا ہو رہا ہے یہاں کیوں رش لگایا ہوا ہے””یہاں آپ کو کون سا رش دیکھ رہا مسٹر۔۔ ؟” وہ اس اہلکار کو چھوڑ اچانک اسکے سامنے آئی مگر مجتبیٰ وہیں اپنی جگہ کھڑا رہا۔۔”مسئلہ کیا ہے آپ کا بی بی؟””میرا مسئلہ تم جیسے لوگ ہو ۔ اچھا خاصا روڈ بلاک کرکے رکھا ہوا ہے””تمیز سے بات کریں محترمہ””میں تمیز سے ہی بات کر رہی ہوں اگر بدتمیزی کرتی تو یہاں سب ایسے کھڑے نا ہوتے” ناک پر غصہ چڑھائے اس نے مجبتی کو جواب دیا جو ماتھے پر بل ڈالے اسی چھوٹی بلا کو دیکھ رہا تھا۔۔پیچھے کھڑے کانسٹیبل نے افسوس سے اس لڑکی کو دیکھا۔”انسان کا جتنا قد ہو نا اتنی ہی زبان بھی رکھنی چاہیے ضرورت سے زیادہ لمبی زبان نقصان دے ہوتی ہے”خود کو بونا کہے جانے پر مہمل کے چہرے کے تاثرات بے یقینی نے میں ڈھلے۔۔”میرے زبان اور قد کی فکر آپ مت کریں مسٹر آفیسر””کرنی پڑتی ہے آدھا راستہ ویسے ہی بلاک ہے آدھا آپ میڈم صاحبہ نے کردیا ہے””ہاں تو کرنا بنتا بھی ہے۔۔ اس گاڑی میں ایک انکل بیمار تھے مگر راستہ نہیں دینا کیوں؟ پچھلے تین دن سے ٹریفک ہی ختم نہیں ہو رہا اور کسی کو کوئی احساس بھی نہیں ہے” وہ پچھلے تین دن سے اس نئے شہر کے ٹریفک میں خوار ہو رہی تھی آج اسکا صبر ختم ہوگیا تھا۔”آپ انہیں اپنا کام کرنے دینگی تو وہ اچھا کام کرینگے اتنے لوگوں کو جمع کر کے آپ نے ٹریفک کیا ہوا اب راستہ چھوڑیں””گھٹیا ترین سروس ہے یہاں کی””تو وہاں جائیں نا جہاں کی سروس اچھی ہے” تنک کر جواب دیتی وہ واپس اپنی کیب میں جا بیٹھی۔مجبتی نے خونخوار نگاہوں سے اسے گھورا۔۔مجبتی کے گھورنے پر اس نے مجبتی کو ڈبل گھوری سے نوازہ۔۔”بیٹا ان آفیسروں سے نا الجھو۔۔ “”میں نہیں ڈرتی ان جیسے دو نمبر کے پولیس والوں سے”ڈرائیور کو جواب دیتے وہ کار ونڈو سے نظر آتے مجبتی کو کینہ توز نگاہوں سے گھورنے لگی جو اب ناجانے کیا کر رہا تھا مگر کچھ دیر بعد یہ ہوا کہ ٹریفک کھل گیا۔۔ایک ایک کر گاڑی آگے بڑھنے لگی۔اسکی گاڑی آگے آئی مگر مجبتی کے اشارے پر گاڑی کو رکنا پڑا۔۔پوری شان سے چلتا مجتبی اسکی گاڑی کے پاس آکر رکتا ہے دونوں ہاتھ کھڑکی پر رکھتے جھکا۔۔۔”آئندہ پولیس والوں سے بات کرنے سے پہلے سو بار سوچنا ہر کوئی میرے جیسا نہیں ہوتا ۔” اسے کہتا وہ پیچھے ہٹ گیا۔مہمل کو اسے جواب دینے کا موقع بھی نہیں مل سکا۔۔گاڑی آگے بڑھ گئی تھی مجبتی کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔۔۔-اسکی کیب رفعت ہاؤس کے سامنے رکی تھی ڈرائیور کو کرائی دیتے وہ اپنا باہر آگئی۔سر اٹھا کر اس نے اپنے سامنے موجود گھر کو دیکھا تھا۔گھر کے باہر پھیلی بیل اور ہریالی کو دیکھ اسکے دل کو سکون ملا تھا۔اپنا لگیج گھسیٹے وہ رفعت ہاؤس کے دروازے تک آئی۔بیل بجا کر وہ کسی کے آنے کا انتظار کرنے لگی دوسری بیل پر دروازہ کھلا تھا سامنے ہی سادہ سے لان کے لباس میں سر پر دوپٹہ اوڑھے ریحانہ کھڑی تھی”اسلام وعلیکم رفعت آنٹی ہیں؟””ہاں جی ہیں مگر آپ کون ہیں؟””میں رفعت آنٹی سے ملنے آئی ہوں “”ہاں تو کیوں ملنے آئی ہیں کہاں سے ملنے آئی ہیں نام کیا ہے آپ کا ؟” ریحانہ کا انداز سراسر تفشیشی تھا۔”دیکھیں مجھے رفعت آنٹی سے ملنا ہے مجھے مبشر صاحب نے بھیجا ہے “”ہیں جی کون مبشر ؟؟ میں تو کسی مبشر کو نہیں جانتی “

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novel Romantic Novels

Aik Lafz Mohabbat By Esha Malik (Complete PDF)

You Can Download Aik Lafz Mohabbat By Esha Malik From The Following Media Fire Link Or Read Online From Drive
Classic Novels Latest Novel Romantic Novels

Jab Wafain Lazim Ho Jayen By Kanwal Akram (Complete PDF)

You Can Download The Novel From The Following Media Fire Link Or Read Online From Drive Link. Click The Novel