اسم اعظم کیا ہے؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جو صدیوں سے لوگوں کے دل و دماغ میں گردش کر رہا ہے۔ وہ کون سا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے سب سے عظیم اور بابرکت ناموں میں شمار ہوتا ہے، جس کے ذریعے دعا کی جائے تو وہ فوراً قبول ہو جاتی ہے؟
چلیں اس پر تحقیق کرتے ہیں۔
علماء کے مطابق اسم اعظم کو اللہ تعالیٰ نے ایک راز رکھا ہے، اور کسی کو اس کا یقینی علم نہیں، حتیٰ کہ فرشتے اور انبیاء بھی اس کے متعلق مکمل علم نہیں رکھتے۔ اگر یہ نام عام مخلوقات کو معلوم ہوتا، تو وہ اس کا استعمال کرکے دنیا و آخرت میں کوئی بھی چیز حاصل کر سکتے تھے، جو اللہ کی حکمت کے خلاف ہے۔
اسلامی تعلیمات میں اسم اعظم کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم قرآن مجید کی ان تین سورتوں میں ہے
” سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران اور سورۃ طٰہٰ۔ “
احادیث میں اسم اعظم کے بارے میں کئی روایات آئی ہیں، جن میں اس کے ذریعے دعا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ مگر پھر وہی سوال کہ یہ اللہ کا کون سا نام ہے؟
امام ابن حجر العسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ اسم اعظم کا مطلب سب سے بڑا نام نہیں بلکہ عظیم ترین نام ہے۔ تمام اسمائے حسنیٰ عظیم ہیں، اور کسی ایک کو دوسرے پر فوقیت دینا درست نہیں۔
امام عبدالقادر جیلانیؒ کے مطابق، اگر “اللہ” کا نام لیتے وقت دل مکمل طور پر غیر اللہ سے خالی ہو، تو وہی اسم اعظم بن جاتا ہے۔
کچھ علماء کے مطابق “بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ” ہی اسم اعظم ہے کیونکہ یہی قرآن کی پہلی آیت ہے اور ہر کام کا آغاز اسی سے کیا جاتا ہے۔
بعض نے “اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ” کو اسم اعظم کہا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے بھی اس نام کے ذریعے دعا مانگی ہے۔
حضرت امام زین العابدینؒ کو خواب میں “لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ” اسم اعظم کے طور پر دکھایا گیا۔
حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں کہ اسم اعظم وہ ہوتا ہے، جسے بندہ ایسے اخلاص اور توجہ سے پکارے کہ اس وقت دل میں غیر اللہ کی کوئی یاد نہ ہو۔
اسم اعظم کی تاثیر
اسم اعظم کی تاثیر کو سمجھنے کے لیے چند نکات اہم ہیں
یہ دعا کی قبولیت کا سب سے مؤثر وسیلہ ہے۔
اس کے ذریعے مشکل ترین مسائل حل ہو جاتے ہیں۔
اس کا ورد کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہوتی ہے۔
یہ دنیا و آخرت میں کامیابی کی کنجی ہے۔
اسم اعظم اللہ تعالیٰ کے ان خاص ناموں میں سے ہے، جن کے ذریعے دعا کرنے سے وہ جلدی قبول ہوتی ہے اور جس کے ذریعے مانگا جائے، اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔ اس کی تاثیر اور قوت کے بارے میں قرآن و حدیث میں بہت سی روایات ملتی ہیں۔
اسم اعظم اور انبیاء کے واقعات
حضرت موسیٰؑ جب فرعون کے دربار میں بھیجے گئے تو انہیں یہ خوف لاحق ہوا کہ فرعون ان کی بات نہیں مانے گا۔ تب انہوں نے اللہ سے دعا کی
ربِّ ٱشْرَحْ لِى صَدْرِى وَيَسِّرْ لِىٓ أَمْرِى وَٱحْلُلْ عُقْدَةًۭ مِّن لِّسَانِى يَفْقَهُوا۟ قَوْلِى
مفسرین کے مطابق، حضرت موسیٰؑ کی اس دعا میں اللہ کے خاص ناموں کا ذکر تھا، جنہیں اسم اعظم بھی کہا جاتا ہے۔ اسی دعا کے بعد اللہ نے انہیں معجزات عطا کیے، جیسے ید بیضاء اور عصا کا اژدہا بن جانا۔
حضرت یونسؑ جب مچھلی کے پیٹ میں تھے، تو انہوں نے اللہ سے دعا کی
لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یونسؑ کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی، وہ دعا جب بھی کوئی مسلمان کسی حاجت کے لیے مانگے، تو اللہ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔
مفسرین کے مطابق، یہ دعا اسم اعظم پر مشتمل تھی، اور اسی کے وسیلے سے حضرت یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی۔
حضرت سلیمانؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی
رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكًۭا لَّا یَنۢبَغِى لِأَحَدٍۢ مِّنۢ بَعْدِىٓ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ
یہ دعا قبول ہوئی اور حضرت سلیمانؑ کو ایسی بادشاہت دی گئی جو نہ کسی کو پہلے ملی اور نہ کسی کو بعد میں ملے گی۔ علمائے کرام کے مطابق، حضرت سلیمانؑ کی دعا میں اللہ کے خاص نام کا ذکر تھا، جسے اسم اعظم کہا جاتا ہے۔
قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ کون بلقیس کا تخت ان کے پاس لا سکتا ہے؟ ایک طاقتور جن نے کہا کہ وہ اسے مجلس برخاست ہونے سے پہلے لے آئے گا، لیکن ایک اور شخصیت نے کہا
میں اسے پلک جھپکنے سے پہلے لے آتا ہوں
مفسرین کے مطابق، یہ شخصیت حضرت آصف بن برخیا تھے، جو حضرت سلیمانؑ کے وزیر تھے اور انہیں اسم اعظم کا علم تھا۔ انہوں نے اللہ کا وہ خاص نام لے کر دعا کی، اور اللہ کے حکم سے بلقیس کا تخت پلک جھپکنے میں ان کے سامنے حاضر ہو گیا۔
نبی کریم ﷺ نے ایک دعا کے بارے میں فرمایا کہ جس نے اس دعا کے ذریعے اللہ سے دعا مانگی، اس کی دعا ضرور قبول ہو گی
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ
علمائے کرام کے مطابق، اس دعا میں اسم اعظم شامل ہے، اور اسی لیے یہ دعا خاص طور پر قبول ہوتی ہے۔
ڈئیر ریڈرز اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی جائز دعائیں قبول کرے ، صحت ، دولت ، ترقی دے تو دعا مانگنے کا سلیقہ بھی ضروری ہے ۔
اسم اعظم کا ذکر اور دعا کی قبولیت صرف الفاظ دہرانے کا نام نہیں، بلکہ اس میں دل کی کیفیت، اخلاص اور یقین کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں چند عملی نکات دیے جا رہے ہیں جو دعا کی قبولیت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
- خلوص اور توجہ کے ساتھ دعا کریں
اللہ کے اسمائے حسنیٰ میں برکت اور اثر ہے، لیکن اگر دعا صرف رسمی طور پر مانگی جائے، بغیر دل کی حاضری اور یقین کے، تو وہ بے اثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے جب بھی دعا کریں تو مکمل توجہ کے ساتھ کریں، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ اللہ ہی حاجت روائی کرنے والا ہے۔- حرام چیزوں سے بچیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بعض اوقات انسان دعا کرتا ہے، لیکن اس کی کمائی حرام ہوتی ہے، کھانے پینے میں حرام شامل ہوتا ہے، تو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ اس لیے دعا کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اعمال اور روزمرہ کی زندگی میں حلال کمائی اور طیب خوراک کو اختیار کرے۔
- حرام چیزوں سے بچیں
- عاجزی اور گڑگڑا کر دعا مانگیں
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
“اپنے رب کو عاجزی اور آہستگی سے پکارو۔” (الاعراف: 55)
اسم اعظم کا ورد اور دعا ہمیشہ عاجزی اور خلوص کے ساتھ کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ کو وہ دعا پسند ہے جو دل کی گہرائیوں سے مانگی جائے۔ - دعاؤں میں نبی کریم ﷺ پر درود بھیجیں
حدیث میں آتا ہے کہ جب کوئی دعا قبول نہیں ہو رہی تو پہلے اللہ کی حمد و ثنا کریں، پھر نبی کریم ﷺ پر درود بھیجیں، اور اس کے بعد اپنی حاجت مانگیں۔ یہ طریقہ دعا کی قبولیت میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ - مسلسل دعا کا اہتمام کریں
اسم اعظم کے ذکر میں استقامت ضروری ہے۔ یہ نہیں کہ ایک دن دعا کی اور پھر چھوڑ دی۔ اللہ کی محبت اور اس کے ناموں کا ذکر مستقل مزاجی کے ساتھ کرنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کے ذکر میں مستقل رہتے ہیں، ان کی دعائیں زیادہ جلدی قبول ہوتی ہیں۔ - رات کے آخری پہر میں دعا کریں
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
“رات کے آخری تہائی حصے میں اللہ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں:
‘ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطا کروں؟ ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اسے بخش دوں؟'” (بخاری، مسلم)
یہ وقت دعا کی قبولیت کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اگر اسم اعظم کا ذکر اور دعا رات کے آخری حصے میں کی جائے تو اس کے اثرات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ - دعا میں جلد بازی نہ کریں
کئی لوگ دعا کرنے کے فوراً بعد یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ابھی تک دعا قبول کیوں نہیں ہوئی۔ دعا میں صبر اور اللہ کے فیصلے پر یقین بہت ضروری ہے۔ اللہ سب کچھ سنتا ہے، اور وہ ہر چیز کو مناسب وقت پر عطا کرتا ہے۔
اسم اعظم کی برکات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اللہ کے اسمائے حسنیٰ کا ذکر کثرت سے کریں اور اپنی دعاؤں میں خلوص و یقین پیدا کریں۔ اگر ہم اخلاص کے ساتھ اللہ کو پکارتے ہیں تو یقیناً ہماری دعائیں بھی قبول ہوں گی اور ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں نصیب ہوں گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بابرکت ناموں کے وسیلے سے دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے۔ آمین۔
سیما شاہد

