وہ سفید نیٹ کی میکسی کے ساتھ ملٹی رنگ کا دوپٹہ جس کی چاروں اطراف سفید جھالر لگی ہوئی تھی، گلے میں ڈالے، گاڑی سے اتر کر خراماں خراماں انٹرنس کی طرف جا رہی تھی جب تیزی سے کوئی آتا ہوا اس سے بری طرح سے ٹکرا گیا تھا۔
“آؤچ!”
اس کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکل گئی تھی، کیونکہ اس کا ماتھا مقابل کے کندھے سے لگا تھا۔
اس کے ہاتھ سے نیلے نگوں والا پرس بھی چھوٹ کر زمین پر گر گیا تھا۔
وہ ماتھا مسلتے ہوئے پرس اٹھانے کے لیے جھکنے لگی تو اس سے پہلے ہی مقابل جھک کر پرس اٹھا چکا تھا۔ درد کی شدت سے نم ہوتی آنکھیں اٹھا کر اس نے سامنے کھڑے شخص کی طرف دیکھا تو اس کے دل نے ایک عجیب ہی لے پر دھڑکنا شروع کردیا تھا۔ دراز قد، سیاہ گھنی مونچھیں، نشیلی آنکھیں اور اوپر سے سیاہ رنگ کے شلوار قمیض میں ملبوس گویا وہ تو کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا۔
وہ ماتھے کا درد بھلا کر بس یک ٹک اسے دیکھنے لگی تھی۔
وہ خوبرو جوان چہرے پر شائستہ سی مسکان سجائے اپنی گہری آنکھوں سے اس کے چہرے کا طواف کرتے ہوئے اسے پرس تهمانے لگا تو وہ ہوش و حواس کی دنیا میں آگئی تھی.
“شکریہ!” اس نے مختصراً کہا اور ہوا کے جھونکوں سے اڑتے ہوئے گھنگریالے بالوں کو دائیں طرف کرتے ہوئے اس سے پرس لینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تو مقابل کی نرم انگلیوں کا لمس اس کی سانسوں کو بے ترتیب کرنے کے لئے کافی تھا۔
اس نے جھٹ سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔
اپنی بے ترتیب سانسوں کو قابو کرتے ہوئے، وہ اس کی نظروں سے نظریں چرا کر وہاں سے جانے لگی تو اس نے اس کے رنگین دوپٹے کو پیچھے سے تھام لیا تھا۔
“سنو!” اس کی گھمبیر آواز سن کر وہ تو وہیں پر رک گئی تھی۔
“بہت پیاری اور معصوم ہو تم۔” وہ اس کے گالوں کو چھونے لگا تو اس نے شرما کر چہرہ دوسری طرف کر لیا تھا۔
وہ آگے بڑھ کر اس کا بازو پکڑنے لگا تو وہ اپنا ہاتھ کھینچنے لگی مگر مقابل نے اس کے بازو کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا۔
“آئی اللّه!” اس کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکل گئی تھی۔
Khuwabon Ki Malika By Hira Tahir Episode 1

