Uncategorized

Khuwabon Ki Malika By Hira Tahir Episode 2

غزل سکول سے آئی تو برآمدے میں کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں۔
وہ سمجھ گئی تھی کہ یہ ناشناسا چہرے ضرور اس کے لیے رشتہ لے کر آئے ہوں گے۔
ایک دم ہی اس کا چہرہ ایسے بُجھ گیا تھا جیسے فیوز ہو کر بجلی چلی جائے اور ہر سو تاریکی پھیل جائے۔
وہ سنجیدہ چہرہ لیے ان کو سلام کرکے سیدھا کمرے میں چلی گئی۔
“بہن! آپ کی بیٹی تو ہمارے پاس بیٹھی بھی نہیں۔”
ان میں سے ایک خاتون نے ناگواریت سے کہا تو تسلیم نے جلدی سے سموسوں کا پلیٹ ان کی طرف بڑھایا تھا۔
“بچی ہے، گبھرا جاتی ہے۔”
وہ اب اس کی پیالی میں چائے ڈالنے لگیں۔
“ارے اتنی عمر میں تو میرے دو بچے تھے۔”
ان میں سے ایک اور موٹی سی عورت چائے کی پیالی اٹھا کر تسلیم کو ایسے گھورنے لگی جیسے اس نے کوئی گناہ کردیا ہو۔
“بس کیا کہوں بہن، آج کل کے بچے ذرا ناسمجهدار ہیں۔”
وہ دوپٹہ سمیٹتے ہوئے زیرلب مسکرائیں، مگر دل ان کا اداس ہوگیا تھا۔
وہ جان چکی تھیں کہ بیٹھی عورتیں غزل کو ناپسند کرچکی ہیں۔
“اچھا بہن ہم چلتے ہیں۔ ہمیں کوئی ایسی سمجھدار لڑکی چاہئے جو سارا گھر سمبھال سکتی ہو۔ ہمارا مال مویشیوں کا گھر ہے اور ہمارے گھر میں مہمانوں کا آنا جانا بھی بہت ہوتا ہے۔”
سب سے بزرگ خاتون نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا اور چادر پہن کر نکل گئیں۔
باقی دونوں عورتیں بھی اس کے پیچھے ہی نکل گئی تھیں۔
تسلیم بھرے ہوئے میز کو دیکھتے ہوئے سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔
“امّاں!”
غزل، جو دروازے کے درز سے سب دیکھ رہی تھی، تسلیم کی حالت دیکھ کر کمرے سے نکل آئی تھی۔
“اداس کیوں بیٹھی ہیں؟ خدانخواستہ کوئی مر تو نہیں گیا۔”
وہ ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں دلاسہ دینے لگی۔
“خدا نہ کریں کوئی مرے۔”
انہوں نے غزل کو غصیلی نظروں سے گھورا تھا۔
“پر تیرے نصیب کو لے کر رونا آرہا ہے۔ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو توُ اکیلی کیا کرے گی؟” وہ اب باقائده رونے لگی تھیں۔
“ارے امّاں کچھ بھی نہیں ہوگا تمہیں اور دیکھ بتارہی ہوں تجھے کوئی شہزادہ ہی لینے آئے گا مجھے۔”
وہ ہنستے ہوئے بولی تو تسلیم بھی اس کی بات سن کر ہنسنے لگی تھی۔
“خوابوں کی ملكہ! خوابوں سے نکل آ۔ یہ حقیقی دنیا بڑی ظالم ہے۔ یہ ہم غریبوں کے گھر اور دسترخوان پہلے دیکھتی ہے اور لڑکی بعد میں۔ یہاں کوئی عام سا بندہ آکر تجھے پسند کر لے تو میں شکرانے کے سو نفل پڑھ لوں گی۔” وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے حقیقت سے روشناس کرانے لگیں جس سے وہ بچپن سے ہی بھاگتی چلی آرہی تھی۔
“امّاں تُو نے تو دل پر لے لیا ہے۔کہا بھی تھا نہ بلایا کر ایسے لوگوں کو۔مجھے اچھا نہیں لگتا اور پھر تو بھی اُداس رہتی ہیں، مگر تو ہے جو سمجھتی ہی نہیں۔”
وہ منہ پھلا کر بیٹھ گئی تھی۔
“اچھا میری ماں آئندہ نہیں بلاؤں گی۔ چل اب کھانا کھالو۔ مجھے بھی بہت بھوک لگی ہے۔”
وہ اسے دھموکا جھڑتے ہوئے اٹھ گئیں تو غزل مسکرائی تھی۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on