غزل، نوشی، اور زیبی بریک میں کلاس سے باہر بیٹھی ہوئی تھیں جب حنا بھی آ کر ان کے پاس بیٹھ گئی۔
“غزل تیرے چہرے کے یہ داغ تو روز بہ روز بڑھ رہے ہیں۔”
حنا نے بیٹھتے ہی اس کی طرف دیکھ کر فکر مندی سے کہا۔
“ہاں مہنگائی بھی تو بڑھ رہی ہے۔” وہ سنجیدہ لہجے میں بولی۔
“تیرے چہرے کے داغوں کا مہنگائی سے کیا تعلق؟” زیبی نے اسے چپس کا پیکٹ تھما کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی تھی۔
“بڑا گہرا تعلق ہے۔” اس نے ایک گہری سانس لی۔ “متوازن غذا کی کمی، ڈاکٹر کی فیس کے پیسے نہیں، داغ بڑھیں گے نہیں تو کیا کم ہوں گے؟” آج وہ پہلی دفعہ تلخ ہوئی تھی۔
“غزل تیرا فیس ہم سب مل کر دے دیں گے تو فکر نہ کر۔” حنا نے اس کے ران پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلّی دی جو بالکل اس کے قریب بیٹھی ہوئی تھی۔
“اس بار تو تم لوگ دے دو گے۔ پھر کون دے گا؟” اس نے آنکھوں کی نمی کو انگلیوں کے پوروں میں جذب کرکے چھپانا چاہا مگر حنا اس کے آنسو دیکھ چکی تھی۔
“اچھا چھوڑو یہ باتیں، یہ بتا تیرے شہزادے کا کیا بنا؟”
اس نے ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے اس کے پسندیدہ ٹاپک کو چھیڑا تھا۔
جس کے سہارے وہ اپنی محرومیوں بھری زندگی کی تلخیاں بھلا کر جی رہی تھی۔
“کیا بنا؟ اظہار کرنے لگتا ہی ہے کہ کبھی اماں آ کر جگا دیتی ہے اور کبھی تم تینوں میں کوئی ولن بن کر آ جاتا ہے۔”
اس نے خفا خفا سی نظروں سے تینوں کو دیکھا تو ان تینوں نے جاندار قہقہہ لگایا تھا۔
“تو تُو بھی ذرا ڈھنگ کی جگہ میں بیٹھ کر خواب دیکھتی رہنا نا۔” زیبی نے اسے بازو پر مکّا رسید کیا۔
“نہ بھائی میرے خواب سوچ سمجھ کر تو نہیں آتے۔بس جب بھی دل نے چاہا خواب دیکھ لیا۔خیالوں میں گم ہوئی۔”
“ہاں، تو بس پھر ہم سے گلہ بھی مت کرنا خوابوں، خیالوں سے جگانے کا۔” نوشی نے کتاب بند کرکے اسے پیار بھری نظروں سے گھورا تھا۔ “اب ہمیں کیا پتا تم کس وقت خیالوں میں غرق ہو کس وقت نہیں؟”
“ظالم سماج!” وہ کتابیں بیگ میں ڈال کر اٹھ گئی تھی۔ “دیکھنا ایک دن میرے سارے خواب سچ ہوجائیں گے، پھر تم لوگ جگاتی رہنا۔ مجھے فرق نہیں پڑے گا۔” یہ کہہ کر وہ کلاس سے نکل گئی تو باقی تینوں ہنسنے لگی تھیں۔
“پاگل ہے یہ تو۔” نوشی نے اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے کہا تو حنا نے اسے چٹکی کاٹی۔
“ابھی سن لیا تو ناراض ہوجائے گی۔ تمہیں پتا نہیں کتنی حساس ہے وہ؟” وہ اسے ڈپتے ہوئے بولی۔
“میں تو مذاق کر رہی تھی یار۔ ویسے بھی اس نے نہیں سننا۔ وہ پھر سے کسی خیال میں کھو گئی ہوگی۔” وہ آنکھ کا کونہ دبا کر بولی تو حنا نے اسے سر پر چپت ماری۔
“اب ایسی بھی کوئی بات نہیں۔ وہ تو فارغ وقت میں خیالوں میں مگن رہتی ہے۔ یوں چلتے پھرتے تو نہیں۔”
“ہاں، یہ میتھس کا پیریڈ تو فارغ وقت ہوتا ہے نا؟” اس کا قہقہہ چھوٹا تو حنا اور زیبی بھی ہنسنے لگی تھیں۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو سمجھ گئی تھی کہ وہ تینوں ضرور اس کے خوابوں کے بارے میں بات کر رہی ہوں گی۔ وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی تھی۔
Khuwabon Ki Malika by Hira Tahir Episode 3

