آج اسے یہاں آئے ہوئے دوسرا دن تھا۔ وہ ناشتے کے بعد کمرے میں چلی آئی تھی کیونکہ نوشی اپنے بابا کے ساتھ باتوں میں مگن تھی۔ اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا وہاں بیٹھے رہنا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو نوشی اندر چلی آئی تھی۔
“چلو غزل، ڈاکٹر حمزہ سے نمبر لے لیا ہے۔” نوشی اس کے قریب آئی تو وہ سویٹر پہننے لگی تھی۔ “ہمیں جلدی جانا ہوگا کیونکہ ہمارا نمبر چار ہے۔”
“نہیں، نوشی، میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔”
وہ سر جھکا کر افسردہ لہجے میں گویا ہوئی تھی۔
“تو تم سے کس نے پیسے مانگے ہیں؟” وہ اسے ڈپٹتے ہوئے بولی۔
“مگر اتنے سارے پیسے؟” وہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے جھجھک رہی تھی۔ ٹھیک ہے، وہ اس کی بیسٹ فرینڈ تھی، مگر اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اس کے لیے ساری فیس دے۔
“شادی تک قرضہ دے رہی ہوں۔ پھر واپس کردینا۔”
وہ اس کی کیفیت سمجھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولی تو غزل کا چہرہ کھل گیا تھا۔
“پھر ٹھیک ہے۔ مگر ابھی ان میں سے آدھے پیسے دوں گی۔ آدھے بعد میں۔” اس نے گلک میں کچھ پیسے جمع کئے تھے۔
“ہاں جی، دے دینا مگر ابھی جلدی کرو زرک کب سے گاڑی میں بیٹھا ہمارا انتظار کر رہا ہے۔” وہ یہ کہہ کر باہر چلی گئی تو
غزل جلدی سے اپنی چادر اوڑھ کر کمرے سے نکلتے ہوئے نوشی کے پیچھے چلی گئی تھی۔
Khuwabon Ki Malika by Hira Tahir Episode 4

