Uncategorized

Khuwabon Ki Malika by Hira Tahir Episode 5

سارا شاپنگ کرکے وہ دونوں گھر کی طرف روانہ ہوئے تو کچھ ہی فاصلہ طے کرکے حمزہ نے گاڑی ایک مشہور ہوٹل کے سامنے روک دی تھی۔
“کیوں رُک گئے؟” غزل نے موبائل ڈیش بورڈ پر رکھ کر حیرانی سے پوچھا تو وہ زیرِلب مسکرانے لگا تھا۔
“اپنی ہونے والی بیوی کو ڈنر کرائے بغیر لے جاتے ہوئے اچھا لگوں گا کیا؟” وہ یہ کہہ کر گاڑی سے اتر گیا تو غزل بھی موبائل اٹھا کر اپنے پرس میں ڈالتے ہوئے اتر آئی تھی۔
“مگر یہ تو بہت مہنگا ہوٹل ہے۔” وہ ہوٹل کی عمارت کو دیکھنے لگی تھی۔
“ایک بار میں امّاں کو ضد کرکے یہاں لائی تھی مگر گارڈ نے ہمیں دروازے پر ہی روک کر اندر جانے ہی نہیں دیا تھا یہ کہہ کر کہ یہاں کا کھانا ہم لوگ افورڈ نہیں کرسکتے۔” وہ یاسیت سے بولی تو حمزہ کو اس کی آنکھوں میں اترتی ہوئی نمی دیکھ کر بہت دکھ ہوا تھا۔
“اچھا چھوڑو یہ باتیں۔ جو ہوا تھا وہ تو گزر گیا۔ ابھی تم اس وقت سے مزہ اٹھاؤ اور ویسے بھی تم ڈاکٹر حمزہ خان آفریدی کی بیگم بننے والی ہو۔ اب یہ لوگ تمہاری طرف خود دوڑ کر آئیں گے۔” وہ اس کے گال پر چٹکی کاٹ کر اندر کی طرف بڑھ گیا مگر وہ وہیں پر رکی رہی۔
“ہاں مگر . . .” اس میں اندر جانے کا حوصلہ نہیں تھا۔ اسے وہ پچھلی بے عزتی بھولی نہیں تھی۔
“اگر مگر چھوڑو۔ چلو میرے ساتھ!” حمزہ نے اس کی طرف آ کر اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔
“کم آن یار!” اس کی مسکراتی ہوئی آنکھیں دیکھ کر وہ خود بخود اس کے ساتھ ساتھ قدم اٹھانے لگی تھی۔
“سر السلام علیکم! آپ کا پسندیدہ کارنر خالی ہے۔” ایک ویٹر نے جلدی سے آگے آ کر انہیں سلام کیا اور اس کے پسندیدہ جگہ کی طرف چلنے لگا۔
“تھینک یو!” وہ وہاں بیٹھ کر اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مینیو کارڈ دیکھنے لگا تھا۔
“ہمم! کیا لوگی؟” اب کے وہ نظریں غزل کے چہرے پر مرکوز کر چکا تھا۔
“جو آپ منگوانا چاہتے ہیں، میں وہی کھالوں گی۔” وہ سعادت مندی سے بولی تو حمزہ اسے یک ٹک دیکھنے لگا تھا۔
“نہیں، آج میں تمہاری مرضی سے کھاؤں گا۔” وہ مینیو کارڈ اس کی آنکھوں کے سامنے لا کر بولا تو اس نے جلدی سے بریانی لانے کا کہا تھا۔
بریانی کی دیوانی تھی وہ مگر ابھی تک اس نے جی بھر کر نہیں کھائی تھی۔
کبھی کوئی بھیج دیتا تو کھا لیتی تھی مگر ان کے گھر کبھی بریانی نہیں پکی تھی۔
“بس؟” وہ تعجب سے اس کو دیکھنے لگا تو وہ سر ہاں میں ہلانے لگی۔
“بریانی، سیخ کباب، چکن کڑاہی، اور . . . .” وہ اور بھی نام لینے لگا تھا جب غزل نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر منع کر دیا تھا۔ “بس اتنا کافی ہے۔”
“چلیں ٹھیک ہے۔میٹھے میں کھیر اور آئس کریم لے آنا۔” وہ آرڈر دے کر اب اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
“اور کیا کیا پسند ہے تجھے؟” ویٹر چلا گیا تو وہ اس کی آنکھوں کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے مستفسر ہوا۔
“ایک خوبصورت سا گھر، خوب خوب خوبصورت کپڑے، ک اور گھومنا پھرنا۔” وہ آنکھیں میچ کر بولی تھی۔
“سارے ارمان پورے کر دوں گا تمہارے۔” وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر پیار بھرے لہجے میں بولا تو اس نے آنکھیں کھول کر اسے پیار بھری نظروں سے دیکھا تھا۔
“آپ کی سنگت ان سب چیزوں سے زیادہ معتبر ہے۔” اس نے بہ مشکل یہ جملہ کہتے ہوئے نظریں جھکا دی تھیں۔
حمزہ ایک گہری سانس لے کر اسے تکنے لگا تھا۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on