Uncategorized

Khuwabon Ki Malika by Hira Tahir Episode 6

“ایکسکیوز می! ڈاکٹر کب آئے گا؟” نوشی نے کاؤنٹر پر جا کر ریسپشنسٹ سے پوچھا تو وہ فون رکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
“ڈاکٹر صاحب تو آ گئے ہیں۔”
“ارے چوتھا نمبر تھا ہمارا۔” نوشی نے ماتھا پیٹا تھا۔
“میں نے تو نام پکارا تھا مگر آپ نہیں تھیں۔ ٹھیک ہے، آپ اندر جائیے۔” رسپشنسٹ نے دروازہ کھولا تو وہ دونوں اندر چل کر ویٹنگ ایریا میں بیٹھ گئی تھیں۔
ان سے پہلی مریض جو فارغ تھی باہر نکلی تو نوشی نے اسے ٹہوکا دیا تھا۔
“جاؤ ڈاکٹر کے سامنے والی اسٹول پر بیٹھو۔” وہ اسے موبائل میں مصروف دیکھ کر خاصی تپی ہوئی تھی۔
“پہلے ڈاکٹر آ تو جائیں۔” وہ لاپرواہی سے بولی تو ڈاکٹر حمزہ اس کی بات سُن کر مسکرانے لگے تھے۔
“آ تو گئے ہیں یار۔” نوشی کو شرمندگی ہوئی تھی۔
“کہاں ہے ڈاکٹر؟” اس نے جھٹ سے موبائل پرس میں ڈال کر اِدھر اُدھر دیکھا تھا۔
“خدا کی بندی! وہ سامنے تو بیٹھے ہیں۔” نوشی نے اس کی طرف جھک کر سامنے کی طرف اشارہ کیا تو اس نے جھٹ سے سامنے دیکھ لیا تھا اور پھر اس کا دل چاہا کہ وہ اٹھ کر کسی دیوار سے اپنا سر مارے۔
“کیا یہ ڈاکٹر حمزہ خان آفریدی ہیں؟”
اس کی آواز جیسے کسی کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی کیونکہ سامنے کوئی خوبرو جوان نہیں بلکہ ایک ادھیڑ عمر کا، بغیر بالوں والا، رعب دار شخصیت کے حامل شخص کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔
“ہاں، تو اور کون ہیں؟ اب جاؤ بھی۔”
وہ نوشی کے دھکا دینے پر ڈاکٹر کے قریب چلی تو گئی مگر اس کے سارے ارمانوں پر اوس پڑ چکی تھی۔
“بی بی، کیا مسئلہ ہے آپ کو؟”
وہ عینک درست کرتے ہوئے بارعب لہجے میں مستفسر ہوئے۔
“اور تو کوئی مسئلہ نہیں، بس اس دل کم بخت نے گھن چکر بنا دیا ہے مجھے۔” وہ خود سے بڑبڑائی تھی۔
“جی؟” ڈاکٹر صاحب اس کی بڑبڑاہٹ سن نہ پائے تھے۔
“ڈاکٹر صاحب، اس کے چہرے پر یہ سیاہ دھبے ہیں۔” اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، نوشی اٹھ کر ان کے پاس آئی تھی۔
“دھوپ میں بیٹھتی ہو؟” وہ بال پائنٹ اٹھا کر کچھ لکھنے لگے۔
“دھوپ میں تو ساری زندگی گزری ہے ڈاکٹر صاحب۔”
وہ آنکھوں کی نمی چھپاتے ہوئے غائب دماغی سے بولی تھی۔
“جی ڈاکٹر صاحب یہ سارا دن دھوپ میں بیٹھی رہتی ہے۔” نوشی کو اس وقت اس کی دماغی حالت پر شک ہونے لگا تھا۔
“اچھا، چہرے پر کسی بھی قسم کی کریم نہ لگائیں، بیوٹی سوپ سے چہرہ نہ دھوئیں اور نہ ہی دھوپ میں بیٹھیں۔
یہ فیس واش اور آئنٹمنٹ لکھ رہا ہوں۔ اسے استعمال کرے گی تو دوبارہ آنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔”
وہ اسے پرسپشن تھما کر دوسرے مریض کی طرف متوجہ ہوئے تو نوشی اس کا بازو پکڑ کر تقریباً اسے کھینچتے ہوئے باہر لے جانے لگی۔
وہ دل برباد کا ماتم کرتے ہوئے مردہ قدموں سے اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی تھی۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on