اس نے تسلیم کے ساتھ مل کر کھانا بنایا، تو پھر جلدی سے نہا کر لیمن کلر کے کاٹن کا جوڑا۔
پہنا جس کے دامن اور آستینوں پر تسلیم کے ہاتھ کے بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے گہرے سبز پھول تھے۔
اس نے اپنے گھنے ہلکے بھورے بالوں کو سبز رنگ کے کیچر میں مقید کر لیا اور آنکھوں میں كاجل لگا کر دیوار سے لگے ہوئے دھندلے آئینے میں خود کو بغور دیکھنے لگی تھی۔
اسے آج پہلی دفعہ خود پر پیار آیا تھا اور اسے اپنے چہرے میں کوئی کمی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
اس نے ایک گہری سانس لے کر دوپٹہ سر پر ڈالا اور چارپائی کے کونے پر بیٹھ کر کچھ سوچنے لگی تھی۔
کیسے وہ دوستوں کے مہنگے، مہنگے برانڈڈ کپڑے، جوتے، اور میک اپ دیکھ دیکھ کر دل میں کڑھتی رہتی تھی۔ وہ سمجھتی تھی اسے یہ سب ملے گا تو وہ سب سے حسین نظر آئے گی، مگر آج اسے احساس ہوگیا تھا کہ وہ ان سب چیزوں کے بغیر بھی سادگی میں بہت جاذب نظر لگتی ہے۔
نوشی کی بہن کا حال دیکھ کر شاید اس کی آنکھیں کھل گئی تھیں یا شاید خوابوں کے ٹوٹنے کی ہمت خود میں نہ پا کر اس نے خواب دیکھنا ترک کر دیا تھا۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب ہر قسم کے حالات میں گزارا کریں گی اور پھر جمال کو دیکھ کر اس کا دل عجیب ہی لے پر دھڑکنے لگا تھا۔
وہ بیل کی آواز پر ساری سوچوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کمرے سے نکل کر گھر کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گئی تو آج پہلی دفعہ اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔
اس نے “کون ہے؟” کہہ کر مقابل کی آواز سنتے ہی جھٹ سے دروازہ کھول دیا تھا۔
“السلام علیکم!” جمال سلام کرکے اندر آیا تو سب سے پہلے دروازہ بند کر دیا تھا۔
“وعلیکم السلام! بہت دیر نہیں ہو گئی؟” اندر کی طرف جاتے ہوئے اس کی زبان پھسل گئی تھی۔
“بس دوست کے ساتھ بہت عرصے بعد ملا تھا اور ابھی تو عشا کی اذان بھی نہیں ہوئی ہے۔ میں سمجھا زیادہ دیر نہیں ہوئی مگر شاید تم لوگ . . . .” وہ بات ادھوری چھوڑ کر کمرے میں قدم رکھنے لگا تو تسلیم باہر نکل آئی تھیں۔
“آگئے بیٹا؟” وہ تسبیح دیوار گیر سے لٹکا کر برآمدے میں رکھی چارپائی پر بیٹھ گئیں۔ “بیٹھ جاؤ! اصل میں غزل نے وقت پر کھانا بنایا تھا تاکہ تمہیں انتظار نہ کرنا پڑے اور اس کی یہ عادت ہے کہ کھانا تیار ہوجائے تو پھر چاہتی ہے جلدی سے کھا بھی لیا جائے۔” وہ ہلکا سا مسکرائی تھیں۔
“تو پھر ٹھیک ہے خالہ، کھانا ابھی کھا لیتے ہیں۔” وہ چارپائی میں بیٹھ گیا تھا۔
“باقی سب تیار ہیں، بس قورمہ گرم کرتی ہوں۔ بہت جلدی ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔” غزل یہ کہہ کر کچن میں گھُس گئی تو جمال کچھ سوچتے ہوئے اٹھ گیا۔
“خالہ، میں غزل کی مدد کرکے آتا ہوں۔” وہ موبائل جیب میں رکھ کر کچن کی طرف بڑھ گیا تو تسلیم غزل کا اتنا سلیقہ مند روپ دیکھ کر ایک بار پھر سے جی اُٹھی تھیں۔
Khuwabon Ki Malika by Hira Tahir Last Episode 7

