Uncategorized

Lamha Ishq by Sara Rana Episode 16

دعوت سے انے کے بعد  بریرہ نے چادر اتار کے صوفے پہ رکھ دی اور ساتھ ہی ایرنگ کانوں سے نکالنے لگی ۔۔۔

کیا ہوا اتنی جلدی کیوں ہیں۔۔
نہیں وہ بس کاموں میں درد ہونے لگ گیا ۔۔
کیونکہ یہ زیادہ  وزنی ہے کیا میں نے تو بہت لائٹ دیکھ کر لیے تھے ۔۔
نہیں وزنی تو نہیں ہے بس کافی دیر بعد کانوں میں کچھ پہنا ہے نا تو درد کرنے لگے ہیں۔۔۔
دکھاؤ مجھے ہاں واقعی یہ تو ریڈ ہو گئے دیکھنے میں تو اتنے لائٹ ویٹ ہیں بٹ بھی انہوں نے ریڈ کر دی سارے  کان تمہارے۔
بالاج کےپاس  انے سے اپنے  ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لی اور ایرنگ مٹھی میں دبا لی۔ ۔۔
بالاج کے پاس انے سے پرفیوم کی خوشبو میں بریرہ نے گہری سانس لے کر محسوس کیا ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی ابھی یوز کی ہے  جاتے وقت استعمال کی اس قدر ڈاک پرفیوم۔۔۔
بریرہ کو گہرا سانس لیتے ہو اسے دیکھا  کر بالاج نے پوچھا کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے فیس کیوں ریڈ ہو گیا ہے تمہارا ۔۔۔
نہیں کچھ نہیں ساتھ ہی دو قدم پیچھے ہو کر کہا۔۔۔
اگر تم تھک نہیں گئی تو کیا چائے بنا کر دے جاؤ گے روم میں۔۔۔
ا بی پییں گے      کافی بے وقوفانہ سوال تھا ۔
ہاں کیوں کوئی مسئلہ ہے۔۔۔
نہیں میں بنا دیتی ہوں ۔۔۔
چینج کرنے سے پہلے بنا دینا میں نے صبح ڈیوٹی پر بھیجانا ہے ۔
جی اچھا میں بنا دیتی ہوں ۔۔۔
ایرنگز کو سامنے ٹیبل پر رکھ کےکچن کا رخ کیا اور جاتے ہوئے مڑ کر دیکھا وہ وہاں کرا دیکھ رہا تھا ۔۔۔
  بالاج نے بریرہ کی چادر اور ایگز اٹھا کے اپنے ایک ہاتھ میں کے اور  قدم اپنے روم کی طرف بڑھائے۔
پتہ نہیں کتنی چائے پینی ہے انہوں نے ابھی تو  کھانے کے بعد چائے  سب کے ساتھ  بیٹھ کر بھی تھی ۔۔۔
بس ان کو چین نہیں مجھ سے کام کروائے بغیر اب مجھے چائے بنا کر دینے جانا پڑے گا
اور ایک یہ اتنی لمبی میکسی  لے کر دی ہے جو پاؤں میں ا رہی ہے شکر ہے میں کہیں گری نہیں  ویسے خوبصورت ہے یہ اچھی لگ رہی ہے میں نے تو زیادہ پکس بھی نہیں لی روم میں جا کے لوں گی جیسے ہی چائے بنی کپ میں ڈال کر بالاج کے لمرہ کا رخ کیا تاکہ کمرے میں چائے دے کر اپنے روم میں جا سکے۔۔۔
دروازہ  کھٹکھٹا  لیکن کوئی اواز نہیں ائی اندر سے اس لیے ہینڈل کو کما کر دروازہ کھولا تو کمرہ خالی تھا شاید وہ ڈریسنگ روم میں تھا سوچ کر چائے جلدی سے ٹیبل پہ رکھنے کے لیے قدم اگے بڑھائے تاکہ اپنے روم میں جا سکے ٹیبل کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے صوفے پر اپنی چادر دیکھی ساتھ ہی انکھیں چھوٹی کر کے اس کو دیکھا اور سوچا یہ تو میں باہر چھوڑ کر ائی تھی یہاں کیسے ائی کیا ۔۔۔۔
وہ  لے کر ائے وہ نہیں اپنے اپ کو ہی جھٹلایا انہوں نے کیا کرنی تھی شاید میرے روم میں رکھنے کے لیے لے کر ائے تھے اور غلطی سے  اپنے میں لے ائے خود ہی سوچا اور خود ہی رد کر دیا سب کچھ چائے رکھتے ہوئے واپسی کے لیے قدم بڑھائے ساتھ ہی ڈریسنگ روم کا دروازہ کھلا وہ ایزی ٹولر شرٹ چینج کر کے وہ میں انٹر اس کے قدموں کو تیری سے کمرے سے باہر جاتے ہوئے دیکھ کر میں نے کچھ کہا تھا تھوڑے دن پہلے تم سے ۔۔۔
بالاج کی اواز سے فورا قدموں کو روکا اور بالاج کی طرف دیکھا اور سوچنے کی کوشش کی اور کیا کہا تھا 
مجھے یاد نہیں۔
اور نہ سمجھے کہ تاثرات چہرے پر لا کر دیکھا اس سے چہرے پر سوال دیکھ کر اس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے میں نے تھوڑے دن پہلے تم سے کہا تھا کہ میرے کمرہ میں شفٹ ہو جاؤ بلکہ ہو جانے کے لیے نہیں کہا تھا بلکہ کہا تھا کہ اب تم اور میں مطلب ہم دونوں ایک ہی روم میں رہیں گے ۔۔۔
نہیں میں اپنے روم میں ایزی ہوں مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے اس روم سے ۔۔۔
ائی نو تم ایزی ہو اس کمرے میں بٹ یو نو کہ ہسبینڈ وائف ایک روم میں رہتے ہیں۔۔۔
دو قدم پیچھے لے کر کہا بٹ ہم عام ہسبینڈ وائف تو نہیں ہیں۔۔
کیوں کیا خامی ہے یا کیا ایسی چیز ہے جو ہم نے عام ہسبینڈ وائف سے الگ کرتی ہے دو قدم اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔
دیکھیں بلاج میری بات سنیں ہماری شادی عام شادی تو نہیں ہے۔۔۔
بریرہ تم پھر سے وہی بات کر رہی ہو میں نے کہا تھا اب جو بھی ہے میں اور تمہیں دوبارہ جو ہو چکا اس کا ذکر نہیں ہوگا کہتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
انکھوں میں انسو لا کر اس کی طرف دیکھا اپ کب مانیں گے جو اپ نے سوچا ہے جو اپ نے کیا ہے وہ غلط ہے جو اپ نے سمجھا ہے وہ غلط ہے۔۔۔
تمہیں کیوں لگ رہا ہے میں ہی غلط ہوں بریرہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے تم غلط ہو ۔۔۔
میں اس بات پر غلط نہیں ہوں جو بات ہے ہی نہیں اس بات کو مان کیسے لیا جائے۔۔۔۔
اور اگر وہ بات ہوئی تو تم کیا کرو گی اور اگر میں سچا ثابت ہوا تو کیا کر لوگی تمہارا خاندان کیا کر لے گا کیا واپس ا جائے گا وقت گئی ہوئی چیزیں واپس ا جائیں گی سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا نہیں نا تو پھر اس میں تمہاری اور میری بہتری نہیں کہ ہم اپنی یہ لائف جیسے عام لوگوں کی ہوتی ہے ویسے گزاریں۔۔۔۔
لیکن ہم عام تو نہیں ہیں نا سب کچھ عام لوگوں کی طرح نہیں ہے وہ باتیں بولنے سے بھی نہیں بول سکتی۔۔
کیوں کیا ناممکن ہے تم نے ہی تو کہا تھا کہ اگر تم اور سب سچے ہوئے تو ایک دن ثابت ہو جائے گا ٹھیک ہے اس دن کا انتظار کرتے ہیں ثابت ہونے کا لیکن اپنا اج کا وقت اس کے لیے گواتے نہیں ہیں۔۔۔
بالاج کی باتیں سن کر
ٹاک ڈارک براؤن انکھوں سے تو انسو نکل کر چہرے پر جسے کندھے سے ہاتھ ہٹا کر فورا اس کے انسو صاف کیے اس کا سہارا مل فورا سے اس کے سینے پر سر رکھ کر دل کا سارا غبار نکالنے کی کوشش کی دونوں ہاتھوں سے اس کی بیک شرٹ پر گرپ بنائی
بالاج نے دونوں انکھیں زور سے بند کر کے چھوٹی سی گڑیا کے انسو اپنے سینے پر محسوس کیے جس کے گھر والے اس کو ایک بھی انسو برداشت نہیں کرتے تھے اور اب اب تک پتہ نہیں وہ گڑیا کتنی  اذیتیں جیل چکی تھی کہیں دل میں گلٹ بھی تھا کہ کیا ہو گیا لیکن ایک دماغ ہے جو بار بار اسے یہ کہتا ہے کہ تم حق پر ہو جیسا ہوا تھا تمہارے ساتھ تم نے ویسا کر دیا اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا اور اس کے انسو صاف کے ڈارک براؤن انکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو گئی چہرہ بھی صاف کرتے ہوئے دونوں انکھوں پر ہونٹ رکھے باری باری اور ایک ہاتھ اس کے سر پر کے نیچے رکھا جو دوبارہ سے سر اس کے سینے پر رکھنا چاہ رہی تھی۔ ۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on