ایک ہستا مختار گھر اج ویران ہو گیا. ۔۔جس کی موجودگی سے گھر میں رونق ہوتی تھی ۔ اسے لاڈلی کو اج قبر میں لٹائے آے جو باپ اور بھائیوں کے شہزادی اور گڑیا تھی اور جو بہن کے لیے ایک بی بی ڈول ماں کے لیے ایک ڈرامہ کوین تھی ۔ وہ جس میں جان بستی ہے پورے خاندان کی بدلہ لینے والے نے صحیح وار کیا ہے ۔
پورے خاندان پہ وہ بدلہ بھی اس نے لیا وہ جو شہزادہ اور لاڈلا ہے اپنے ماموں کا جس کو سارا خاندان سمجھدار بچہ سمجھتا تھا ۔۔
اس نے ایک غلط فہمی میں پورا خاندان اجاڑ دیا پورا خاندان ویران کر دیا کس کو خبر کیا ہوا بے خبری میں یہ کیا حال ہو گیا۔۔۔۔
اکبر صاحب ماں باپ کے بڑے اور لاڈلے بیٹے جوانی میں قدم رکھتے ہی ماں باپ بہن بھائیوں کی ذمہ داری دے کر خود خالق حقیقی سے جا ملے۔۔۔۔۔اور ذمہ داری بھی ایسے سنبھالی کے ماں باپ سے بڑھ کر پالا ویسے تو خاندان زمینیں اور پیسہ تھا۔
کہ ساری زندگی بیٹھ کر کھا سکتے تھے لیکن اس زمینوں کو اور پیسے کو حق حلال کا کرنے کے لیے خود بھی کمایا اور بہن بھائیوں کو بھی یہی درس دیا کہ جو تھا ہمارے ماں باپ کا تھا۔ اور جو اب ہم کریں گے وہ ہمارا ہوگا اس سے ہی ہمارا نام ہوگا ۔
اکبر راجپوت جن کی شادی ایک راجپوت زادی سے ہوئی فاطمہ اکبر جنہوں نے گھر کو ایسا سنبھالا ایک جنت کی طرح اور ساتھ ہی اکبر صاحب کے بہن بھائیوں کا بھی اپنے بہن بھائیوں کی طرح خیال رکھا۔
۔۔۔۔۔۔ خدا نے دو بیٹے عمار اورعارض ، دو بیٹیاں برینا اور بریرہ دی۔۔۔۔۔
اکبر سے چھوٹے بھائی اصغر جن کی شادی فاطمہ بیگم کی چھوٹی بہن سے ہوئی عائشہ ۔۔۔۔۔۔دونوں نے اپنی ذمہ داریوں سے گھر کو سنبھالا۔
جن ایک اکلوتی بیٹی ہانیہ جس کی نسبت بڑوں کی مرضی سے اور عمار کی پسند سے طے تھی۔۔۔۔۔
انگیجمنٹ کا فنکشن نہیں ہوا پراپر لیکن بڑوں میں یہ بات طے تھی کہ وقت انے پر دونوں کا انشاءاللہ نکاح ہوگا اور رشتہ زواجت میں باندھا جائے گا ۔۔۔۔۔۔
اکبر اور اصغر صاحب کی لاڈلی اور چھوٹی بہن صوفیہ، جس سے پیار سے صوفی کہتے تھے۔ جس کا بچپن نے والدین کی مرضی سے والد کے بہترین دوست کے بیٹے سے رشتہ طے تھا۔
جو عمر میں اس سے چھ سال بڑا تھا دونوں بھائیوں کو اس رشتے پہ اعتراض تھا۔۔۔۔۔
کہ وہ ہمارے برابر کے لوگ نہیں ہیں کھاتا پیتا گھرانہ تو ہے لیکن ہماری بہن وہاں جا کے راج نہیں کرے گی جیسے وہ یہاں رہتی ہے ۔۔۔۔لیکن ماں باپ کے مرنے کے بعد اکبر صاحب نے ماں باپ کی زبان کا کی لاج رکھنے کے لیے بہن کو اسی جگہ بیان دیا جہاں ماں باپ نے نسبت پکی کی تھی ۔۔۔
بہن کی راج نہیں کیا وہاں جا کر لیکن اس خاندان کی وہ لاڈلی بہو اور سب سے بڑی بہو جس پہ ساری ذمہ داریاں ان پڑی اور خدا نے تین اولادوں سے نوازا دو بیٹے عریب اور بلاج اور ایک بیٹی پارسا ۔
بچے بڑے ہو رہے تھے۔ سسرال میں پانچ کمرے جن میں سے ایک صوفیا کا اور اور تین جمال صاحب سے چھوٹے بھائیوں کے اور ایک ان کے ماں باپ کا اور پانچوں بہنوں کی شادی ہو چکی تھی جب صوفیہ اور جمال صاحب نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ وہ گھر الگ کرنا چاہتے ہیں بچے بڑے ہو رہے ہیں ایک کمرے میں گزارا نہیں ہوتا ۔۔۔۔
تو جمال صاحب کے والد نے کہا میرے مرنے کے بعد تم سب الگ ہو جانا اور جو زمین ہے وہ تم لوگوں کو میرے مرنے کے بعد ہی ملے گی ۔۔۔۔۔۔۔
تب تو صوفیا اور جمال چپ ہو گئے لیکن گزارا مشکل تھا ایک کمرے میں کرنا۔
انہی دنوں صوفیا اپنے مائکے ہائی ہوئی تھی باتوں ہی باتوں میں بھائیوں اور بھابیوں کو یہ کہہ دیا کہ میرے سسر یہ کہہ رہے ہیں۔۔۔
کہ میرے مرنے کے بعد ہی تم لوگوں کو زمین ملے گی میرے زندہ رہنے تک زمین کا بٹوارہ نہیں کروں گا۔۔
تو بھائیوں نے کہا کہ تم ہم سے اپنا حصہ لے لو جو تمہارا بنتا ہے شریعت کے مطابق لیکن صوفیا نے تب انکار کر دیا اکبر صاحب نے یہی بات جمال سے کہی۔
کہ ہماری بہن کا اسلام نے حصہ رکھا ہے تو ہم کیوں انکار کریں گے دینے سے تو جمال صاحب نے یہ کہا کہ اچھا نہیں لگتا لیکن اکبر نے کہا کیوں اچھا نہیں لگتا وہ اس کا حصہ ہے شریعت کہتی ہے کہ بیٹی کا حصہ ہے ماں باپ کی زمین سے تو ہم چاہتے ہیں کہ وہ لے لے اور اپنا گھر بنائے جہاں وہ اور اس کے بچے ایک ازاد اور خوش ماحول زندگی گزاریں اور وہ گاؤں کی زندگی سے نکل ائیں۔۔۔۔
اور بچوں کی سہولت کے لیے بھی اور تعلیم کے لیے بھی یہ اچھا رہے گا کہ تم لوگ گاؤں سے نکل اؤ اور اپنا حصہ لے کر یہاں گھر بنا لو بر نے صوفیہ کو اس کا حصہ دے کر اس کا گھر بنوا دیا۔۔۔۔
اس وقت بلاج سی ایس کے امتحان دے رہا تھا اور اس سے بڑا عریب کی نوکری سٹارٹ ہوئی تھی باقی جو صوفیا کے حصے میں زمین اتی تھی وہ بلاج اور عریب کے نام کر دی وہ کہا کہ اس کو بیچ کر اپنا کاروبار شروع کر لینا اور بہن کو کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم تمہارا اب اس گھر میں انا جانا ختم ہو گیا تمہارے ماں باپ کا گھر ہے جب دل کہے تب انا اس گھر کے دروازے تمہارے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ان دنوں میں بالاج اپنی پڑھائی کے سلسلے میں لاہور میں تھا اور اپنی بڑی پھپھو کی طرف۔
صوفیہ کی نندوں سے یہ برداشت نہ ہوا کہ بھائی اور بھابی الگ گھر میں رہیں انہوں نے بالاج کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی۔
کہ تمہارے مامو زمین دیکھ کر خوش نہیں ہیں تمہاری ماں کو اس وجہ سے بیمار رہتی ہے بلال نے اپنی ماں سے پوچھنے کی کوشش بھی کی کہ کیا ہوا لیکن انہوں نے کہا کچھ نہیں بس ایسے ہی طبیعت خراب ہے ۔۔۔
“اللہ کی کرنی یہ ہوئی نیا گھر بنائے کو چند ماہ ہوئے تھے انہوں نے دنوں میں صوفیا ہارٹ اٹیک سے چل بسی بھائیوں کے لیے صدمہ بہت بڑا تھا کہ لاڈلی اور سب سے چھوٹی بیٹی ہم سے پہلے ۔۔۔۔
“صوفیہ ہارٹ کی پیشنٹ تھی اس کا پتہ ہی نہیں چلا کہ کب وہ اللہ کو پیاری ہو گئی. “لیکن بالاج کے ذہن میں یہ بات رہ گئی کہ میری ماں کو کسی چیز کا صدمہ تھا وہ چیز میرے مامو کی وجہ سے تھی ۔۔۔انہوں نے پہلے تو جائیداد دے دی پھر بعد میں باتیں سناتے رہے اس صدمے سے میری ماں چل بسی اس نے اپنے بابا سے بھی کہا تھا کہ ماموں نے یہ کہا ہوگا ماں کو جس دن صوفیہ کی موت ہوئی تھی اس دن وہ اپنے بھائی کے گھر سے ائی تھی اور شام کو اس کو ہارٹ اٹیک ہو گیا اور بلاج کے ذہن میں یہ بات رہ گئی۔۔۔۔۔
کہتے ہیں نا حسد بڑے سے بڑا گھر اجاڑ دیتی ہے ماچس کی تیلی کی طرح ہوتی ہے جو چند سیکنڈ میں سب کچھ خاک کر دیتی ہے
۔۔۔۔۔!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

