Uncategorized

Lamha Ishq by Sara Rana Episode 20

وہ اپنے افس میں بیٹھی تھی جب ایک افیسر نے ا کر بتایا کہ میڈم اپ سے ملنے کوئی ایا ہے کون ایا ہے اور اس افیسر کے کہنے پر اس کی طرف دیکھا

میڈم اسلامی پارٹی کے چیئرمین ماں کنعان عالم۔۔
فائل کا صفحہ پلٹتے ہوئے ہاتھ رک گئے پہلے تو چند سیکنڈ افیسر کے چہرے کی طرف دیکھا پھر اپنے اپ کو ہوش میں لا کر کہا ۔۔
کیوں ملنے ائے ہیں وجہ پوچھی ہے اپ نے۔۔
جی میڈم ابھی تک تو نہیں پوچھی صرف ان کو باہر بٹھایا ہے وہ اتنی بڑی پارٹی کے چیئرمین ہیں تو ہم کیسے پوچھتے ہیں  ان سے کیوں اپ سے ملا ائے ہیں  ہم نے بٹھا دیا باہر ۔۔۔
آبش نے غصے سے مٹھیاں بند کی میرے ہی افس میرے  دشمن کا اس قدر پروٹوکول کہ اس سے پوچھا بھی نہیں جا رہا کہ وہ کیوں ایا ہے۔۔۔

غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا ان سے کہو ویٹ کریں میں بزی ہوں۔ ۔
لیکن میڈم۔۔
جو کہا ہے وہ کرو جا کر۔۔
افیسر نے بھی  سر ہلا کر قدم دروازے کی طرف بڑھا دیے کیا پتا  ائی جی صاحبہ کو غصہ ا جائے اور کچھ اس کے ساتھ ہی برا نہ ہو جائے لیکن وہ خود بھی سوچ رہا تھا کہ باہر جا کے اتنے بڑے ادمی کو کیا کہے گا۔ ۔
تھوڑا جھجکتے ہوئے کہا سر میڈم تھوڑا بزی ہیں اور تھوڑی دیر تک اپ سے ملیں گی ۔ ۔
ماتھے پر لکیریں ڈال کر کہا کیا تم نے بتایا نہیں کہ کون ایا ہے ۔۔
جی وہ میڈم تھوڑا بزی ہے  بتانے  کا موقع نہیں ملا اپنی میڈم کی ریپوٹیشن ٹھیک رکھنے کے لیے جھوٹ بول دیا۔ ۔۔
ٹھیک ہے میں ویٹ کرتا ہوں۔ ۔۔
افسر نے تو دل میں سوچا تھا کہ چلا جائے گا لیکن اسے بیٹھا دیکھ کر سمجھ ائی کہ بہت ہی کوئی ضروری بات ہوگی جو وہ تھانے میں ویٹ کرے گا۔ ۔
تقریبا ادھے گھنٹے کے بعد جا کر دوبارہ سے کہا ۔۔
میڈم وہ سر ابھی تک بیٹھے ہیں اپ سے ملنے کے لیے۔۔
وہ جو کب سے انتظار کر رہی تھی کہ دوبارہ پیغام ائے ادھے گھنٹے کا انتظار اسے کم لگ رہا تھا لیکن اسے اب باہر نکلنا تھا تھوڑی دیر تک اس لیے کہا بیچ دو اندر۔۔۔
افسر نے بھی جلدی سے کمرے کا دورہ کھولا۔۔
ماہ  کنعان سے زیادہ جلدی اس کو افس میں بھیجنے کی تھی کیونکہ وہ کب سے اسے  انتظار کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ ۔۔
جس انتظار کرنا پسند نہیں تھا وہ ادھے گھنٹے سے تھانے میں بیٹھ کر انتظار کر رہا ہے کہا تو کچھ نہیں لیکن بار بار  کنعان کا اپنی طرف دیکھنا ہی اس کی جان نکال رہا تھا اس لیے خود ہی میڈم کے پیغام کا انتظار کرتے ہوئے تو دوبارہ سے پیغام لے کر اگیا اب اجازت ملتے ہی قدموں نے تیزی پکڑ لی تھی۔۔۔
۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سر چلے جائیں میڈم فری ہو گئی ہیں۔ ۔۔
اجازت ملتے ہی فورا سے قدم اس کے کمرے کی طرف بڑھائے جس کے روم کے باہر ہی تختی پر اس کا نام لکھا ہوا تھا۔ ۔
دروازہ کھٹکھٹا کر کمرے میں داخل ہونے کی اجازت لی
دروازہ کھٹکھٹانے کی اواز پر اپنا دھیان  فائل کی طرف رکھتے ہوئے
ندر انے کی اجازت دی دروازے کی اواز سے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی اج اتنی دیر بعد روبرو بات ہوگی اج سے اغاز ہوگا ہر چیز کا۔۔
اجازت ملتے ہی قدم کمرے کے اندر رکھ۔
السلام علیکم۔ ۔
وعلیکم السلام چہرے پر انجان سے تاثرات لا کر سلام کا جواب دیتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ بیٹھ جائیں
کنعان نے بھی اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے چیئر پر بیٹھ گیا شاید   نہیں اس سے یقین تھا کہ وہ پہچان لے گی لیکن اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر ایسے لگا جیسے اس نے پہلی دفعہ دیکھا ہوگا کسی کو۔
ماہ کنعان  نےاپنے سارے خیالات کو جھٹک کر کہا کیسی ہو تم
اس کے تم کہنے پر فورا سے کہا الحمدللہ میں ٹھیک ہوں لیکن اپ تم کہنے سے پرہیز کیجئے گا شاید اپ نے باہر پڑھا نہیں یہ کس کا افس ہے اور میں صرف تم کہنے کی اجازت ان لوگوں کو دیتی ہوں جن کو میں جانتی ہوں سو احتیاط کیجئے گا نیکسٹ ٹائم
اس کی اتنی لمبی بات سن کر اپنا ہی جواب دیا۔۔
کہ میرا حال نہیں پوچھو گی۔ ۔
اپ نے جو بات کرنی ہے وہ کیجیے میں ہر کسی سے اس کا حال چال پوچھنے نہیں بیٹھتی۔ ۔۔
اب کافی دیر سے باہر بیٹھ کر انتظار کر رہے تھے جو بات کرنی ہے کیجیے مجھے ایک ضروری جگہ پر بھی جانا ہے کنان کو اپنی جانب اتنے گور سے دیکھتے ہوئے دوبارہ سے کہا۔ ۔
انجان کیوں بن رہی ہو جیسے مجھے جانتی نہیں ہو   ۔۔۔۔
مسٹر اگر اپ نے کوئی ضروری بات نہیں کرنی تو اپ جا سکتے ہیں اپ  فارغ ہوں گے میں نہیں۔ ۔۔
چہرے پر عجیب سے تاثرات لا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو اس کی ایک ایک مومنٹ کو غور سے دیکھ رہا تھا جس نے شاید ابھی تک پلکیں جب نہیں جھکائی   تھی اس کو دیکھتے ہوئے۔ ۔۔
کنعان کو مسلسل اپنی طرف دیکھتے ہوئے اپنی کیپ اٹھا کر سر پر رکھی اور  کرسی کو پیچھے دھکیل کر اٹھ کھڑی ہوئی اسکیوز می اپ اپ جا سکتے ہیں مجھے ضروری کام سے نکلنا۔ ۔۔
ابش کمال اتنی انجان کیوں بن رہی ہو  جیسے مجھ سے پہلی دفعہ مل رہی ہو یا مجھے پہلی دفعہ دیکھ رہی ہو۔ ۔
اس کے اٹھتے  قدموں کو دیکھ کر کنعان نے کہا اپنا نام پکارے جانے پر اس نے اپنا دوسرا قدم نہیں اٹھایا دوبارہ سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جی بالکل اپ کو ٹی وی پر دیکھا ہے پر ملاقات پہلی دفعہ ہوئی ہے اپ کی اس قدر  فرینکنس مجھے ہضم نہیں ہو رہی سو اگر اپ نے کوئی بہت ہی ضروری بات کرنی ہے تو وہ کیجئے ورنہ مجھے اجازت دیجئے۔ ۔
   اپ کا اپنا افس ہے مجھ سے اجازت لینے کی کیا ضرورت۔ ۔۔
کنعان کا مسلسل اپنی طرف دیکھنا ضبط کرتے ہوئے کہا جی بالکل میں جانتی ہوں یہ کہ میرا ہی افس ہے لیکن میں اپ کے اٹھ کے جانے کا ویٹ کر رہی ہوں دو ٹوک جواب دے کر اس کی طرف دیکھا جو  کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا
بہت گہرے ہیں یوں تو سمندر لیکن
اس کی انکھوں کی بات اپنی ہے
کنعان نے دو قدم اس کی طرف بڑھاتے ہوئے اس کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر شعر کہا۔
ابش نے بھی اپنے  قدموں کو مضبوطی سے زمین پر رکھ کر اس کا اپنے قریب انا اور شعر بولنا ضبط کیا۔۔
اپنے شعرکے بعد اس کی ایکسپریشن دیکھ کر جلدی سے رخ بدل کا دروازے کی طرف قدم اٹھائے
باہر بیٹھے افیسر نے بھی اس کو نکلتے دیکھ کر حیرانگی سے گھڑی کی طرف دیکھا تو دس منٹ کے اندر واپس اگیا ادھے گھنٹے کے انتظار کے بعد صرف اتنی سی بات کرنی تھی ۔اس کے قدموں کی تیزی کو دیکھتے ہوئے سوچا۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on