اماں اماں اج میں اتنی خوش ہوں اپ سوچ نہیں سکتی پہلا وار کیا ہے میں نے اپنے دشمن پر لیکن اصل وار تو بھی باقی ہے
اماں کہ دونوں بازو پکڑ کر گھماتے ہوئے کہا۔
او پاگل لڑکی اس کے بازوں کو پکڑ کر اپنے گھومتے سر کو ایک ہاتھ سے پکڑا اور کہا کیا مجھے گرانا ہے تم نے کیا کر رہی ہو اب تمہاری ماں میں اتنی جان نہیں رہی۔ ۔۔
میرے پاس جو خبر ہے نا اس کو سن کر اپ اپنے اپ کو جوان محسوس کریں گی اتنی اچھی خبر ہے میرے پاس۔
خوشی اس کے چہرے سے ہی محسوس ہو رہی تھی۔
اچھا بتاؤ کیا ہوا۔ ؟
اپ سوچ بھی نہیں سکتی مجھے ثبوت مل گئی ان کے خلاف لیکن ابھی صرف ایک کے خلاف ہے اہستہ اہستہ سب کچھ سامنے ائے گا ۔
ابھی ان کی سیاست میں کیڑا نکال رہی ہوں میں جب ان کے خاندان میں نکالوں گی نہ تو یاد رکھیں گے کہ کس پر وار کیا تھا۔ ۔
آبش کیوں پہیلیاں بجھا رہی ہو صاف صاف بتاؤ کیا ہوا۔ ۔ ۔۔
ابھی تو کچھ نہیں کیا اج سے دو دن بعد عدالت میں ایک فائل جمع ہوگی عالم شاہ کے بھائی کے خلاف کہ اکرم شاہ نے رشوت لی ہے اور پورے ثبوت ہے سب کے پاس دینے والا خود گواہی دے گا کسی ایک سے نہیں پتہ نہیں کتنے لوگوں سے لی ہے اور جن کے ساتھ۔
نہ انصافیاں کی ہیں وہ بھی بیان دینے کے لیے تیار ہے ابھی کیس نہیں ہوا لوگ خلاف بولنا شروع ہو گئے ہیں جس دن کیس فائل ہو گیا تو بہت سوچ ہی نہیں سکتی کیا کچھ نکلے گا ان کے ماضی سے۔ ۔
جیسے جیسے وہ پکڑ میں ائیں گے اور پرانے کھاتے کھلیں گے تو سب سے پرانا اور بڑا کھاتا ہمارا ہوگا جو میں کھولوں گی۔ ۔
میں اس وقت عین موقع پر اپنا کیس ری اوپن کروں گی۔ ۔
میرے کیس سے کبھی با عزت بھری نہیں ہو سکتے وہ لوگ ایک ایک ثبوت ہیں دل تو کیا تھا پہلا وار ہی اس کیس کا کروں پر لیکن نہیں دنیا ایک ایک کر کے کرتوت دیکھے گی۔ ۔
بڑا وار سب سے اخر پہ کرنے کا مزہ ائے گا ابے چھوٹے چھوٹے وار ہی کافی ہیں۔ ۔
میری بچی وہ بہت بڑے لوگ ہیں اگر وہ اس سب سے باعزت بھری ہو گئے تو تم ایسے ہی بد نام جاؤ گی ان چیزوں میں ان کو پتہ لگ جائے گا یہ کہ تم کر رہی ہو یہ سب۔ ۔
میں صرف ثبوت اور لوگوں کو ہمت دے رہی ہوں اماں کچھ نہیں کر رہی جن کے ساتھ نہ انصافیاں ہوئی ہیں نہ وہ خود اگے بڑھ رہے ہیں ابھی صرف اکرم شاہ کے خلاف ثبوت ہے میرے پاس بہت جلد اس خاندان کے خلاف ہوں گے جو ان کی پارٹی کے نیو کرتا دھرتا ہے نا ان کو ابھی گڑیسا جائے گا ہر چیز میں۔
بہن کی اور اماں کی باتیں سن کر دروازے سے ہی قدم ائینہ نے پیچھے ہٹا لیے جو کب سے کھڑی ان کی باتیں سن رہی تھی دو دن سے ابھی اپنی طبیعت خراب محسوس ہو رہی تھی ابھی وہ یہی کہنے ائی تھی کہ وہ ڈاکٹر کے پاس جانا چاہ رہی ہے لیکن اپنی بہن کو خوش دیکھ کر خاموشی سے اپنے قدم پیچھے لے لیے اگر وہ ساتھ نہیں دے سکتی تھی تو کچھ کہنے کا بھی حق نہیں رکھتی تھی۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آبش آبش جلدی سے اوپر اؤ میرا بچے دیکھو کیا ہو گیا ائینہ کو کیسے بے ہوش پڑی ہے
ائینہ کے کمرے سے نکلتے ہوئے اوپر کھڑے ہو کر ہی نیچے ڈائننگ ٹیبل کی طرف دیکھ کر اواز۔
آبش فریش ہو کر نیچے ڈائننگ ٹیبل پر ائی تھی اماں ائینہ کو ناشتے کے لیے بلانے گئی تھی جو ابھی تک یونیورسٹی جانے کے لیے روم سے نہیں نکلتی تھی۔ ۔
اماں کی اواز پر فورا سے ناشتے کی پلیٹ پیچھے کر کے بھاگتے ہوئے قدم سیڑھیوں کی طرف۔ ۔
ائینہ کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس کو بیڈ پر بے سود پڑے ہوئے دیکھا پاس جا کر اس کے سرہانے بیٹھ کر اس کے چہرے کو ہاتھ لگایا۔ ۔
اماں بخار تو نہیں ہے۔ ۔
پتہ نہیں کیا ہوا ہے میری بچی کو میں بھی کب سے اوازیں دے رہی ہوں پتہ نہیں کیا ہو گیا میری بچی کو ہوش ہی نہیں ا رہا۔ ۔
ایسا کرو ڈاکٹر کو فون کرو۔ ۔
ائینہ کا سر دوبارہ سے تکیے پر رکھ کر اپنے کمرے میں جا کر فون اٹھا کر لے کر ائی اور ان سے ڈاکٹر کو کال کی۔
ڈاکٹر کو کال کرنے کے بعد دوبارہ سے ائینہ کے پاس بیٹھ کر اس کے بالوں کو سلایا جو بالکل بے سود پڑی تھی ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو رہے تھے اس کے ہاتھوں کو مسلتے ہوئے اواز دی ائینہ میرے بچے کیا ہوا میری جان دوسری طرف اماں بیٹھ کر ہاتھ کو سلا رہی تھی۔
مجھے پہلے ہی دو دن سے ایسے لگ رہا تھا جیسے اس کا رنگ پیلا پڑ رہا ہے میرے بار بار پوچھنے پر بھی اس نے کچھ نہیں بتایا سکول سے ا کر لیٹ جاتی ہے کمرے میں بہت کم بولتی ہے اج کل پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے اسے۔
میری جان نکل رہی ہے اس کو اس طرح پڑے دیکھ کر۔ ۔
انہوں نے یونیورسٹی کو سکول کہہ کر اپنی بات سمجھانے کی کوشش کی۔۔
حوصلہ کریں اماں ا رہی ہیں ڈاکٹر چیک کر لیں گی اپ اپنی طبیعت نہ خراب کر لیجئے گا۔ ۔۔۔
گارڈ کے کال کرنے پر کہا کہ اندر انے دو ڈاکٹر کو۔
ڈاکٹر گارڈ کے ہمراہی اوپر تک ائے اگے سے آبش نے ان کو رسیو کیا ۔
جس کی اپنی حالت خراب ہو رہی تھی اپنی جان سے عزیز بہن کو اس حال میں دیکھ کر ماتھے پہ اتے ہوئے پر سینے کو صاف کر کے ڈاکٹر کو اندر جانے کا راستہ دیا۔
ایک طرف اماں بیٹھی ہوئی تھی جن کے ہاتھ میں ابھی بھی ائینہ کہا ہاتھ تھا۔
چیر کو پاس کر کے ڈاکٹر کو بیٹھنے کی جگہ دی آبش نے۔
ڈاکٹر نے چیک کرتے ہوئے کہا اپ باہر چلے جائیں مجھے تفصیل سے چیک اپ کرنا ہے اماں نے ڈاکٹر کی اس بات پر حیرانگی سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا کہ وہ بے ہوش بندے کا چیک اب ان کے سامنے بھی تو کر سکتی ہیں۔
ڈاکٹر کی بات سمجھتے ہوئے اماں کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کیا ائی اماں چلتے ہیں ڈاکٹر کو چیک اپ کرنے دیں تھوڑا حیرانگی سے کہتے ہوئے اماں کو باہر لے گئی۔ ۔
ڈاکٹر کی اواز پر تھوڑی دیر بعد کمرے میں داخل ہوئے دونوں جو کوئی انجیکشن لگا رہی تھی ائینہ کے بازو میں۔
کیا ہوا ڈاکٹر میری بچی کو یہ اس طرح کیوں پیلی پڑ رہی ہے۔ ۔
اسے ہوش کیوں نہیں ا رہا ڈاکٹر اماں کو صوفے پر بٹھا کر اپنے قدم بیڈ کی طرف بڑھائے جہاں ڈاکٹر بیٹھ کر ائینہ کے بازو پر انجیکشن لگا رہی۔
گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے یہ کیا لگتی ہیں اپ کی ڈاکٹر نے انجکشن لگا کر ابش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
جی میری سسٹر ہے چھوٹی۔
ڈاکٹر کو جواب دیتے ہوئے آبش نے کہا۔
مبارک ہو اپ خالہ بننے والی ہیں۔ ۔ ڈاکٹر کی بات سن کر نہ سمجھی کے تاثرات چہرے پر لا کر ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔
میں کچھ میڈیسن لکھ کر دے رہی ہوں ان کو لیتے رہیں اور تھوڑی دیر تک انہیں ہوش ا جائے گا اور پلیز ریگولر چیک اپ رکھیے گا ان کا بہت ویک ہے یہ۔
ابھی تو پہلی بات ڈاکٹر کی ہضم نہیں ہو رہی تھی دوسری باتیں سن کر سر ہلانے کی ابھی یاد نہ رہا۔ ۔
ڈاکٹر نے دوائیوں کی پرچی اگے بڑھائی جسے اگے ہو کر اماں نے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور ڈاکٹر پرچی پکڑا کر اٹھ کر چل دی جس کو باہر تک چھوڑنے بھی اماں گی۔
ابش کو تو ہلنا بھی یاد نہیں رہا جہاں وہ کھڑی تھی ابھی تک وہاں ہی رہ گئی۔ ۔
ڈاکٹر کو چھوڑ کر ا کر آبش کو ایسے ہی کھڑا دیکھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ۔
میرے بچے کیا ہو گیا ہے۔
ایک بھی الفاظ اپنے منہ سے نکالے بغیر کمرے سے باہر نکل گئی اور جا کر اپنے کمرے کا دروازہ بند کر لیا۔ ۔
۔۔۔

