ماضی
What the hell abdaar…
کس نے سکھائ ہیں یہ باتیں – سرخ چہرہ لیے اس نے آبدار کو دیکھا تھا – جو ہنوز اس کی بازو پکڑے کھڑی اس کو دیکھ کر ہنس رہی تھی —
ہنسو مت مجھے بتاؤ کس نے تمہیں بتایا ہے اس سب کے بارے میں _ ؟!
وہ کالج میں ایک لڑکی کو نا اس سے عمر میں کافی بڑا شخص پک کرنے آتا تھا – وہ ایک دن بیمار تھی اور باہر دھوپ پر کھڑی انتظار کررہی تھی تو میں نے اسکو آفر کی کے میں اسے چھوڑ دوں اگر اسکے فادر نہیں آۓ ہیں تو یونو اس نے کیا کہا _
کیا کہا —؟ دلچسپی سے سنتے زاویار نے دھرایا
اس نے کہا کہ وہ اسکے فادر نہیں ہیں بلکہ ڈیڈی ہیں – تو میں نے کہا کہ ایک ہی بات ہوئ نا – تو اس نے کہا نہیں وہ میرا ڈیڈی ہے شوگر ڈیڈی _ وہ جو اس پر پیسے خرچ کرتا ہے وغیرہ وغیرہ __
ایسی لڑکیوں سے دور رہو – سمجھ آئ وہ بلکل بھی اچھی نہیں ہیں _
میں تو اس کے بعد نہیں ملی اس سے لیکن یہ بات میرے زہن میں رہ گئ جانتے ہو کیوں _؟
کیوں _ زاویار نے بےساختہ پوچھا —
کیونکہ مجھے بچپن سے ہی نہ شوق ہے کہ میں شادی کروں گی تو اولڈر پرسن سے اور دیکھو پھر اللہ نے میری سن لی اور تمہیں بھیج دیا میرے پاس _
توبہ ہے لڑکی تم تو بہت pervert ہو _ وہ ہنسا تھا —
Only for you my oldie _
اور کسی نے میری یہ سائیڈ نہیں دیکھی _ وہ ہنس دی — کئ لوگوں نے انہیں دیکھا تھا لیکن کچھ کہنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی _
تم نے بتایا نہیں مجھے کہ میں کیسی لگ رہی ہوں تمہارے بھیجے ہوۓ گاؤن میں _؟؟!
تمہیں کیسے پتا چلا کے یہ میں نے بھیجا ہے – ؟؟ وہ حیران ہوا تھا _
دل کو دل سے راہ ہوتی ہے _
اب اس کا کیا مطلب ہوا –
یہ تو مجھے بھی نہیں پتا – بس اندازے سے کہہ دیا ہے _
توبہ ہے لڑکی _
ام ہم ——-
ویسے کیا تم کیک نہیں کاٹو گی _ ؟!
برتھ ڈے تو ایک بہانا ہے یہ پارٹیز تو اصل میں اپنے کنیکشنز بڑھانے کے لیے رکھی جاتی ہیں _ جیسے ابھی ناناجان گئے ہیں کچھ مافیاز کے ساتھ میٹنگ کرنے _ یہ لوگ صبح کچھ اور ہوتے ہیں اور رات کے اندھیرے میں کچھ اور ___
تو تمہیں یہ سب اچھا نہیں لگتا تو کیوں کر رہی ہو یہ سب ؟!
میرے پاس کچھ اور کرنے کو نہیں ہے نااور پاور پسند ہے مجھے بس اسلیے _ کچھ چیزوں میں ناناجان پر گئ ہوں میں _ ضدی ہوں ان کی طرح – میں نے جب ہوش سنبھالا تو مجھے سب پتا چلا جو کچھ بھی ہوا میری ماما کے ساتھ _
جانتے ہو ناناجان نے اپنی بیٹی کا بدلہ کیسے لیا _؟
کیا انہوں نے بدلہ لیا ؟!
ہمم انہوں نے میرے بابا کی فیملی جہاں رہتی تھی وہ گھر اس میں آگ لگا دی اور سب جل کر مر گئے – اور جانتے ہو نیوز میں کیا آیا _ انہوں نے کہا کہ سلینڈر پھٹنے کی وجہ سے آگ لگی اور سارا خاندان مارا گیا _ میرے دادا کو تو ناناجان نے اپنے ہاتھوں سے گولی ماری تھی وہ بھی میرے سامنے_ اسی دن ساری حقیقت بھی بتائ تھی –
مجھے یہ لگتا تھا اور اب بھی یہی لگتا ہے کہ کسی انسان کا حق نہیں ہے کسی دوسرے کو جان سے مار دینا _ میں اس بات کے خلاف ضرور تھی – لیکن جانتے ہو سلطان مجھے ان کے مرنے کا زرا بھی دکھ نہیں ہوا _ تب میں نے جانا کے مجھ میں میرے بابا کے خون سے زیادہ میرے نانا کا خون ہے_
میں نے اپنے نام کے آگے سے شہریار ہٹا کر سلطان لگا دیا _” آبدار سلطان ” —
سر ڈرنک – ایک ویٹر ٹرے اٹھاۓ ان کے پاس آیا _
نہیں چاہیے جاؤ _ آبدار نے سرد آواز میں اسے منع کیا اور زاویار کا بازو چھوڑے تھوڑا دور ہوئ _ زاویار سلطان نے مسکرا کر اسے دیکھا __
آب —
کیا _ ؟؟
آج سے میں تمہیں آب بلاؤں گا اوکے – صرف میں اوکے _
آل رائٹ — جیسا تم چاہو _
ویسے تمہیں نہیں لگتا کہ ہم نے میچنگ کی ہوئ ہے جیسے _ آبدار نے اپنے بلیک گاؤن کی طرف اشارہ کرتے اس کے آف وائٹ تھری پیس کی جانب اشارہ کیا —
بلکل مجھے پتا ہے – تمہارے لیے ڈریس سلیکٹ کرتے ہی میں نے خود کے لیے کیا تھا _ میچنگ یونو —
اوہ آئ سی —
یس _
پارٹی کافی دیر تک چلی تھی لیکن کیک کٹنے کے کچھ دیر بعد ہی آبدار اپنے کمرے میں چلی گئ تھی وہ تھک چکی تھی _ ویسے اس نے کیک کاٹا نہیں تھا بس کینڈل بجائ تھی اسے کیک کاٹنا پسند نہیں تھا _
یہ اسی رات کی بات ہے جب پیاس لگنے پر آبدار کی آنکھ کھلی – اس نے ٹائم دیکھا تو دو بج رہے تھے _ وہ اٹھی اور پانی لینے نیچے کی طرف بڑھی _ کچن کی لائٹ اون دیکھ وہ کنفیوز سی آگے بڑھی جہاں زاویار کچھ بنا رہا تھا _
اہم اہم _
آواز پر وہ پیچھے مڑا اور آبدار کو کھڑا دیکھ کر مسکرایا _
کیابات ہے کچھ چاہیے تھا _ اب وہ کیتلی میں ایک کپ دودھ اور ڈال رہا تھا آبدار نے کچھ نہیں کہا اور آگے بڑھی – کیا بنایا جا رہا ہے _؟!
چاۓ – مسکرا کر کہتا وہ اب کپ نکال رہا تھا _ تم نے مجھ سے گفٹ نہیں مانگا آب _کیوں –؟
کیا مانگنا چاہیے تھا _ ؟!
بلکل _ میں انتظار کرتا رہا لیکن تم نے کچھ کہا ہی نہیں _ داداجان سے تو تم نے کہا تھا تو مجھ سے کیوں نہیں —
جیلس __؟
یس _ مانگو مجھے تمہیں تمہارا گفٹ دینا ہے _ وہ اب چاۓ کو کپوں میں ڈال رہا تھا —
ہاہا اوکے, اہم سو مسٹر زاویار میرا گفٹ دو _
نو یہ نہیں سلطان کہو _
” اگر میں نہ کہوں تو _ “؟؟
پلیز __ چاۓ کے دونوں کپ شیلف پر رکھتے اسے دیکھا – –
سلطان مجھے میرا گفٹ دو – تم نے پہلے کیوں نہیں دیا _ ؟! میں ناراض ہوں — یہ ٹھیک ہے _ ؟
” ہاہاہا بلکل بہت اچھا ہے _ وہ گردن پیچھے پھینک کر ہنسا ” — وہ شام والے کپڑوں میں ہی ملبوس تھا بس کوٹ اتار دیا تھا اور اب آف وائٹ پینٹ شرٹ میں تھا – بال ہلکے سے بکھرے ہوۓ تھے اور بازو کہنیوں تک فولڈ تھے اور چہرہ چمک رہا تھا
یہ لو تمہارا گفٹ _ اس نے بند مٹھی آگے کرتے اسے کھولنے کا اشارہ کیا —
آبدار نے کچھ ناسمجھی سے ہاتھ آگے بڑھایا اور مٹھی کھولی _ اوہ
وہاں سلور چین تھی باریک سی جس پر چھوٹے چھوٹے سے ڈائمنڈز لگے ہوۓ تھے _
یہ کتنی کیوٹ ہے اور پیاری بھی _ وہ کچن میں ڈیکوریشن کے لیے لگاۓ گئے شیشے کے سامنے گئ اور اس چین کو پہن لیا _
مجھے تمہارا گفٹ پسند آیا – تھینکیو __ .
ویلکم _ چاۓ __؟!
یونو سلطان مجھے لگتا ہے کہ مجھے یہ چاۓ نہیں پینی چاہیے یونو _ وہ آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھنے لگی __
ایک منٹ تمہیں چاۓ نہیں پسند __؟!
نہیں میں نے کبھی پی نہیں – ایک بار نانو نے بنائ تھی لیکن ایک گھونٹ بھرتے ہی مجھے وہ پسند نہیں آئ اس لیے میں نے چاۓ کبھی نہیں پی _
کم آن – میں نے بنائ ہے ٹراۓ تو کرو _ زاویار پوری طرح متوجہ ہوا _ وہ ٹی لور تھا آخر چاۓ کی توہین کیسے برداشت کرتا _
نہیں نا _ چھوڑو بھی میں نے نہیں پینی __
جسٹ ون کپ پلیز _ تمہیں اچھی لگے گی _
مجھے کچھ ہوگیا نا اگر چاۓ پینے کے بعد تو
زمہ دار تم ہو گے _
اوکے __
اس نے ہار مانتے کپ منہ کو لگایا اور دو سپ لیے – ٹیسٹ کو محسوس کیا اور اسے وہ اچھی لگی – یہ تو اچھی ہے _ آبدار نے جیسے اعلان کیا __
میں نے کہا تھا نہ کے تمہیں یہ پسند آۓ گی _ وہ اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھنے لگا جو وائٹ ٹراؤزر شرٹ جس پر چیریز بنی ہوئ تھیں وہ پہنے کھڑی تھی – لمبے چاکلیٹی بال کمر پر جھول رہے تھے _ اور پاؤں میں سوفٹ سے وائٹ ہی سلیپرز تھے __ اور گلے میں اسکی دی چین پہنی ہوئ تھی جس کے ڈائمنڈز کچن کی لائٹس میں چمک رہے تھے _
ویسے میں نے ایک بات سنی ہے- وہ اب کپ لیے انہیں دھو رہا تھا _ ساتھ ساتھ اس سے باتیں بھی کیے جارہا تھا _
کیا بات سنی ہے __؟!
مجھے پتا لگا ہے کہ جو لڑکی مجھ سے بات کر رہی تھی اور جس نے میرے کندھے پر ہاتھ لگایا تھا – اس کے اسی ہاتھ پر کسی نے چاقو مارا ہے _ ناجانے کون ہو گا وہ _ تمہیں کیا لگتا ہے آب _؟؟
مجھے کیا پتا زاوی – میں تو جلدی آگئ تھی نا اور میں نے اس لڑکی کو سہی سے دیکھا بھی نہیں تھا _خیر میں چلتی ہوں نیند آئ ہےمجھے – گفٹ کے لیے شکریہ _ گڈ نائٹ _
پیچھے وہ مسکرا کر اسے جاتا دیکھتا رہا _
” آبدار سلطان ”
my kind of loveeeeee ♡ …..
گنگناتے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا _
(づ ̄ ³ ̄)づ …………
حال :
میں حیران ہوں آخر تمہیں یہ چوٹ لگی کیسے _؟ ابراہیم شکی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا _
میرال نے بتایا تو ہے کہ ایکسیڈینٹ ہوا ہے ہمارا _ اب اس بحس کو چھوڑ بھی دو __ اب بخش دو مجھے کام پر جاؤ اپنے _ وہ اپنی زخمی ٹانگ کو سہی کرتی ابراہیم سے بولی تھی _
بھلائ کا تو زمانہ ہی نہیں رہا _
تمہاری بھلائ نہیں چاہیے – شکریہ
ان کو ساتھ رہتے ہوۓ دو مہینے گزر چکے تھے- کبھی وہ دونوں چپ چاپ رہتے ورنہ ہر وقت کسی نہ کسی بات پہ انکا جھگڑا ہوتا ہی رہتا _ پہلے پہل لیڈی خدیجہ کو عجیب لگا لیکن اب انہیں بھی عادت ہوچکی تھی _ وقت یونہی گزر رہا تھا –
لینا اور مائیکل چھٹیاں گزار کر واپس آچکے تھے _ اس لیے کیفے کا کام سہی سے مینیج ہوچکا تھا – وہ کیفے جاتی ضرور تھی لیکن کچھ ہی گھنٹوں کے لیے اور کبھی کبھار ہفتے میں تین چار دفعہ بس _ خیر اپنی سیلری وہ پوری لے رہی تھی _
لیڈی صوفیہ بھی ٹھیک ہوکہ کیفے کو سنبھال چکی تھیں _ اور ایشان کے رزلٹ آنے کے بعد وہ نیو سمسٹر سٹارٹ کر چکا تھا _ غرض سب کی لائف اچھی گزر رہی تھی _
کبھی کبھی آبدار ڈیپریسڈ ضرور ہوجاتی تھی لیکن اس نے خود کو سنبھالنا سیکھ لیا تھا –
کم از کم دوسرے کے سامنے _ ابراہیم اور وہ کئ دفعہ کیفے ایک ساتھ جاتے تھے کافی پینے _سیف اور میرال کبھی کبھار ایک دوسرے سے مل لیتے تھے _
🍂🍂🍂….
چار مہینے ہوگئے ہیں مجھے تمہارے ساتھ رہتے لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں چار سال سے جیل میں ہوں _ پاگل کر دیا ہے تم نے مجھے — وہ بیڈ کے پاس کھڑی چلا رہی تھی _
کیا ہوگیا ہے اب کیا کر دیا ہے میں نے _ وہ شرٹ کے بٹن بند کیے بغیر ہی ڈریسنگ روم سے نکل آیا تھا _
تمہیں میں نے کوئ ہزار دفعہ منع کیا ہے کہ گیلا ٹاول میرے بیڈ پر نہ پھینکو لیکن تم نے ایک بار بھی میری بات نہیں مانی _ میں اب تمہارا منہ توڑ دوں گی _
غلطی سے ہوگیا یاد نہیں رہا مجھے کیا کرتا میں جلدی میں تھا
جلدی میں تھا – ؟! پچھلے دو گھنٹے سے تم تیار ہی ہو رہے ہو – تیاریوں کو تمہاری دیکھ کر لگتا ہے کہ ولیمہ ہے تمہارا _ وہ ہنوز کمر پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی _ ابراہیم نے اسے دیکھا وہ وائٹ ٹخنوں تک آتا فراک اور کھلی سی بلو جینز پہنے کب سے تیار کھڑی تھی – بازوؤں کے پفز بنے ہوۓ تھے جو صرف کہنیوں تک آتے تھے _ دونوں بازوؤں میں وائٹ پرلز کے بنے بریسلٹ پہنے – ہلکا سا میک اپ کیے بالوں میں لوز کرل ڈالے وہ کب سے تیار کھڑی اس کا انتظار کررہی تھی _
کیا مطلب ہے کہ ولیمہ نہیں ہے میرا – آخر ہم لوگ ڈنر پر جا رہے ہیں – تیار ہونا تو بنتا ہے نا _ لیڈی صوفیہ کیا سوچے گیں _ ڈریسنگ روم کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگاۓ وہ پرسکون تھا _
وہ کچھ نہیں سوچے گی – ہمیں نکلنا ہے ابھی جلدی کرو اور یہ سنی لیونی کیوں بنے ہوۓ ہو بند کرو اپنی شرٹ کے بٹنز _
تم عمران ہاشمی بھی تو کہہ سکتی تھی آبدار _ میسچیویس سمرک لیے وہ ایسے بولا تھا کہ آبدار بے ساختہ ہنستی چلی گئ _ اچھا اچھا جلدی کرو اب – بڑا پتا ہے تمہیں عمران ہاشمی کا_
~~~
آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئیں دادو _ ؟؟
ڈرائینگ روم میں آتے اس نے لیڈی خدیجہ کو گھر کے کپڑوں میں ہی دیکھ کر کہا تھا _
نہیں بچے تم لوگ جاؤ – میرا کیا کام تم جوانوں میں _
ایسی بات نہیں ہے صوفیہ بھی تو بوڑھی ہے نا اس سے بات چیت کر لیتی آپ _ ہاہا ساتھ میں قہقہ بھی لگایا __
پھر کبھی — وہ اٹھیں اور اسکے سر پر پیار دیا — جاؤ تم لوگ دیر ہورہی ہے _ اوکے دادو لیکن آپ خیال رکھیئے گا اپنا _ باۓ
ابراہیم ان کو اپنا خیال رکھنے کا بولتا باہر کی طرف بڑھا ساتھ میں آبدار بھی _
میں لیڈی صوفیہ کو بتاؤں گا کہ تم نے انہیں بوڑھا کہا ہے _
میں تمہیں گنجا کر دوں گی اگر تم نے ایسا کیا تو_
وہ اب پارکنگ ایریا میں آچکے تھے _ وہاں کھڑی مختلف قسم کی گاڑیوں کو دیکھ کر آبدار کے ابرو اچکاۓ _ تمہارے پاس تو کافی ماڈلز کی گاڑیاں ہیں _ اور واؤ یہ بائیک بھی تمہاری ہے _ میں نے ابھی تک نہیں دیکھا یہ سب یہاں —
ہاں مجھے پسند ہیں اور تم نے یہ سب اس لیے نہیں دیکھا کیونکہ تم کبھی اس ایریا میں آئ ہی نہیں _
یہ بھی ہے _ وہ بائیک کو اوپر نیچے سے دیکھ رہی تھی _ یہ نائس ہے __
کیاخیال ہے پھر بائیک پر چلیں _ ابراہیم اسکا انٹرسٹ دیکھتا بے ساختہ پوچھ بیٹھا اور کار کا دروازہ بند کرتے بائیک کی طرف بڑھا _
تمہیں چلانی آتی ہے _؟
رکھی ہوئ ہے تو ظاہر سی بات ہے آتی ہے _ تو —؟
اوکے چلتے ہیں پھر _ گیٹ سے باہر بائیک لاتے اس نے آبدار کو اشارہ کیا کہ بیٹھو _
تمہیں واقع ہی چلانی آتی ہے نا – ایسا نہ ہو اوپر بھیج دو مجھے _
تمہیں ایسا لگتا ہے _ بلیک شرٹ اور وائٹ پینٹ اوپر لونگ کوٹ پہنے اب وہ ہاتھ باندھے خفگی سے اسے دیکھ رہا تھا _ آس پاس کی سوسائٹی میں لائیٹیں اون کردی گئ تھیں – شام بس ہوہی گئ تھی _
اچھا ٹھیک ہے چلو _ آخر کار کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ اسکے پیچھے بائیک پر بیٹھی _ ابراہیم نے ہیلمٹ اسے پکڑایا اور اپنا پہنا _ وہ ہیوی بائیک کو سٹارٹ کرتے اب روڈ پر ڈال چکا تھا _
❤❤❤….

