Uncategorized

Listen My Love by ZK Episode 14

who is this..? 

وہ ابھی شاور لے کے آئ تھی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنے بال خشک کر رہی تھی _ دروازے پر دستک کی آواز سنتے وہی سے پوچھا —
زاویار _ کیا اندر آجاؤں —؟ 
آبدار نے ایک لمحے کے لیے ہاتھ روکا اور پھر بولی – 
آجاؤ _ اور دروازے کی طرف مڑی جہاں وہ اب اندر داخل ہورہا تھا اور تھوڑا سا دروازہ کھلا چھوڑے وہ بیڈ کے بلکل سامنے رکھے صوفے کی جانب بڑھا _ 
خیریت ہے سلطان تم یہاں – وہ چلتی ہوئ جا کہ بیڈ پر بیٹھی
ہمم کچھ کہنا تھا _ سوچا تم سے بات کر لی جاۓ جانے سے پہلے — 
جانے سے پہلے _؟! کہاں جا رہے ہو تم _ ؟
داداجان نے کہا ہے مجھے کچھ ٹرینینگز کے لیے آؤٹ آف کنٹری جانا ہے – میں نے منع کرنا چاہا لیکن یہ ضروری ہے _ 
کب جارہے ہو اور کتنے وقت کے لیے _ ؟! زاویار نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو بلکل نارمل لگ رہی تھی_ مجھے لگا تم غصہ ہوگی — 
اس میں غصہ ہونے والی کوئ بات نہیں ہے _ 
تو پھر تم نے ابھی تک مجھے سلطان کیوں نہیں کہا _؟! 
آبدار نے ٹہر کر اسے دیکھا تھا _ اب کہہ دیتی ہوں سلطان _ 
کل جا رہا ہوں – کل رات کی فلائیٹ ہے اور ایک سال کے لیے _ 
ہمم ٹھیک ہے جاؤ لیکن اتنا یاد رہے کہ اگر تم نے مجھے چیٹ کرنے کی کوشش کی نہ تو پہلا قتل تمہارا کروں گی _ 
تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں چیٹ کر سکتا ہوں _؟
مجھے نہیں پتا کیونکہ تم نے اب تک مجھے پرپوز نہیں کیا – 
اوہ, تو یہ بات ہے _؟ 
ہمم بلکل _ کیا کر رہے ہو اسکے بعد کیا فری ہو _؟
ہمم کوئ کام تھا _ ؟؟؟ 
لیٹس گو ریس _ آبدار اب کلوزاٹ کی جانب بڑھی اور بلیک پینٹ اور بلیک ہڈی نکالتے بیڈ پر رکھی _
بائیک یا کار _ ؟؟ زاویار نے ابرو اچکاۓ _
تم بائیک پے میں کار میں
اوکے _ زاویار کے جانے کے بعد وہ کپڑے اٹھاتی ڈریسنگ روم کی جانب بڑھی —
♡♡♡….
وہ اپنی نیو کار Bugatti میں بیٹھی ہوئ تھی اور زاویار کچھ فاصلے پر اپنی ہیوی بائیک پر بیٹھا ہوا تھا _ شہریار جو کہ خاور کا اسسٹنٹ تھا وہ گن لیے ان سے تھوڑا پیچھے کھڑا ہوا تھا _ شہریار کو آبدار اپنے ساتھ لے آئ تھی کیونکہ خاور دلھاد سلطان کے ساتھ کسی کام سے گیا ہوا تھا اس لیے فلحال اس کا وہاں کوئ کام نہیں تھا _ 
اوکے سو میم اینڈ سر آپ لوگ ریڈی ہیں _ میں تین گننے پر شوٹ کروں گا اور آپ لوگوں نے ریس سٹارٹ کردینی ہے _ 
آر یو ریڈی زاویار سلطان _ آبدار نے وہی بیٹھے بیٹھے تھوڑا چلا کر کہا تھا — 
وٹ آباؤٹ یو _ ؟؟
یسسس ایم ریڈی _ اور پھر فائر کی آواز پر وہ دونوں فل سپیڈ میں اپنی بائیک اور کار چلاتے وہاں سے نکلے _ کافی دیر تک سڑکیں ناپنے کے بعد وہ دونوں ایک ساتھ رکے — 
That was fun…  
جب تم واپس آؤ گے تو پھر اصلی والی ریس لگاۓ گے ٹھیک ہے تب تک میں بائیک چلانا بھی سیکھ لوں گی _ وہ سلطان ولاء واپس آچکے تھے اور گارڈن میں چہل قدمی کرتے ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے _ رات ہوگئ تھی اور لائیٹیں جلا دی گئیں تھیں __
تمہیں بائیک چلانا نہیں آتی کیا _ زاویار کچھ حیران سا ہوکر اسکی طرف مڑا تھا کیونکہ اس نے کچھ دن پہلے ہی تو کہا تھا کہ اسے بائیک چلانا پسند ہے _ 
کس نے کہا یہ – مجھے چلانا آتی ہے لیکن دوڈانا نہیں آتی – ایسی نہیں آتی کہ میں ریس لگاؤں اور آرام سے جیت جاؤں جبکہ کار ریسنگ میں تم مجھے ہرا نہیں سکتے _ ایم شیور اباؤٹ اٹ —
I like the confidence dear _ 
” thank you my dear ” _ 
اپنے کمرے کی بالکنی سے نیچے دیکھتے دلھاد سلطان نے ہنکارا بھرا تھا _ انہیں زاویار کو دوسرے ملک بھیجنے کا فیصلہ درست لگا _ اب انہیں فیصلے بہت سوچ سمجھ کر کرنے تھے – وہ ماہر کھلاڑی تھے ہر کھیل کے _ ایک آخری نظر ان پر ڈالے وہ کمرے میں چلے گئے — 
زاویار جا چکا تھا _ اور وہ بھی اپنے کاموں میں مصروف ہوگئ تھی – وہ بائیک چلانا بھی سیکھ رہی تھی اور باقی ہر چیز کی ٹرینگ بھی لے رہی تھی _ اس کے دن ہمیشہ ہی بہت مصروف ہوتے تھے _ ٹائم نکال کر کلاس لینے کے لیے یونیورسٹی بھی جانا پڑتا _ مگر جب وہ رات کو اکیلی ہوتی تو زاویار کے بارے میں سوچتی ضرور تھی _
اسے گئے کافی مہینے ہو چکے تھے – وہ جب سے وہاں گیا تھا تب سے ان دونوں کی کوئ بات نہیں ہوئ تھی – اس کا فون بند تھا اور آبدار نے اسے فون کرنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی وہ چاہتی تھی کہ وہ اپنا کام سہی سے کرے اور جلدی سے واپس آجاۓ – 
چھوٹی سی بھی غلطی کا مطلب تھا سب شروع سے شروع کرنا – اور وہ یہ نہیں چاہتی تھی – اس عرصے میں وہ چاۓ بنانا بھی سیکھ چکی تھی _ اور اب وہ بہت اچھی چاۓ بناتی تھی – جب اس نے دلھاد سلطان کو چاۓ بنا کر دی تو وہ حیران ہوۓ تھے کیونکہ انہیں پتا تھا کہ وہ چاۓ نہیں پیتی _ اور پوچھنے پر اس نے بات ٹال دی تھی – وہ چاہتی تھی کہ سلطان ان سے خود آکر بات کرے _ لیکن شاید قسمت کوکچھ اور منظور تھا _
وہ اور دلھاد سلطان دونوں آج فری تھے تو ڈنر کی ٹیبل پر ایک ساتھ موجود تھے وہ دونوں کھانا کھاتے ہوۓ خاموش ہی رہتے تھے لیکن آج خاموشی کو توڑتے دلھاد سلطان نے اسے مخاطب کیا __
” کوئ ایسی بات ہے جو مجھے پتا ہونی چاہیے آبی_ کچھ کہنا ہے کیا ” _؟ 
آبدار نے کھانے سے ہاتھ روک کر انہیں دیکھا -کونسی بات ناناجان _ کھل کر کہیں — وہ بھی انہیں کی نواسی تھی — 
کوئ بات ہے تو سہی آبدار – 
جب آپ جانتے ہیں تو مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں ناناجان ؟
ہمم تو یہ سچ ہے _ ؟ 
بلکل – اور میں چاہتی ہوں کہ جب زاویار آپ سے میرے بارے میں سوال کرے اور آپ کا جواب ہاں میں ہو _ کیا میں یہ امید کرسکتی ہوں ناناجان ؟؟
کیا تم شیور ہو آبی – وہ تم سے عمر میں کافی بڑا ہے – اور تم ابھی بہت چھوٹی ہو _ 
جی میں شیور ہوں اور صرف بارہ سال بڑا ہےوہ مجھ سے اور یہ کوئ زیادہ بڑی بات نہیں ہے آج کل تو اتنا چلتا ہی ہے _ آپ بتائیں کوئ اور اعتراض _
وقت آنے دو دیکھا جاۓ گا _ ابھی تو وقت پڑا ہے آبدار سلطان
اچھی بات ہے _ لیکن اگر جو میں چاہتی ہوں وہ نہ ہوا – تو ناناجان جو آپ چاہتے ہیں وہ بھی نہیں ہوگا _ میں کھانا کھا چکی ہوں گڈ نائٹ __ وہ اسے اپنی نظروں سے اوجھل ہونے تک دیکھتے رہے – وہ کچھ سوچ رہے تھے کچھ بہت بڑا _ 
🍂🍂…

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on