میر ہادی تم ہو کیا _ ؟!
اس نے یقین کرنا چاہا جب دوسری طرف سے ابراہیم کے ہنسنے کی آواز آئ _
نہیں میں ابراہیم ہوں _
جاؤ یہاں سے – اب کہ آواز سخت تھی
اچھا یہ کھانا لے کے آیا ہوں کھا لو – دروازہ تو کھولو یار میں صرف کھانا دینے آیا ہوں _
” بلکل نہیں تمہاری فضول باتیں میں ہرگز اب برداشت نہیں کروں گی سن رہے ہو تم _ تمہیں کیا لگتا ہے کمزور ہوں میں جو چاہو گے کرلو گے تم ” ؟؟؟؟ یہ تمہاری غلط فہمی ہے سمجھ آئ بات – ناجانے کیا وجہ ہے میں رکی ہوئ ہوں ابراہیم ورنہ میں تمہیں بتاتی کہ آبدار کو کڈنیپ کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے – دعا کرو میرے ہاتھ کوئ گن نا لگے کیونکہ میرا سب سے پہلا نشانہ تم ہی ہوگے
ابراہیم جو دروازے کے پار کھڑا سب کچھ خاموشی سے سن رہا تھا اب کہ آہستگی سے بولا تھا _ یہ کھانا لے لو پھر میں چلا جاؤں گا _
اگلے ہی لمحے کلک کی آواز سے دروازہ کھلا تھا وہ کچھ دیر وہیں کھڑی اسے گھورتی رہی پھر سامنے سے ہٹتی جاکر بیڈ پر بیٹھ گئ _
ابراہیم اندر آیا کھانا ٹیبل پر رکھ کر وہ جانے لگا جب آبدار نے اسے پکارا _
” ابراہیم, مجھے واپس جانا ہے ” _
سوری پر یہ ممکن نہیں ہے —
” کیوں نہیں ہے ” _ ؟!
میں تمہیں جانے نہیں دے سکتا آبدار – میں جانتا ہوں تم یہاں سے جانے کے بعد ڈائیورس مانگو گی مجھ سے لیکن میں یہ نہیں کرسکتا _
کب تک مجھے قید رکھو گے کسی نہ کسی دن میں بھاگ جاؤں گی اور یاد رکھنا پھر تم کہیں بھی مجھے ڈھونڈ لو میں تمہیں نہیں ملوں گی _
تم ایسا کچھ نہیں کرو گی کبھی آبدار _
” میں ایسا ہی کروں گی ضرور کروں گی آزادی چاہیے مجھے جانا ہے یہاں سے مجھے “_
مجھ سے آزادی تو میرے مرنے کے بعد ہی ملے گی تمہیں آبدار _
” تو مر جاؤ تم تاکہ آزاد ہوجاؤں میں – تمہارے ساتھ کانٹریکٹ میریج کرنا میری سب سے بڑی غلطی ہے” _
ابراہیم نے لب بھینچ کر آبدار کا غصے سے سرخ چہرہ دیکھا _ اسے تکلیف ہوئ تھی آبدار کے لفظوں سے لیکن وہ خود کو نارمل کرتا مسکرایا _
کچھ بھی چاہیے ہوتو مجھے بتانا میں چلتا ہوں _
نہیں چاہیے مجھے کچھ بھی بھاڑ میں جاؤ تم — وہ پیچھے سے چلائ _
❄❄❄❄❄

