آٹھ بجے نیلم کی آنکھ کھلی رات ہو رہی تھی اب اسے ڈر لگنے لگا تھا وہ لاٶنج میں آکر صوفے پر بیٹھ گٸی آنسوں سے چہرہ بھیگنے لگا بھوک بھی لگی تھی اور ولی ابی تک نہ آیا اور ایک گھنٹہ اور گزر گیا ۔دروازا کھلنے کی آواز آٸی نیلم مزید خوفزدہ ہوگٸی ڈر کے مارے اسکی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی ایک سایہ اسکی طرف بڑھ رہا تھا مگر جب وہ روشنی میں اسکے قریب آیا تو حواس بہال ہوے اسنے اپنی نیلی آنکھیں بند کر کہ ایک گہری سانس لی ۔تم اس وقت یہاں کیاکر رہی ہو سوٸی نہیں ابی تک” ولی نے اسکے پاس آکر اسکی نیلی آنکھوں میں جھنانکہ رونےٕ کی وجہ سے سرخ ہوٸی تھی اور چہرہ آنسوٶوں سے تر تھا ۔تم کیا سارا دن روتی رہی ہو آج اب پھپو کو اپنے گھر بی جانا تھا تماہارا ماتم ہے کہ ختم ہی نہیں ہو رہا” کہتے ہی وہ آگے بڑھ گیا اپنے کمرے کی جانب قدم بڑھاۓ ہی تھے کے اسکی آواز پر رک گۓ۔مجھے ۔۔بھوک لگ لگی ہے” اسکی رندھی سی آواز پہ رکا اور مڑ کر اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔۔ ا”ور مجھ مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا اسلیے روٸی ماتم نہیں کر رہی تھی” ۔۔۔آخری لفظ غصے سے کہےاسے شدید افسوس ہوا اپنی لاپرواہی پے وہ صبح سے بھوکی تھی اچھا میں کھانا لاتا ہوں۔وہ باہر سے کھانا لے آیا شاپر نیلم کو پکڑاۓ تم کھانا لگاٶ میں آتا ہوں چینج کر کے نیلم نے کھانا ٹیبل پہ لگا دیا کچھ ہی دیر میں ولی بھی فریش فریش سا باہر ٹیبل پہ آیا اسکے سامنے چیٸر پہ بیٹھ گیا ۔نیلم بھوکی تھی صبح سے وہ کھانے سے خوب انصاف کر رہی تھی ولی کو افسوس ہو رہا تھا وہ صبح سے اسکی وجہ سے بھوکی تھی۔”سنو میں روم میں جا رہا ہوں اچھی سی چاۓ بنا کر میرے روم میں آٶ ۔”اسنے سر ہاں میں ہلایا اور اٹھ کر کھانا سمیٹنے لگی چاۓ چولہے پہ چڑہاٸ ۔ چاۓ لیکر وہ روم میں داخل ہوٸ وہ بیڈ کے کراٶن کے ساتھ سر ٹکاۓ لیٹا ہوا تھا ایک بازو آنکھوں پر رکھا ہوا ۔آپکی چاۓ” اسکی آواز پر ھاتھ ہٹا کر اسے دیکھا ہاتھ بڑھا کر اسے چاۓ لی نظریں ہنوز اسکے چہرے پر ٹکی ہوٸی تھی ۔جیسے ہی ولی نے چاۓ پکڑی وہ فورن مڑی رکو وہ آواز سن کر رکی پر مڑی نہیں میں نے تمہیں جانے کا کہا ” وہ مڑی اور نہ میں سر ہلایا تم گونگی ہو” ۔۔۔نہیں” جھٹ سے بولی۔ ادھر آٶ”وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس تک آٸی ایم سوری مجھے تمھارا خیال کرنا چاہٸیے تھا آٸندا کوشش کرونگا گا کہ ایسا نہ ہو۔”جی” اسنے جی میں جواب دیا اور کھڑی رہی اب کھڑی کیوں ہو جاٶ “روکو۔” وہ مڑی پھر ولی نے آواز دی جی “کل منڈے ہے یاد ہے نہ”جی یاد ہے اسکول جانا ہے میں نے تیاری کرلی ھے” وہ جلدی سے بولیگڈ جاٶ” اور اب تیزی سے کمرے سے نکلی کہیں پھر ہی نہ روک لے اسکے اس انداز پہ ولی مسکراتا ہوا سر ہلا گیا۔ وہ تیزی سے اسکے روم سے نکلتے ہی اپنے روم میں آٸی جو ولی کے کمرے کے برابر ہی تھا۔دھڑام سے بیڈ پر گری اور ولی کے بارے میں سوچنے لگی جو پہلے کتنا کٹھور تھا بات بات پہ ڈانٹتا اور اب اتنی نرمی سے بات کرتا ہے سوچتے سوچتے اسکی آنکھ لگ گٸ
Mere Humsafar Mere Mehrbaan By Ayesha Noor
Pages: 1 2