مصروف سا دن ڈھل گیا تھا۔ رات نکل آئی۔ حسب معمول چاروں کھانے کیلئے لاؤنج میں اکٹھا تھے۔
”صبح تم دونوں کہاں گئے تھے؟“ زین نے کھاتے ہوئے پوچھا۔
”ایک کام سے گئے تھے۔“ ولید نے مختصر جواب دیا۔ جب کہ احتشام تو واپسی کے بعد سے ہی خاموش تھا۔
ولید نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن ہمت نہیں ہوئی۔ وہ اندر ہی اندر شرمندہ تھا کہ احتشام اس کیلئے جانے کو راضی ہوا اور یہ سب ہوگیا۔ سویرا کی طرف سے بھی سناٹا چھایا ہوا تھا۔ ولید نے بھی اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
کھانے کے بعد احتشام کہیں باہر چلا گیا۔ حسن اور زین ایل ای ڈی آن کرکے بیٹھ گئے۔ ولید کچھ دیر ان کے ساتھ بیٹھا، لیکن پھر اندر کے بوجھل پن کے باعث تھوڑی دیر بعد وہ بھی وہاں سے اٹھ کر باہر چلا گیا۔ اب یہاں بس یہ دونوں رہ گئے۔
”لگتا ہے ان کے بیچ کچھ ہوا ہے، لیکن دونوں ہمیں بتا نہیں رہے۔“ زین نے اندازہ لگایا۔ حسن کی نسبت وہ زیادہ ٹوہ میں رہتا تھا۔
”جو بات ہمیں نہیں بتائی جاتی وہ ہمارے لیے نہیں ہوتی، اگر وہ خود سے ہمیں کچھ بتانے میں کمفرٹیبل نہیں ہیں تو ہمیں بھی زبردستی انہیں کریدنا نہیں چاہیے، انہیں اسپیس دینا چاہئے۔“ حسن نے معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا۔
”یہ کیا بات ہوئی کہ وہ ہمیں بتانے میں کمفرٹیبل نہیں ہیں؟ ہم ان کے دوست ہیں یار، انہیں ہم سے بھی ہر بات شیئر کرنی چاہئے۔“ زین کو یہ بات پسند نہ آئی۔
”دوستی کا مطلب ہر بات شیئر کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اپنے دوست کی ترجیحات کی ریسپیکٹ کرنا ہوتا ہے، دوستی صرف ان ہی پر فرض نہیں ہے، ہمیں بھی آعلیٰ ظرف دوست ہونے کا ثبوت دے کر اپنے دوست کے کمفرٹ کا خیال رکھنا چاہئے نہ کہ سر پر سوار ہوجانا چاہئے۔“ حسن نے خاصی وضاحت کر ڈالی جس کے بعد کوئی سوال نہ آیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

