Uncategorized

Mohabbat Fateh Tehri by Ayesha Asghar Last Episode Part 2

وہ کمرہ جیسے وقت کی گرفت سے نکل چکا تھا۔دیواریں خاموش تماشائی بن چکی تھیں،چھت پر لٹکتا بلب صرف ایک نقطے پر روشنی ڈال رہا تھا۔ایک شکستہ کرسی،جس پر شاہد عباسی زنجیروں میں جکڑا،نڈھال سا بیٹھا تھا۔اس کے چہرے پر روشنی کی کرنیں پڑ رہی تھیں،لیکن آنکھوں میں گہرا اندھیرا تیر رہا تھا۔باقی پورا کمرہ تاریکی کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا۔ہوا کی سرگوشیاں سنائی دے رہی تھیں، دیواروں پر سایے لہرا رہے تھے۔باہر شاید بارش شروع ہو چکی تھی،اور چھت پر ٹپکنے والے قطروں کی آواز،اس ماحول میں اذیت کی موسیقی جیسی تھی۔

”کہا تھا میں نے…“ایک سرد، بے رحم آواز تاریکی میں ابھری۔”جو مجھ سے ملنے کی خواہش کرتا ہے،پھر وہ زندہ نہیں رہتا“۔شاہد عباسی نے چونک کر گردن اٹھائی۔”لیکن تم…تم بعض آنے کے بجائے اپنی خواہش بڑھاتے چلے گئے۔تو پھر بتاؤ،کیسا لگا میں؟خوبصورت ہوں نا؟ذہین بھی بہت ہوں…“وہ مسکرا رہا تھا،مگر اس مسکراہٹ میں چاقو کی دھار چھپی تھی۔شاہد عباسی کی زبان گنگ تھی،لیکن آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ولیم سے تو بچ گیا تھا لیکن جس کی قید میں تھا اس سے بچنا ناممکن تھا۔

”اب دیکھو کہاں ہو تم…موت سے محض چند قدم کی دوری پر“۔آواز میں گونجتی سرد مہری جیسے کسی قبر کی مٹی سے لپٹی ہو۔”یاد ہے تمہیں فریحہ عالم؟میرا دل چاہا تمہیں بھی ویسی تکلیف دوں جیسے مجھے ہوئی تھی جس طرح میری روح تڑپی تھی…تمہیں وہی درد دینا چاہتا تھا،جو تم نے مجھے دیا“۔وہ جھکا، آنکھیں اس کے چہرے میں گھونپ دیں۔“اور یہ تب ہی ممکن تھا،جب میں تم سے تمہارا بیٹا چھین لیتا…“

”میرے… میرے بیٹے کو کچھ مت کرنا…“شاہد عباسی کی سانسیں بےترتیب ہو چکی تھیں۔

”تمہارا بیٹا؟“وہ ہنسا،استہزایہ ہنسی۔”ارمان ایک اچھا انسان ہے اور اچھے انسان کو مار دوں اس بات کی اجازت میرا ضمیر نہیں دیتا،قاتل تو تم ہو پھر اسے مار کر میں قاتل کیوں بنوں؟…مارنا تو تمہیں چاہیے جس نے مجھ سے میری بہن کو جدا کردیا“۔پھر اچانک فضا میں ایک زوردار ضرب کی آواز گونجی۔فاز نے اسے مکے مارنے شروع کر دیے تھے، برسوں کا زہر اس کے ہاتھوں میں اتر آیا تھا۔

”میرے بیٹے کو کچھ مت کرنا“۔منہ میں گھلتے خون کے ذائقے کے ساتھ اب کی بار شاہد عباسی کا لہجہ خالی، تھکا ہوا اور بکھرا ہوا تھا۔

”کیا تم مجھے بیوقوف سمجھتے ہو؟بار بار یہی جملہ دہراؤ گے اور مجھے لگے گا تمہارا بیٹا تمہاری کمزوری ہے اور اسے مار کر تمہیں چھوڑ دوں گا؟“۔فاز نے اسے بازو سے پکڑ کر جھٹکا دیا۔”بند کرو یہ ڈارمہ سگی اولاد ہوتی تو تب پوچھتا“۔۔۔وہ نفرت آمیز لہجہ میں بولا۔

“ن…نہیں… وہ میرا بیٹا ہے…”شاہد کی آنکھوں میں بے یقینی کا طوفان آیا۔

”نہیں!“پیچھے سے ایک نئی آواز گونجی۔سرد،پرسکون اور نفرت کی آمیزش لیے۔”میں ارمان شاہد نہیں…ارمان افتخار ہوں۔جرنلسٹ افتخار حسین کا بیٹا“۔آہٹ کے ساتھ وہ سامنے آیا۔تاریکی سے روشنی میں۔وہ فخر سے چلتا ہوا آگے بڑھا،اور شاہد عباسی کے بالکل سامنے رک گیا۔

“کیا کہہ رہے ہو؟نہیں… تم میرے بیٹے ہو…”شاہد عباسی کی آنکھیں پھیل گئیں۔جسم کانپنے لگا۔

”مت کہیں مجھے اپنا بیٹا“۔ارمان کی آواز میں ایسی شدت تھی کہ دیواریں لرز گئیں۔”میں تم جیسے درندے کا بیٹا نہیں ہو سکتا۔میں وہ بچہ ہوں جس کے سامنے تم نے اس کا باپ مار ڈالا“۔شاہد عباسی کا چہرہ سپید پڑ گیا۔

”کیا ہوگیا ہے ارمان؟مجھے بتاؤ کوئی مسئلہ ہے؟“۔۔شاہد عباسی اٹک کر کہتے اس کی طرف ہاتھ بڑھائے تھے

”مجھے ان التفات کی ضرورت نہیں“۔۔وہ ناگواری سے انہیں ٹوک گیا۔”کیا سمجھے تھے بچہ ہے محبت کے بہلاوے دیں گے تو سب بھول جائے گا؟تمہیں لگا تھا بچے بڑے ہوکر سب بھول جاتے ہیں؟نہیں!بچوں کا حافظہ سب سے تیز ہوتا ہے۔ وہ سب یاد رکھتے ہیں۔جو دیکھ لیں وہ دماغ میں محفوظ کرلیتے ہیں۔ہر چیخ، ہر قطرہ خون، ہر سسکی“۔۔وہ آگے جھکا،شاہد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔”تم نے ساڑھے چار سال کے بچے کے سامنے اس کے باپ کو مارا۔میری ماں سے شادی کی،تاکہ میں تمہیں اپنا محافظ سمجھوں۔لیکن تم بھول گئے…میں جرنلسٹ افتخار حسین کا بیٹا ہوں۔میں وہ بچہ ہوں جس کی آنکھوں کے سامنے تم نے ظلم کی زمین ہموار کی تھی۔میری خوش قسمتی اور تمہاری بدقسمتی سے تم اپنے پلین میں بری طرح ناکام ہوئے ہو کیونکہ افتخار حسین کا بیٹا ارمان افتخار اپنے باپ کا بدلہ لے گا“۔شاہد عباسی کا جسم کانپنے لگا،صدیوں پرانا مجرم اپنے انجام سے آشنا ہو رہا تھا۔

”تت..تم کیا کہ رہے ہو؟کون افتخار ؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا“۔۔ان کی پیشانی پر پسینے کی بوندیں چمکنے لگیں۔

”اداکاری میں آپ اس بار بری طرح ناکام ہوئے ہیں“۔۔وہ طنزیہ ہنسی ہنسا تھا۔”فریحہ عالم،افتخار حسین اور نہ جانے کتنے بے گناہوں کا خون تمہارے ہاتھ پر ہے۔ اب حساب کا وقت ہے“۔اور پھر جیسے آتش فشاں پھٹ پڑا۔ارمان کے ہاتھ تیزی سے اس پر پڑنے لگے،ایک کے بعد دوسرا مکہ۔وہ برسوں کی اذیت چیخ چیخ کر نکال رہا تھا۔

”کیوں چھینا مجھ سے میرا باپ؟کیوں محروم کیا باپ کی آغوش سے؟کیوں میری ماں سے مجھے دور رکھا؟کیوں میری بچپن کی راتیں لہو سے سرخ کیں؟“۔۔وہ بےدریغ مارے چلا جارہا تھا۔

”بس ارمان… بس!اب بہت ہو چکا“۔فاز نے جلدی سے آگے بڑھ کر ارمان کو بازوؤں سے تھاما۔

ارمان فاز کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔کتنی اذیت میں وہ صبح و شام شاہد عباسی کو اپنے سامنے اٹھتا بیٹھتا دیکھتا تھا۔انہیں ڈیڈ کہنے پر مجبور تھا۔برسوں کی پیاس،برسوں کی چپ،آج آنسو بن کر بہہ گئی تھی۔اس کے گال جل رہے تھے،مگر دل میں ایک ٹھنڈک اتر رہی تھی۔فاز نے پیچھے مڑ کر ایک نظر بے ہوش شاہد عباسی پر ڈالی۔

”ابھی ہمیں اس سے ولیم کی معلومات لینی ہیں۔اس کے بعد…انجام“۔کمرے میں پھر اندھیرا چھا گیا، لیکن اب وہ اندھیرا خاموشی سے آگے بڑھنے والے انصاف کی نوید لیے کھڑا تھا۔

_____________________________

لیمن کلر کی نرم سلک میں ڈھلی لمبی شرٹ جب اس کے وجود سے لپٹی،تو گویا بہار کے کسی شگوفے نے لباس کا روپ دھار لیا ہو۔اس کے ساتھ ہم رنگ ٹراؤزر،اور کندھوں پر سفید دوپٹہ پھیلا کر بے حد سلیقے سے رکھا گیا تھا۔لمبے، بھورے، چمکتے بال پشت پر پھیل کر شام کے سائے کی مانند اُتر رہے تھے۔نیلی آنکھوں میں باریک لائنر کی ایک ہلکی سی لکیر، جیسے نیلگوں جھیل میں شام کا عکس۔ہونٹوں پر ہلکا سا پِنک گلوس،اور ہاتھ میں سفید قیمتی بیگ تھا جو اس کے انداز کی نفاست کا عکاس تھا۔بے داغ،نازک قدموں میں سفید ہیلز،جو ہر قدم پر خاموشی سے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھیں۔

آج وہ مدتوں بعد پھر سے خود میں لوٹی تھی۔اپنی پہچان، اپنے وقار،اپنی بے نیازی کے ساتھ۔ایسی مکمل،ایسی نازنین، جیسے کسی پرانی مگر یادگار شام کی مہک دوبارہ سانسوں میں اتر آئی تھی۔

خود پر ٹھہرے نگاہوں کے بوجھ کو محسوس کرتے ہوئے اُس نے گردن موڑی۔دادی سکینہ کی نگاہیں لاؤنج کے گوشے سے اس پر جمی تھیں،جن میں حسد کا زہر اور شعلہ بن کر جھلکتی رقابت اسے لمحہ بھر کو بھی حیرت میں نہ ڈال سکی۔وہ ان نگاہوں کی پرانی شناسا تھی۔دادی سکینہ کو اس کا وجود آفرین کی یاد دلاتا تھا۔وہ بھی تو ایسی ہی تھی۔بےنیاز،باوقار۔پلکیں جھپکے بغیر فاطمہ فقط زیرِ لب پڑھتی رہی۔

“ومن شر حاسد اذا حسد…”

اور آہستگی سے باہر نکل گئی۔درختوں سے چھنتی روشنی گھاس پر سنہری دھاریاں بکھیر رہی تھی۔فاطمہ لان کی روش پر آہستہ قدم رکھتی اس کی جانب بڑھی،جب علینہ اُسے وہاں ٹہلتی نظر آئی۔

”کیا ہوا؟عابد کا انتظار کر رہی ہو؟“فاطمہ نے اس کے قریب پہنچ کر پوچھا۔۔

علینہ یکایک رک گئی۔نگاہیں فاطمہ پر جم گئیں۔فاطمہ کے چہرے پر وہ اطمینان تھا،جو علینہ کو عابد کی موجودگی میں بھی کبھی میسر نہ آیا تھا۔اسے سب کچھ مل گیا تھا، مگر وہ سکون…وہ طمانیت،جو فاطمہ کے لہجے،چال اور آنکھوں میں جھلکتی تھی،وہ اسے آج بھی نصیب نہ ہوئی تھی۔

”باہر لنچ کا ارادہ ہے؟“۔فاطمہ نے اس کے لباس کی طرف دیکھ کر کہا۔”چلی جاؤ،جی بھر کے دیکھ لو…کیا معلوم اگلے چھ سات سال اس کا چہرہ دیکھنا نصیب ہو یا نہ ہو“۔فاطمہ کا انداز عام سا تھا لیکن علینہ کو ہرگز عام نہ لگا۔علینہ کا چہرہ پل بھر میں سرخ ہوگیا۔

”ویسے ایک بات بتاؤ…اگر ایسا ہوا،بلکہ یقیناً ہونا ہے،تو تم کیا کروگی؟طلاق لے لوگی یا پھر اپنی سچی محبت کا ثبوت دیتے سات سال اس کے انتظار میں گزار دو گی؟“۔وہ معصومیت بھری ناسمجھی سے سوال کی۔

،”جسٹ شٹ اپ“!علینہ کا لہجہ تلخ ہو چکا تھا۔”تمہارا اسٹینڈرڈ کیا ہے؟خود کو کبھی غور سے دیکھا ہے؟“علینہ کا ضبط جواب دے گیا۔وہ جھنجھلا کر بولی۔وہ جوابی وار میں فاطمہ کی سادگی کو نشانہ بنانے لگی۔مگر اس وار میں بھی ایک کمزوری تھی۔ایک خوف،ایک جلن۔

۔فاطمہ کے لبوں پر مسکراہٹ گہری ہوگئی۔اس کی آنکھوں میں چمک آئی، مگر جواب میں وہ سخت نہ ہوئی،بس آہستگی سے بولی مضبوط لہجے میں۔۔

”میرے اسٹینڈرڈ کی بات مت کرو علینہ زاہد…یہ دوپٹہ جسے تم طنز کا نشانہ بنارہی ہو،یہی میرا اسٹینڈرڈ ہے۔اور اسٹینڈرڈ کے اس لیول تک تم نہیں پہنچ سکتی“۔ اس کے لہجے میں ٹھہراؤ تھا۔وہ گویا آئینہ تھامے کھڑی تھی۔

”میرا اسٹینڈرڈ یہ ہے کہ میں کسی غیر مرد سے گلے ملنا تو دور کی بات،ہاتھ تک نہیں ملاؤں گی…چاہے وہ پھر آپ کا بہنوئی ہو یا کزن،دیور ہو یا دوست۔اور نہ ہی میں یہ برداشت کرسکتی ہوں کہ میرا شوہر کسی عورت سے یوں بےتکلف ہو۔اس لمس کا حق صرف مجھے حاصل ہے“۔اس کے لہجے میں اتنا وقار،اتنا اعتماد تھا کہ لمحہ بھر کو فضا بھی ساکت ہو گئی۔علینہ جیسے دم سادھے سن رہی تھی۔

”یہ جو آج کل ’اسٹینڈرڈ‘ اور ‘اوپن مائنڈیڈ’  ہونے کے زعم میں فخریہ دیور اور بہنوئی سے گلے ملتے ہیں،وہ دراصل کم ظرفی ہے،گناہ ہے،بےحیائی ہے۔جسے تم لوگ ہم جیسے لوگوں کو پست ذہنیت کا کہ کر جسٹیفائی کرنے لگ جاتے ہو۔گناہ کو چاہے جتنے الفاظ میں لپیٹ دو،وہ گناہ ہی رہتا ہے“۔۔

فاطمہ کا چہرہ روشن تھا، جیسے وہ ایک مشعل لیے ہو۔

”ایک بات کہوں علینہ؟“۔۔وہ ٹھہر کر اسے دیکھی۔

”خوبصورت ہونا ضروری نہیں ہوتا…باوقار ہونا ضروری ہے۔اور باوقار عورت خود سراپا عزت ہوتی ہے“۔وہ ایک آخری نگاہ ڈال کر آگے بڑھ گئی۔اس کی باتوں کا ایک ایک لفظ علینہ کے اندر گھونسا بن کر لگا تھا۔وہ ساکت کھڑی،سرخ چہرہ لیے جیسے لمحہ بھر کو بولنا بھول چکی تھی۔

۔وہ چپ چاپ بینچ پر بیٹھ گئی۔ہوا ہلکی سی چلی،تو خشک پتیاں اس کے قدموں کے قریب بکھر گئیں۔اچانک موبائل بجنے لگا۔ نمبر دیکھ کر اس کا دل جیسے سینے میں ڈوب گیا۔لرزتے ہاتھوں سے کال ریسیو کی۔

”اوہ، تو آخرکار کال ریسیو کر ہی لی؟“ دوسری طرف سے آواز طنزیہ تھی۔

”کال کیوں کی ہے؟“۔وہ سخت لہجے میں بولی۔

”تمہارے گھر آیا تھا…“اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی علینہ اس کی بات کاٹ گئی۔

”کیا؟ کب؟ میرے گھر؟“اس کے دل کی دھڑکن جیسے بند ہونے لگی۔

”تم نے تو شادی پر بلایا نہیں،سوچا خود ہی آکر مبارکباد دے دوں“۔۔اس کی زبان میں طنز کی آگ تھی،جو علینہ کو جھلسا رہی تھی۔

”کس وقت آئے تھے؟“۔علینہ کی سانسیں تیز ہوگئیں۔اس نے ماتھے پر جمع ہوتی نمی کو لرزتے ہاتھوں سے صاف کیا۔

”فکر نہ کرو…فاطمہ کمال کے سوا کسی سے ملاقات نہیں ہوئی“۔۔

”فاطمہ سے؟کیا کہا ہے تم نے اسے؟“۔اس کی آواز کپکپا رہی تھی۔

”وہی جو تم نے میرے ساتھ کیا۔مجھ سے وعدے کر کے کسی اور سے شادی کرلی“اس کی بات سن کر علینہ نے گلے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سانس بحال کرنے کی کوشش کی۔

”تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟“۔وہ غرائی۔ ذلت، خوف اور غصہ آنکھوں میں جھلکنے لگا۔

”ڈونٹ وری…اگر تم سوچ رہی ہو کہ تمہاری ماں یا شوہر کو سب بتا دوں گا،تو نہیں کروں گا ایسا۔میں بتانا چاہتا تھا تمہارے گھر کے ایک ایک فرد کو،مگر تمہارے گھر کی ایک عزت دار لڑکی نے مجھے روک دیا“۔اس کے لہجے میں فاطمہ کے لیے احترام تھا۔

”جانتی ہو اس نے کیا کہا؟“۔وہ بولا۔علینہ کی پلکیں لرزیں۔ دل زور سے دھڑکنے لگا

”اس نے کہا…ایک لڑکی کی عزت بہت اہم ہوتی ہے۔کوئی بھی لڑکی اپنے گھر والوں کے سامنے یوں بےعزت ہونا نہیں چاہتی۔اگرچہ اس نے غلطی کی،مگر اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ مخلص ہے۔اس کے ماضی کو چھیڑنا اس کے حال کو برباد کر دے گا۔اسے معاف کر دو“۔۔وہ ساکت ہو گئی۔

”میں حیران ہوتا ہوں تم دونوں کزن ہو کیسے؟ایک آسمان، ایک زمین۔صرف فاطمہ کمال کی وجہ سے میں نے پہلی بار کسی لڑکی سے مخلص ہونے کا ارادہ کیا تھا،نکاح کرنے کا سوچا تھا۔مگر تم نے سب برباد کر دیا۔جانتی ہو،فاطمہ کمال سے پہلی بار ملنے کے بعد میں پہلی بار کسی لڑکی سے سچی سے محبت کر پایا تھا۔اور وہ لڑکی تم تھی۔میں وہ شخص ہوں جس کی دوستوں کی لسٹ میں ہمیشہ لڑکیوں کی ایک بھیڑ ہوتی تھی۔لیکن آج…صرف فاطمہ کمال کی وجہ سے میری لسٹ خالی ہے۔اور یہ پہلی بار ہے کہ میں اس بات سے خوش ہوں۔اُس باوقار لڑکی نے تمہیں تمہارے گھر والوں کے سامنے بعزتی سے بچا لیا“۔

کال کٹ چکی تھی۔علینہ زاہد وہیں بیٹھے بیٹھی رہ گئی، فون ہاتھ میں لیے۔آنکھوں میں نمی تھی،چہرے پر صدمہ۔ دل میں صرف ایک سوال گونج رہا تھا۔

”میں نے اس کے ساتھ کبھی کچھ اچھا نہیں کیا…پھر وہ میرے لیے کیوں ڈھال بن گئی؟“۔

______________________________________

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on