All right reserved for Classic Urdu Material
آسمان پر رات کا گہرا سایہ پھیلا ہوا تھا۔ سڑکوں پر لگے کھمبوں پر ٹمٹماتی زرد روشنی فضا کو اور بھی سنسان اور پراسرار بنا رہی تھی۔ تہران کے مضافات میں، ایک پرانی ویران عمارت کھڑی تھی۔ اس کے گرتے ہوئے ستونوں پر کائی جمی تھی، دیواروں پر گولیوں کے نشانات اور دھواں زدہ دھبے اب بھی موجود تھے۔ مقامی لوگ اسے “خانۂ سوختہ ” کہتے تھے، کیونکہ ایران-عراق جنگ کے دوران یہاں ایک خواتین کا پناہ گزین مرکز تھا جس پر ایک فضائی حملہ ہوا۔ کئی عورتیں زندہ جل گئیں اور ان کی چیخیں آج تک سنائی دینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
رات کو یہاں کوئی قدم رکھنے کی ہمت نہیں کرتا۔ کہتے ہیں جو بھی یہاں ٹھہرے، صبح زندہ نہیں لوٹتا۔ عمارت کے قریب سے گزرنے والے ٹیکسی ڈرائیور بھی گاڑی کی رفتار بڑھا دیتے ہیں۔
لیکن کسی کو یہ خبر نہیں تھی کہ اسی خوفناک ویران کھنڈر کے نیچے، ایک خفیہ راستے سے اتر کر ایک ایسی دنیا میں پہنچا جا سکتا ہے جہاں اندھیرا نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی دنیا آباد تھی۔
زنگ آلود دروازے کے پیچھے ایک پرانا اسٹور روم دکھائی دیتا تھا، مگر فرش پر ایک خاص اینٹ مخصوص انداز سے دبانے پر لکڑی کا تختہ سرکتا اور نیچے جانے والی لوہے کی سیڑھیاں نمودار ہو جاتیں۔ سیڑھیوں کے آخر میں خودکار سیکیورٹی دروازہ تھا جو صرف موساد کے مخصوص کوڈ پر کھلتا۔
اس دروازے کے پار ایک بالکل مختلف جہان تھا شیشے کی دیواروں والا ایک ہائی ٹیک بیس، جدید کمپیوٹرز، ہولوگرافک ڈسپلے، اور انکرپٹڈ کمیونیکیشن رومز۔ ہر کونے میں مسلح سائے حرکت کرتے، مگر یہ کوئی عام سیکیورٹی کی طرح نہیں تھے ۔۔۔ یہ موساد کے سائے تھے
یہاں، تہہ خانے کے وسط میں، ایک لمبی اسٹیل کی میز پر جاسوسی کے آلات رکھے تھے۔ مائیکرو ڈرونز، بائیو ٹریس ڈیوائسز، نینو ماسک، اور وہ تمام گیجٹس جن کے بارے میں عام انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔
اور آج یہ سیف ہاؤس لیا ایلن عرف نور فاطمہ کے لیے کھولا گیا تھا۔
ایرانیوں کو خبر تک نہیں تھی کہ ان کے ہی ملک میں ڈراؤنے قصوں کہانیوں کی وجہ سے مشہور کھنڈرات کے نیچے زیر زمین ، میں اسرائیل کا سب سے خطرناک نیٹ ورک اپنی جڑیں گاڑے ہوئے تھا ۔۔۔۔
میز کے قریب کھڑی تھی ” لیا ایلن” موساد کی سب سے خطرناک، سب سے چالاک ایجنٹ۔ اس نے سیاہ جیکٹ پہن رکھی تھی، جس کے کالر قدرے کھڑے تھے، اور چمڑے کے دستانوں پر روشنی ہلکے زاویے سے پڑ رہی تھی۔ وہ خاموشی سے ایک ایک گیجٹ کو پرکھ رہی تھی۔
اندھیرے سایوں سے ایک دراز قد ہیولہ نمودار ہوا۔۔۔۔
” یائل ” موساد کا فیلڈ کوآرڈینیٹر ! اس کے چہرے پر سختی ایسے جمی تھی جیسے وہ پتھر کا بت ہو ، اور لہجہ اتنا سرد کہ سانسیں بھی جم جائیں۔
“لیا…” اس نے دھیمے مگر کاٹ دار لہجے میں اسے مخاطب کیا ۔۔
“یہ مشن تمہارے کیریئر کا سب سے خطرناک مشن ہے۔ ایران کا ڈیفنس آفس کوئی عمارت نہیں… یہ ایک قلعہ ہے۔ وہاں ایک غلط قدم تمہاری جان لے لے گا اور نتیجہ ؟؟ ایرانی ہوشیار ہوجائیں گے پھر ان کے ایٹمی راز چرانا ناممکن ہو جائے گا ۔۔۔”
لیا ایلن جو ایران میں نور فاطمہ کے کوور سے جانی جاتی تھی، نے ٹھنڈی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
“میں اس مشن کی اہمیت اور درپیش خطرات کو اچھی طرح سمجھتی ہوں۔۔۔۔ یائل ! قلعے وہی ایجنٹ توڑتے ہیں جو اپنے خوف کو مار کر اسے ہی اپنا ہتھیار بنا لیتے ہیں۔ ۔۔۔۔”
یائل نے ایک بٹن دبایا اور کمرے میں ہلکی نیلی روشنی پھیل گئی۔ چھت سے لٹکی ہوئی پروجیکشن ڈیوائس نے فضا میں ایک شفاف، ہولوگرافک ماڈل ابھارا ، ایران کے ڈیفنس آفس کی تھری ڈی تصویر، جو ایک مستحکم قلعے کی مانند تھی۔ ماڈل کے اوپر سرخ، نیلی اور سبز لکیریں تیزی سے چل رہی تھیں، دیواروں، راہداریوں اور سیکورٹی پوائنٹس کو گھیرے ہوئے، جیسے یہ عمارت خود ایک زندہ مخلوق ہو جو ہر لمحہ اپنی حفاظت میں مستعد ہے۔
یائل نے اپنی انگلی ماڈل پر پھیرتے ہوئے سبز رنگ کی پہلی لئیر کو نمایاں کیا
“لیا، یہ پہلی رکاوٹ ہے ، موشن سینسر اور لیزر گرڈ ! یہ پہلی رکاوٹ ہے ۔۔۔۔۔”
ہولوگرام میں سبز روشنی میں چھوٹے چھوٹے لیزر گرڈز اور موشن سینسرز جھلکنے لگے۔
“یہ موشن ڈیٹیکٹرز اور لیزر گرڈز صرف حرکت نہیں بلکہ تمہارے جسم کے درجہ حرارت کو بھی پڑھ لیتے ہیں۔ یہ تمہارے قدموں کے انداز، وزن کی تبدیلی اور حتیٰ کہ تمہارے سائے کو بھی محسوس کرتے ہیں۔ ایک لمحے کی بھی بے احتیاطی، ایک چھوٹا سا غلط قدم اور یہ گرڈ تمہیں ریت کی طرح بکھیر دے گا۔۔۔۔۔۔”
” میں نے لیزرز شعاؤں کے ساتھ رقص کرنا سیکھ رکھا ہے۔” لیا نے بڑے کانفیڈینس سے جواب دیا ۔
“یہ کوئی رقص نہیں، لیا۔ یہ موت کے کنارے کی چال ہے۔ یہ نظام اسرائیل کے سب سے جدید دفاعی نیٹ ورک سے بھی زیادہ سخت اور تیز ہے۔ یہاں غلطی کا کوئی مقام نہیں۔۔۔۔”یائل کا لہجہ سخت اور آنکھوں میں سنجیدگی تھی،
اب یائل نے ہولوگرام پر نیلا رنگ منتخب کیا۔ اب ایک لمبی، تنگ راہداری نمودار ہوئی جس کے دونوں طرف سینسرز نصب تھے۔

