Latest Novel Romantic Novels Vani Based Youtube Novels

Qalb E Mohabbat Complete |Classic YouTube Special|

بھرے مجمع میں اس وقت موت کا سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔جرگے میں موجود سبھی افراد کی نظریں سامنے بیٹھے اس مغرور شخص پر ٹکی تھیںجو سفید لباس پہنے ان کے سامنے بیٹھا تھا۔سرخ و سفید رنگت، مغرور کھڑی ستواں ناک کشادہ پیشانی، گہری سیاہ آنکھیں، گھنی مونچھیں تلے عنابی لب آپس میں پیوست تھے۔۔آج صرف جرگے کا فیصلہ ہی اسکے ہاتھ میں نہیں تھا بلکہ کسی کی زندگی کا فیصلہ بھی آج اسے ہی کرنا تھا۔”کہیں مہمند خانزادہ کیا ہے آپ کا فیصلہ؟” سر پنچ صاحب کی جانب سے پوچھے جانے والے سوال پر وہاں موجود سبھی لوگ دم سادھ کر اب فیصلے کے منتظر تھے۔۔ایک نظر سبھی پر ڈالتا وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔”مجھے خون کے بدلے خون نہیں چاہئے۔” سناٹے کو چیرتی اسکی آواز گونجی تو اسکے لفظوں پر سامنے ,سر جھکائے افراد کی آنکھیں چمکی تھیں”بلکہ مجھے خون کے بدلے اوزے گل خون بہا میں چاہیے” اسکی اگلی بات نے اچکزئی خاندان کے لوگوں کی سانسیں کھینچیں تھیں۔”یہ ناممکن ہے وہ کسی کی منگ ہے”اسکا بھائی چیخا تو کشادہ پیشانی پر بلوں کا اضافہ ہوا تھا”تو پھر خون کے بدلے خون دے دیں مجھے اعتراض نہیں۔” اسکی اگلی بات پر سب کو سانپ سونگھ گیا تھا__________لال حویلی میں اس وقت ایک عجیب سا شور تھا۔”کیا ہوا ہے کشمالہ؟” بڑی اماں گھبرائے ہوئے لہجے میں اپنے کمرے سے باہر آئی تھیںصبحِ سے وہ جائے نماز بچھائے بیٹھی تھیں”پنچائیت کا فیصلہ آگیا ہے بڑی اماں۔۔۔”کشمالہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ بڑی اماں کا دل کانپ اٹھا۔”کیا فیصلہ آیا ہے مالا بول نا”ان کا دل پھٹے جارہا تھا”خانزادوں نے خون کے بدلے خون لینے سے منع کر دیا ہے”کشمالہ کے بتانے پر پلر کی اوٹ سے جھانکتے وہ سبز نین پرسکون ہوئے تھے۔”تو پھر فیصلہ کیا ہوا؟”بڑی اماں کو بے چینی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا”اوزے گل کو خون بہا میں مانگا ہے انہوں نے” فیصلہ سناتی وہ پلر کی اوٹ میں کھڑی اوزے گل کو جامد کر گئی تھی۔۔”یا میرے اللہ یہ کیا بول رہی ہے کشمالہ ہماری اوزے نا نا نا۔۔ وہ سہیل خاناں کی منگ ہے اسکا خون بہا کیسے ؟”ان کا دل تڑپ اٹھا تھا”مہمند خانزادہ نے یہی شرط رکھی ہے بڑی اماں یا تو لالہ کا خون یا اوزے گل”مہمند خانزادہ کا نام سنتے سبز نگینوں میں پانی بھرنے لگا تھا بے یقین سی ہوتے وہ قدم الٹے لیتی بھاگ کر اپنے کمرے میں بند ہوئی تھی۔سرخ لب کپکا رہے تھے آنسو اسکے عارض بھگوتے چلے جارہے تھے”ہمیں اتنی بڑی سزا مت دیں مہمند ہم مر جائیں گے”اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹتے وہ بیڈ پر گری تھی۔۔۔۔________”یہ کیا فیصلہ کیا ہے آپ نے مہمند خانزادہ” آغا جان نے غصے سے اسے دیکھا جو ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے صوفے پر مطمئن انداز میں بیٹھا تھا۔”آپ وہاں موجود تھے کیا آپ نے فیصلہ سنا نہیں تھا ؟”اسکے اطمینان میں ابھی کمی نہیں آئی تھی”وہ کسی کی منگ ہے مہمند خانزادہ””مگر اب وہ میری بیوی بننے والی ہے””بیوی یا خون بہا میں آئی ایک غلام”ان کی بات پر اس نے مٹھیاں بھینچی تھیں۔”جو آپ کو سمجھنا ہیں سمجھ لیں میں اپنا فیصلہ نہیں بدلوں گا کیونکہ خون تو میرے اپنے کا ضائع ہوا ہے نا میرے سگے ماموں کا” ان کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر کہتے وہ لمبے ڈاگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔”مہمند رک۔۔۔ مہمند بات تو سن یار”اسکے پیچھے تیزی سے بھاگتے وہ اس کے ہم قدم ہوا تھا۔”کیوں بھاگ رہا ہے ہاں ؟” اسکے سامنے آتے قمر عباس نے اسکا راستہ روکا تھا۔”اگر تو بھی مجھے لیکچر دینے آیا ہے تو بہتر ہے مجھ سے دور رہے””اچھا واقعی اور تیرا کیا۔۔۔ ؟””میرا کیا قمر میرا کیا” وہ غصے سے چیختے اس سے دور ہوا تو قمر نے بے بسی سے اسے دیکھا”وہ محبت ہے تیری””محبت ؟” محبت لفظ پر وہ استہزایہ انداز میں ہنسا۔۔”ایسے کسی لفظ کی مجھ سے شناسائی نہیں ہے اور ہاں اس فیصلے کو غلط انداز میں مت لینا میرے بھائی کا خون اتنا آزارہ نہیں کہ میں معاف کردوں۔۔ وہ بھی اس محبت کے نام پر۔۔ یہ لفظ صرف ایک دھوکہ ہے ایک فریب ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں”قمر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے وہ اسکے سارے شک و شبہ کو ختم کرتا جیپ میں سوار ہوا تھا۔”مت کر ایسے مہمند خدا کے لئے مت کر”قمر اسے کسی صورت اس حال میں نہیں دیکھ سکتا تھا وہ اسکے دل کی حالت سے اچھے سے واقف تھا مگر جو کچھ ہوا تھا وہ چاہ کر بھی اسے بدل نہیں سکے گا یہ بات وہ جانتا تھا۔__________”بڑی اماں اب کیسی ہے اوزے؟” بڑی اماں اسکے کمرے سے نکلیں تو کمال سب سے پہلے آگے آیا تھا۔”بخار میں بھنک رہی ہے””اماں اسے تیار کریں جرگے میں جانے کا وقت ہوگیا ہے””ایسا غضب نا کرو میری بچی پر خدا کے لئے “”تو کیا چاہتی ہیں آپ ایک بار پھر جوان جنازہ اٹھاوں کندھوں پر” بڑی اماں کی بات پر عبد الرحمن اچکزئی چلائے تھے”سالوں پہلے اٹھایا تھا نا ایک جنازہ پھر دے دوں میں کمال کو ان کے اگے؟”ان کے چلانے پر بڑی اماں کشمالا بیگم کے سینے سے لگتیں پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔”لے کر آؤ اوزے کو” حکم صادر کرتے وہ وہاں سے نکلتے چلے تھے۔بے بسی سے کمال نے لب بھینچے تھے۔۔تھوڑی دیر بعد کشمالہ اسکے نحیف وجود کو تھامے باہر آئی تھیں۔جس کی آنکھوں میں ویرانی تھی خشک آنکھیں جس سے ایک آنسو نہیں نکلا تھا۔۔”ہمیں معاف کر دینا بیٹا”اسکے سر پر دشت شفقت رکھتے وہ بھرائی آواز میں بولے مگر اسکی چپ نہیں ٹوٹی۔۔ اس نے جیسے خود کو پتھر کا کرلیا تھا۔ ہر احساس سے عاری پتھر۔۔۔کشمالہ اسے تھامے باہر آئی تھیں اور اسے گاڑی میں بیٹھایا تھا۔”بڑے ابا اور اماں کا خیال رکھنا چچی۔۔۔ کہہ دینا اگر اپنی اوزے کی زندگی چاہتے ہیں تو اپنا خیال رکھیں لالہ کو کہنا اداس نا ہوں اپنے لالہ پر تو اوزے کی جان بھی قربان ہے۔”گاڑی میں بیٹھتے اس نے کشمالہ سے کہا تھا۔جانتی تھی اسکے جانے کے بعد اسکے گھر والے خوش نہیں ہونگے۔۔کشمالہ کے گاڑی میں بیٹھتے ہی گاڑی اسٹارٹ ہوئی تھی اور اسکا رخ اب جرگے والی جگہ پر تھا۔اوزے نے پلٹ کر اپنی حویلی کو دیکھا تھا جہاں اسکا بچپن گزرا تھا اپنی زندگی کا ہر ایک حسین لمحہ اسی حویلی میں تو گزرا تھا۔۔”مہمند خانزادہ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی کبھی نہیں”سر سیٹ سے لگاتے اس نے خود سے کہتے آنکھیں موندی تھیں۔۔___________

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on