شام کا پہر تھا چاروں اور ٹھنڈی یخ بستہ ہواؤں نے ڈیرہ جمایا ہوا تھا وہ سفید رنگ کا لباس زیب تن کئے، کالے رنگ کی شال کندھے پر رکھے بالوں کو جیل سے سیٹ کئے، پانچ فٹ آٹھ انچ قد، تیس سال کا نوجوان، وہ گاؤں کا چکر لگا کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس وقت حویلی واپس آیا تھا۔ وہ جیسے ہی لاؤنج کے اندر آیا ٹی وی آن کرکے صوفے پر بیٹھ گیا۔
“سکھر شہر کے ایم این اے فیصل میر نے وعدہ کیا تھا وہ سڑک کا کام کروائیں گے، روڈ پر کافی سالوں سے کوئی کام نہیں کروایا گیا جس کے باعث وہاں سے گزرنے والے لوگوں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ووٹ لینے کے وقت جو وعدے کئے جاتے ہیں ان کو پورا کرنے کے وقت سیاسی حکمران کہاں ہوتے ہیں؟” نیوز چینل پر اینکر نیوز سنا رہی تھی جسے سن کر اس کے غصے کا گراف بڑھ ہی گیا اس نے چینل تبدیل کیا باقی چینلز پر یہ نیوز ابھی نشر نہیں ہوئی تھی اس نے غصے میں ریموٹ ٹیبل پر رکھا۔
“مجھے اس اینکر کی ساری معلومات چاہیے، یہ نیوز اس نے کس کے کہنے پر پڑھی ہے؟ جلدی پتا کرو۔” اس نے اپنے ساتھی کو کہا اور موبائل پر میسج لکھنے لگا۔
“ٹھیک ہے میں کچھ دیر تک معلومات لے کر بتاتا ہوں۔” اس کے آدمی نے کہا اور باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا جبکہ اس نے میسج ٹائپ کرکے موبائل کو ٹیبل پر رکھا۔
“تم کب آئے؟” فیصل صاحب نے لاؤنج میں داخل ہو کر اس سے پوچھا وہ کچھ دنوں کے لیے لاہور گیا تھا اور آج واپس آیا تھا۔
“کچھ دیر قبل آیا ہوں، آپ نے نیوز سنی؟” اس نے ناسمجھی سے ان کی جانب دیکھا تو وہ صوفے پر بیٹھ گئے۔
“نہیں۔” انہوں نے کہا اور اپنی نظریں ٹی وی پر مرکوز کر لیں اس چینل پر اینکر ابھی تک وہی نیوز سنا رہی تھی انہوں نے ٹیبل سے ریموٹ اٹھایا اور غصے میں چینل تبدیل کیا اس سے اگلے چینل پر بجٹ کے متعلق خبر سنائی جا رہی تھی۔
“یہ نیوز کس نے چینل کو دی ہے؟” انہوں نے غصے میں پوچھا وہ اس سڑک پر کام کروا چکے تھے پھر کیوں کسی نے یہ خبر چینل پر دی تھی انھیں سمجھ نہیں آئی۔
“یہ کام اجمل صاحب کا ہو سکتا ہے۔” اس نے پرسوچ انداز میں کہا تو وہ پریشان ہو گئے۔
“تم اس بارے میں معلوم کرواؤ، مجھے ضروری کام سے باہر جانا ہے۔” انہوں نے کچھ دیر کی توقف کے بعد کہا اور باہری دروازے کی جانب بڑھ گئے جبکہ اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور نمبر ڈائل کرتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
*
Rah E Zindagi by Arfa Ali Episode 1 Online Reading

