رات کے نو بج رہے تھے جب وہ گھر کے اندر داخل ہوئی اس نے تحریم بیگم کو کال کرکے بتا دیا تھا کسی نے اس کی کار کا ٹائر پنکچر کر دیا ہے اس لیے اسے گھر آنے میں دیر ہو جائے گی۔ وہ لاؤنج کے اندر داخل ہوئی وہ اس وقت تھک چکی تھی اس نے تحریم بیگم کو بتایا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھی ہی تھی جب راحیل کی بات سن کر اس نے اپنے قدم روکے اور پلٹ کر اسے دیکھنے لگی جو غصے میں اسے دیکھ رہا تھا۔
“گھر واپس آنے کا یہ وقت ہے؟” اس نے سوال پوچھا تو وہ پریشان ہو گئی۔
“میری جاب کا وقت چھ بجے تک تھا، کسی نے کار کا ٹائر پنکچر کر دیا تھا اس لیے گھر آنے میں دیر ہو گئی۔” کنزہ نے بتایا تو اس نے تحریم بیگم کی جانب دیکھا۔
“ماما۔ میں نے منع کیا تھا اسے کار کی چابی نہ دیں لیکن آپ نے میری بات نہیں مانی تھی روزانہ یہ دیر سے آتی ہے اگر ایسا رہا تو اسے گھر بٹھا دیں جاب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” اس نے تحریم بیگم سے کہا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ کنزہ کی جانب دیکھنے لگیں جو پریشان کھڑی تھی۔
“کنزہ اپنے کمرے میں جاؤ۔” تحریم بیگم نے کہا تو اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا وہ اثبات میں سر ہلا کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تو تحریم بیگم صوفے پر بیٹھ گئیں۔
Rah E Zindagi by Arfa Ali Episode 3 Online Reading

