Uncategorized

Rah E Zindagi by Arfa Ali Episode 5 Online Reading

وہ رات دس بجے کے قریب کراچی کے لیے روانہ ہو گئے تھے ان کے جانے کے بعد ہانیہ اداسی سے لاؤنج میں بیٹھ گئی اسے راحیل کی بات یاد آئی تو ناجانے کیوں اس کی آنکھیں پھر سے نم ہو گئیں اس نے دونوں ہاتھ منہ پر پھیرے اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ تبھی اس کا دھیان ریحان کی جانب گیا وہ پریشانی میں ٹہل رہا تھا اس نے آگے
بڑھ کر پوچھنا چاہا تبھی اس نے اپنے قدم روکے وہ اس سے کچھ پوچھتی تو وہ اسے ڈانٹتا وہ دلبرداشتہ ہوتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔


وہ صوفے پر بیٹھا ہوا اس کے بارے میں سوچ رہا تھا وہ لڑکی حاضرِ جواب اور ذہین تھی، اس نے اپنے خیالوں کو جھٹکا اور ٹیبل سے موبائل اٹھا کر نمبر ڈائل کیا تو کچھ دیر بعد کال رسیو کی گئی۔
“میں نے تمہیں کچھ کام دیا تھا۔” اس نے دبی ہوئی آواز میں کہا۔
“ہاں، ریاض کی فیمیلی کچھ دیر پہلے کراچی کے لیے نکل گئی ہے، میں نے اپنے آدمیوں کو ان کے پیچھے بھیجا ہے۔” اس آدمی نے بتایا۔
“ٹھیک ہے، صرف فائرنگ کرنی ہے کسی کو نقصان مت پہچانا۔” فواد نے اسے یاد دلایا۔
“ہاں ٹھیک ہے۔” اس آدمی نے کہا تو فواد نے کال کاٹی اور اٹھ کر بیڈ کی جانب بڑھ گیا۔ وہ جیسے ہی بیڈ پر بیٹھا اس نے آنکھیں موندیں تبھی ماضی کی کچھ یادیں اس کے ذہن میں گردش کرنے لگیں۔
“فواد جلدی کرو مجھے یونیورسٹی کے لیے دیر ہو رہی ہے۔” ساجد نے گھڑی میں ٹائم دیکھا جہاں صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔
“ناشتہ تو کرو، تمہارے حصے کا ناشتہ بھی عماد اٹھا رہا ہے۔” فواد نے مزاحیہ انداز میں کہا تو اسے
ہنسی آگئی۔
“میں یونیورسٹی میں ناشتہ کر لوں گا تم باہر آؤ۔” ساجد نے کہا اور اپنا بیگ اٹھائے باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا جبکہ اس نے جلدی سے اپنا بیگ اٹھایا اور باہر آیا تو وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا موبائل استعمال کر رہا تھا اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
“ہونے والی بھابھی سے بات کر رہے ہو کیا؟” فواد کی بات سن کر اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا اس نے موبائل کو رکھا۔
“تمہیں اس بات سے مطلب نہیں ہونا چاہیے سمجھے؟” اس نے غصے میں ڈپٹا تو فواد نے حیرانی سے اسے دیکھا وہ کیوں اسے ڈپٹ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آئی۔
“تم غصہ کیوں کر رہے ہو؟ میں نے تو صرف پوچھا ہے۔” فواد نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تو اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی۔
“تم مجھے یہ بتاؤ، تمہاری کالج کی پڑھائی کیسی ہو رہی ہے؟ پیپرز ہو گئے کیا؟” اس نے اپنے غصے پر قابو کیا اور اس سے پوچھا تو فواد نے منہ بنایا۔
“پڑھائی اچھی ہو رہی ہے، پیپرز ابھی نہیں ہوئے۔”
اس نے بتایا تو ساجد نے اس کے کالج کے سامنے کار روکی وہ بیگ اٹھا کر باہر آیا۔
“اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔” ساجد نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر چلا گیا
جبکہ اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی اور کار کو آگے بڑھا گیا۔
اس کی آنکھوں میں نمی آگئی تو اس نے فوراً آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر بیٹھ گیا اس کا بھائی آج اسے شدت سے یاد آرہا تھا اس نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ اٹھ کر اسٹڈی روم میں چلا گیا۔


رات کے گیارہ بج رہے تھے وہ کراچی جا رہے تھے۔
راحیل ڈرائیونگ کر رہا تھا جبکہ ریاض صاحب فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے پریشان تھے انہوں نے پیچھے دیکھا تحریم بیگم اور کنزہ بیک سیٹ پر بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں۔ اچانک فائرنگ کی آواز گونجی تو راحیل نے بیک ویو مرر سے دیکھا بائیک پر سوار کچھ آدمی فائرنگ کر رہے تھے اس نے کار کی اسپیڈ بڑھائی تو آدمی نے بھی اپنی بائیک کی اسپیڈ بڑھائی۔
“تم راستہ بدلو۔” ریاض صاحب نے کہا تو اس نے گاڑی کو موڑا۔
“بابا یہ فائرنگ کیوں کر رہے ہیں؟” کنزہ نے ناسمجھی سے پوچھا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئے۔
“مجھے لگ رہا ہے فیصل نے انھیں یہاں بھیجا ہے۔” انہوں نے پرسوچ انداز میں کہا اور باہر دیکھنے لگے بائیک پر سوار آدمی نے بائیک کو ٹرن کیا اور چلا گیا جبکہ انہوں نے پرسکون ہو کر سیٹ سے ٹیک لگا لی۔
“فیصل انکل نے انھیں یہاں کیوں بھیجا ہوگا؟” کنزہ نے ناسمجھی سے پوچھا تو وہ خاموش ہی رہے۔
“تمہیں وجہ نہیں پتا؟” راحیل نے حیرانی سے پوچھا۔
“نہیں۔” اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“میں نے کنزہ کو کچھ نہیں بتایا۔” تحریم بیگم نے کہا تو انھیں بات کی سمجھ آئی۔ گاڑی میں خاموشی چھا گئی جبکہ کنزہ نے ناسمجھی سے ان کی جانب دیکھا کسی نے کچھ نہیں بتایا تو اس نے آرام کرنے کی غرض سے آنکھیں موند لیں۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on