Romantic Novels Web Special Novels

Sanam Sodagar Novel By Mehwish khan Episode 10

صنم سوداگر قسط 10صبح کی نرم دھوپ بھاری پردوں کے کناروں سے راستہ بناتے ہوئے کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ گزشتہ کئی دنوں سے ملک ہاؤس میں مسلسل چہل پہل تھی۔ پہلے شادی کی تیاریاں، پھر مہندی، بارات، رخصتی اور اس کے بعد ولیمے کی مصروفیات۔ آج کئی دنوں بعد گھر میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ نیچے ملازم اپنی معمول کی مصروفیات میں لگے ہوئے تھے۔ باورچی خانے سے ناشتے کی تیاریوں کی خوشبو آ رہی تھی۔ رفعت بیگم بھی صبح سویرے جاگ گئی تھیں۔ برسوں بعد ان کے گھر میں ایک اور عورت کی موجودگی نے ان کے معمولات بدل دیے تھے۔ وہ کبھی ملازموں کو ہدایات دیتیں، کبھی مسکراتے ہوئے سوچتیں کہ اب اس سنسان گھر میں آخر ان کے بیٹے کی زندگی میں رنگ آ گئے ہیں۔ اوپر کمرے میں ابھی مکمل خاموشی تھی۔ مہ جبین گہری نیند میں تھی۔ کل کا دن اس کے لیے بہت تھکا دینے والا تھا۔ صبح میکے جانا، لوگوں کی باتیں، شام کا ولیمہ، مسلسل مسکرانا، سب سے ملنا، پھر رات گئے واپس آنا۔ اس کا جسم تھکن سے چور تھا۔ اس کے چہرے پر پھیلے ہوئے بالوں کی چند لٹیں بکھری ہوئی تھیں۔ شازم کی آنکھ کافی دیر پہلے کھل چکی تھی۔ وہ کچھ دیر سے خاموشی کے ساتھ اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر بے اختیار ایک نرم سی مسکراہٹ تھی۔ شاید اسے اب بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ جس لڑکی کو چند مہینے پہلے اس نے پہلی بار کروز پر دیکھا تھا، آج وہ اس کے کمرے میں، اس کی زندگی کا حصہ بن کر سو رہی ہے۔ اس نے آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے پر آئی ہوئی بالوں کی لٹ ایک طرف کی۔ مہ جبین ہلکا سا کروٹ بدل کر دوبارہ پرسکون ہو گئی۔ شازم ہلکے سے مسکرایا۔ کچھ لمحے انتظار کیا۔ پھر آہستہ سے اسے پکارا۔ “ماہی۔” کوئی جواب نہیں آیا۔ وہ ذرا قریب ہوا۔”ماہی، صبح ہو گئی ہے۔”مہ جبین کی پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔ اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ چند لمحوں تک اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کہاں ہے۔ پھر سامنے شازم کو اپنے قریب بیٹھا دیکھ کر اسے اچانک سب یاد آ گیا۔ نیا گھر۔ نئی زندگی۔ اور وہ حقیقت جس کا سامنا اسے ہر دن کرنا تھا۔ ایک لمحے کیلئے اس کے دل میں گھبراہٹ سی ابھری مگر اگلے ہی لمحے اس نے اپنے چہرے کے تاثرات قابو میں کر لیے۔”آپ جاگ گئے؟” اس نے آہستہ سے پوچھا۔”کافی دیر پہلے۔” شازم نے جواب دیا۔”اور تمہیں جگانے کا دل نہیں کر رہا تھا۔””پھر جگا کیوں دیا؟” بے اختیار سوال آیا۔”دو وجہ تھیں۔۔۔” شازم ہنس پڑا۔”ایک یہ کہ مام نیچے ہمارا انتظار کر رہی ہوں گی۔””اور دوسری وجہ؟” مہ جبین نے بے اختیار پوچھ لیا۔ شازم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔”دوسرا یہ ہے کہ مجھے اپنی بیوی سے باتیں کرنی تھی۔” شوخ جواب پر مہ جبین خاموش ہو گئی۔ شازم کی محبت کا یہ انداز اسے اکثر الجھن میں ڈال دیتا تھا۔”کل تم واقعی بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔” شازم نے آہستہ انداز میں کہا۔ مہ جبین نے نظریں جھکا لیں۔”شادی والے دن بھی خوبصورت لگ رہی تھی لیکن کل کچھ اور ہی بات تھی۔۔۔۔پورا ہال تمہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔مجھے تو کئی بار غصہ آ رہا تھا۔” وہ ہنسا۔”غصہ کیوں؟” مہ جبین نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔”ہاں۔۔۔۔سب میری بیوی کو دیکھ رہے تھے۔” شازم نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔ مہ جبین بے اختیار ہنس دی۔ اور اس کی یہی ہنسی شازم کے لیے شاید سب سے خوبصورت منظر تھی۔”میں یہی مسکراہٹ دیکھنا چاہتا ہوں۔” شازم نے خوش ہو کر کہا۔ یہ سنتے ہی مہ جبین کی مسکراہٹ کچھ مدھم پڑ گئی۔ اسے فوراً احساس ہوا کہ وہ بے فکری سے ہنس بیٹھی تھی۔ اس نے نظریں دوسری طرف کر لیں۔ شازم نے اس تبدیلی کو محسوس تو کیا مگر اس کی وجہ کچھ اور سمجھا۔”تھک گئی ہو؟” اس نے نرمی سے پوچھا۔”ہاں، تھوڑی۔””آج کہیں نہیں جانا۔ آرام کرنا ہے۔” شازم کی بات پر مہ جبین نے صرف سر ہلا دیا۔ چند لمحے خاموشی رہی۔ “میرے خیال سے کافی دیر ہو گئی ہے۔۔۔مجھے اٹھنا چاہیے۔” مہ جبین نے جلدی سے کہا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اگر وہ مزید یہاں بیٹھی رہی تو شازم مزید محبت بھری باتیں کرے گا اور وہ اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔”میں تیار ہو کر آتی ہوں۔” وہ بستر سے اترنے لگی۔ مگر ذرا لڑکھڑا گئی۔ شازم فوراً آگے بڑھا۔ اس کا بازو تھام لیا۔ مہ جبین ایک لمحے کیلئے رک گئی۔ یہ معمولی سا لمس بھی اسے اندر تک بے چین کر گیا۔ اس کے ذہن میں ایک لمحے کیلئے فواد کا خیال آیا۔ وہی فواد جس کے ساتھ اس نے اپنی پوری زندگی کے خواب دیکھے تھے۔ اور اب وہ ایک ایسے شخص کے سامنے کھڑی تھی جو پوری سچائی جانے بغیر اس پر جان چھڑک رہا تھا۔”میں ٹھیک ہوں۔” اس نے فوراً اپنا بازو آہستگی سے آزاد کرتے ہوئے کہا۔ شازم نے کسی ناراضی کے بغیر مسکرا کر ہاتھ پیچھے کر لیا۔ پھر وہ جلدی سے کپڑے باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔ دروازے تک پہنچ کر ایک لمحے کیلئے رکی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ شازم اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی اپنائیت تھی۔ وہی محبت جس میں کسی شک یا حساب کا کوئی نشان نہیں تھا۔ مہ جبین کے دل میں ایک لمحے کیلئے عجیب سا بوجھ اترا۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس نے خود کو یاد دلایا۔ یہ سب ایک منصوبہ ہے۔ صرف کچھ وقت کی بات ہے۔ پھر سب کچھ بدل جائے گا۔ اس نے فوراً دروازہ بند کر دیا۔ باہر شازم مسکراتے ہوئے کمرے کی ترتیب درست کرنے لگا۔ جبکہ دروازے کے دوسری طرف کھڑی مہ جبین نے آئینے میں خود کو دیکھا اور ایک گہری سانس لی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ رشتہ جتنا آگے بڑھ رہا ہے، اتنا ہی اس کے لیے اپنے مقصد اور اپنے ضمیر کے درمیان فرق قائم رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مگر ابھی اسے خود کو مضبوط رکھنا تھا۔ کیونکہ اس کھیل کی ابتدا تو ہو چکی تھی، مگر اختتام ابھی بہت دور تھا۔————————-$$$$$$$$$$$———————-

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on