ان دنوں شازم کی زندگی کا سب سے اہم مسئلہ یہ بن گیا تھا کہ وہ مہ جبین کو کہاں لے کر جائے۔ کمرے میں موجود بڑے سے صوفے پر بیٹھا وہ اپنے سامنے رکھی مختلف جگہوں کی تصویری کتابیں اور معلومات دیکھ رہا تھا جبکہ مہ جبین کھڑکی کے پاس کھڑی باہر لان کو دیکھ رہی تھی۔”تمھیں سچ میں کوئی آئیڈیا نہیں ہمیں کہاں جانا چاہئے ماہی؟” شازم نے آخر کار پوچھا۔ مہ جبین اس کی طرف مڑی۔”نہیں، مجھے واقعی کوئی اندازہ نہیں۔ ” وہ ہلکا سا مسکرائی۔یہ بات جھوٹ نہیں تھی۔ اپنی پوری زندگی میں اسے کبھی یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا کہ وہ دنیا کے کس کونے میں گھومنے جانا چاہے گی۔ اس کی زندگی ہمیشہ روزمرہ کی ضرورتوں، محنت اور خوابوں کے درمیان گزری تھی۔ شازم نے چند لمحے اسے دیکھا پھر بولا۔”اچھا، ایک کام کرتے ہیں۔ میں فیصلہ کر لیتا ہوں۔ بعد میں یہ مت کہنا کہ میں نے اپنی مرضی مسلط کر دی۔” اس نے حل نکالا۔”بے فکر رہیں مجھے شکایت نہیں ہوگی۔” وہ راضی تھی۔”اتنا یقین؟” شازم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کتاب بند کر دی۔”پھر طے رہا۔ ہم پیرس جائیں گے۔””پیرس؟” مہ جبین نے حیرانی سے اسے دیکھا۔”ہاں۔ وہ جگہ جس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ وہاں ہر گلی میں محبت کی کوئی نہ کوئی کہانی چھپی ہوتی ہے۔”یہ جملہ سن کر مہ جبین کے دل میں عجیب سی خلش اٹھی۔ محبت۔ کتنا آسانی سے شازم یہ لفظ استعمال کر لیتا تھا۔ اسے کیا معلوم کہ اس کی بیوی کے دل میں ابھی بھی کسی اور کی جگہ موجود ہے۔ مگر اس نے اپنے خیالات چہرے پر نہیں آنے دیے۔”آپ نے پہلے کبھی وہاں سفر کیا ہے؟””کئی مرتبہ۔ لیکن اس بار فرق ہوگا۔ کیونکہ اس بار میں اکیلا نہیں جاؤں گا۔” اس نے معمول کے مطابق محبت سے کہا۔مہ جبین خاموش ہو گئی۔vاب وہ اس کے ایسے جملوں کی عادی ہوتی جا رہی تھی۔ ہر وقت محبت، ہر بات میں اپنا پن۔ اور یہی چیز بعض اوقات اسے سب سے زیادہ بے چین کر دیتی تھی۔ شازم اٹھ کر اس کے قریب آیا۔”ویسے ایک بات بتاؤ۔””جی؟””تمہیں سفر کیلئے کچھ خریداری کرنی ہوگی۔””میرے پاس کپڑے ہیں۔””مجھے معلوم تھا تم یہی کہو گی۔” شازم ہنس پڑا۔”تو غلط کیا کہا؟””غلط کچھ نہیں، لیکن میری بیوی پہلی بار میرے ساتھ دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں جا رہی ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ اسے کسی چیز کی کمی نہ ہو۔”مہ جبین نے کچھ کہنا چاہا لیکن پھر خاموش ہو گئی۔ وہ جانتی تھی شازم اپنے فیصلوں میں بہت ضدی ہے۔ اگر وہ منع کرے گی تو وہ پھر بھی یہی کرے گا۔————————-$$$$$$$$$$$———————- اگلی صبح شازم نے گاڑی تیار کروائی۔ کچھ دیر بعد دونوں روانہ ہو گئے۔ شہر کے سب سے بڑے تجارتی مرکز میں پہنچ کر مہ جبین کچھ لمحوں کیلئے خاموش کھڑی رہ گئی۔ وہ پہلے بھی اچھی جگہوں پر جا چکی تھی لیکن اب معاملہ مختلف تھا۔ آج وہ شازم ملک کی بیوی کے طور پر یہاں آئی تھی۔ جس چیز پر اس کی نظر پڑتی، شازم فوراً کہتا۔”یہ بھی رکھ لو۔””یہ بھی اچھا ہے۔””یہ رنگ تم پر بہت اچھا لگے گا۔””شازم، بس بھی کریں۔ اتنی چیزوں کی ضرورت نہیں۔” آخر کار مہ جبین نے تھک کر کہا۔”ضرورت کی بات کون کر رہا ہے؟ میں خوشی کی بات کر رہا ہوں۔”شازم نے سنجیدگی سے کہا۔ یہ سن کر وہ خاموش ہو گئی۔کبھی کبھی اسے محسوس ہوتا تھا کہ شازم کی خوشی کی وجہ صرف اسے خوش دیکھنا ہے۔ اور یہی احساس اسے اندر سے مزید بے چین کر دیتا تھا۔ کئی گھنٹوں تک خریداری چلتی رہی۔ لباس، جوتے، بیگ، ضروری سامان، ہر چیز دیکھی گئی۔ دوپہر کے وقت شازم اسے ایک خوبصورت کھانے کی جگہ لے گیا۔ شام تک دونوں واپس گھر آئے۔ ملازم گاڑی سے سامان اتارنے لگے۔”یا اللہ، تم دونوں خریداری کرنے گئے تھے یا پوری دکان اٹھا لائے ہو؟” اتنے سارے تھیلے دیکھ کر رفعت بیگم نے حیرانی سے کہا۔”امی، ابھی تو بہت کم لیا ہے۔” شازم ہنس پڑا۔”مجھے تمہارے اس کم سے ہی ڈر لگ رہا ہے۔” رفعت بیگم نے جواب دیا۔ مہ جبین بھی ہنس دی۔ اس کی ہنسی سن کر ماں اور بیٹا دونوں چند لمحے اسے دیکھتے رہ گئے۔ شازم کے چہرے پر ایک خاموش خوشی نمودار ہوئی۔ اس نے دل میں سوچا کہ اگر اس کی ایک مسکراہٹ کیلئے اسے پوری دنیا بھی خریدنی پڑے تو شاید وہ یہ بھی کر گزرے۔ اور مہ جبین کو احساس بھی نہ تھا کہ جس شخص کو وہ اپنے منصوبے کا ایک حصہ سمجھ کر اس کے ساتھ چل رہی تھی، وہ آہستہ آہستہ اس کی زندگی کا ایک ایسا سچ بنتا جا رہا تھا جس سے نظریں چرانا شاید ایک دن آسان نہیں رہے گا۔————————-$$$$$$$$$$$———————-
Sanam Sodagar Novel By Mehwish khan Episode 11

