صبح ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوئی تھی۔ آسمان پر ہلکی ہلکی سفیدی پھیل رہی تھی اور شہر کی سڑکیں معمول کی ہلچل سے پہلے ایک عجیب سی خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ ملک ہاؤس کے اندر مگر آج معمول سے مختلف ایک خوشگوار مصروفیت تھی۔ نوکر ادھر سے ادھر سامان اٹھا رہے تھے۔ بڑے بڑے سوٹ کیس پہلے ہی تیار ہو کر داخلی دروازے کے پاس رکھ دیے گئے تھے۔ ڈرائیور گاڑی کی تیاری مکمل کر چکا تھا اور ہر چیز وقت کے مطابق رکھنے کی کوشش میں تھا۔ رفعت بیگم اپنے کمرے سے نکل کر بار بار ہدایتیں دے رہی تھیں۔ اسی دوران سیڑھیوں سے شازم نیچے اترتا دکھائی دیا۔ سادہ مگر نفیس لباس میں بھی وہ ہمیشہ کی طرح باوقار لگ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر آج ایک الگ ہی تازگی اور خوشی تھی۔”سب سامان دیکھ لیا تم نے؟” رفعت بیگم نے اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔”جی مام۔ آپ پچھلے آدھے گھنٹے سے دس بار یہی پوچھ چکی ہیں۔””میں ماں ہوں، فکر تو ہوگی نا۔” انہوں نے مصنوعی ناراضی سے اسے دیکھا۔”فکر مت کریں۔ میں کوئی بچہ نہیں ہوں۔” شازم آگے بڑھ کر ان کے کندھے کے گرد بازو رکھ کر ہنس دیا۔”میرے لیے تو تم ہمیشہ بچہ ہی رہو گے۔” رفعت بیگم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔اتنے میں اوپر سے مہ جبین بھی آ گئی۔ آج وہ پہلے کی نسبت کافی بدلی ہوئی لگ رہی تھی۔ شادی کے بعد کے دنوں میں اس کے لباس، انداز اور رکھ رکھاؤ میں ایک نفاست آ گئی تھی، اگرچہ اس کے دل کے اندر کی کشمکش ابھی بھی زندہ تھی۔”میری بچی، اپنا خیال رکھنا۔ کھانے پینے کا وقت مت خراب کرنا۔ اور وہاں جا کر صرف شازم کے پیچھے مت چلتی رہنا، خود بھی اپنی مرضی کی جگہیں دیکھنا۔” رفعت بیگم نے اسے دیکھتے ہی لاڈ سے کہا۔ ماہی نے مختصر سی مسکراہٹ دی۔ ہنسی مذاق کے اسی ماحول میں وہ دونوں باہر آ گئے۔ گاڑی روانہ ہوئی تو رفعت بیگم دروازے پر کھڑی دیر تک ہاتھ ہلاتی رہیں۔ راستے میں شروع کے کچھ لمحے خاموشی رہی۔ شہر کی سڑکیں پیچھے چھوٹ رہی تھیں۔ ماہی کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔ شازم نے اس کی خاموشی محسوس کی۔”کیا سوچ رہی ہو؟””کچھ نہیں۔””اگر سفر کی وجہ سے گھبرا رہی ہو تو مت گھبراؤ۔ آرام سے وقت گزاریں گے۔ کوئی جلدی نہیں ہے، کوئی پابندی نہیں ہے۔” وہ نرم لہجے میں بولا۔”میں گھبرا نہیں رہی۔” ماہی نے اس کی طرف دیکھا۔”اچھا ہے۔ کیونکہ میں چاہتا ہوں یہ سفر تمہارے لیے ایک اچھی یاد بنے۔”یہ جملہ سن کر اس کے دل میں ہلکی سی چبھن ہوئی۔ ایک طرف فواد کے ساتھ اس کا چھپا ہوا رشتہ تھا، دوسری طرف شازم کی یہ سچی چاہت۔ لیکن اس نے فوراً اپنے خیالات کو جھٹک دیا۔ ابھی وہ کسی کشمکش میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔ کم از کم اس سفر کے آغاز پر نہیں۔کچھ دیر بعد گاڑی ایئر پورٹ پر پہنچ گئی۔ شازم کے انتظامات پہلے ہی مکمل تھے، اس لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ سامان حوالے کرنے اور ضروری کارروائی کے بعد وہ انتظار گاہ میں بیٹھ گئے۔ ماہی نے اردگرد نظر دوڑائی۔ مختلف ملکوں سے آنے جانے والے لوگ، بچوں کی آوازیں، جلدی میں چلتے مسافر، سب ایک الگ دنیا کا منظر پیش کر رہے تھے۔ اس کے ذہن میں واقعی پچھلے چند مہینوں کی تصویریں گھوم گئیں۔ چھوٹا سا گھر۔ مامی کے طنز۔ پیسوں کی پریشانی۔ ردم گروپ کی محنت۔ اور پھر شازم کا اس کی زندگی میں آنا۔ اعلان ہوا کہ ان کی پرواز تیار ہے۔ دونوں اپنی نشستوں کی طرف بڑھ گئے۔ یہ ماہی کی زندگی کے چند بڑے سفروں میں سے ایک تھا۔ شروع میں جہاز کے بلند ہونے کے وقت اس کے ہاتھ بے اختیار کرسی کے کنارے کو پکڑ گئے۔شازم نے فوراً محسوس کر لیا۔”ڈر لگ رہا ہے؟””تھوڑا سا۔””آرام سے بیٹھو، چند منٹ میں عادت ہو جائے گی۔” اس نے اپنا ہاتھ اس کے قریب رکھتے ہوئے کہا۔ماہی نے خود کو سنبھالا۔ کچھ دیر بعد واقعی اس کی گھبراہٹ کم ہونے لگی۔ بادلوں کے اوپر پھیلی سفید دنیا دیکھ کر اس کے چہرے پر حقیقی حیرت آ گئی۔ شازم نے اسے دیکھا۔ اگلے کئی گھنٹے دونوں کبھی باتیں کرتے، کبھی کھانا کھاتے اور کبھی آرام کرتے رہے۔ شازم نے جان بوجھ کر اس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا۔ وہ اسے سفر کے بارے میں دلچسپ باتیں بتاتا، پیرس کی جگہوں کا ذکر کرتا اور آنے والے دنوں کے منصوبے سناتا۔ آہستہ آہستہ ماہی بھی کھلنے لگی۔ کئی دنوں بعد وہ کچھ دیر کے لیے اپنے دل کے بھاری راز اور منصوبوں کو بھول گئی۔ وہ کھڑکی سے باہر پھیلے بادلوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ اور شازم کو یہی مسکراہٹ دنیا کی سب سے بڑی کامیابی محسوس ہو رہی تھی۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے ابھی بھی ایک ایسا راز چھپا ہوا ہے جو ایک دن اس کی پوری دنیا بدل سکتا تھا۔————————-$$$$$$$$$$$———————-
Sanam Sodagar Novel By Mehwish khan Episode 12

