Web Special Novels

Sanam Sodagar Novel By Mehwish khan Episode 4

ستمگر صنم قسط 4رات کافی گزر چکی تھی۔ ماہی اپنے کمرے کی طرف واپس آ رہی تھی۔ پورا کوریڈور خاموش تھا۔ صرف دور کہیں لہروں کی مدھم آواز آ رہی تھی۔وہ اپنے خیالوں میں گم چل رہی تھی کہ اچانک اسے محسوس ہوا کوئی پیچھے آ رہا ہے۔ اس کے قدم ایک لمحے کو رک گئے۔اس نے مڑ کر دیکھا۔ کوریڈور تقریباً خالی تھا۔ صرف مدھم روشنی اور خاموشی تھی۔ماہی نے دل مضبوط کیا اور دوبارہ چلنے لگی۔ مگر چند لمحے بعد پھر وہی احساس ہوا جیسے کوئی قریب ہو۔ اس کی سانس تیز ہوئی۔“ک۔۔۔۔کون ہے؟”کوئی جواب نہیں آیا۔ اگلے ہی لمحے کوریڈور کے آخری کونے سے کسی سایہ نما شخص کی جھلک دکھائی دی۔ ماہی کا دل زور سے دھڑکا۔ اور اسی لمحے پیچھے سے ایک آواز ابھری۔“مہ جبین؟” وہ چونک کر پلٹی۔ وہ شازم تھا۔“آپ؟”شازم فوراً اس کے چہرے کی گھبراہٹ سمجھ گیا۔“کیا ہوا؟”ماہی نے کوریڈور کے آخری کونے کی طرف دیکھا۔ مگر وہاں اب کوئی نہیں تھا۔“مجھے لگا… کوئی تھا یہاں۔” شازم کی نظریں سنجیدہ ہو گئیں۔”یہاں کوئی نہیں ہے آپ کا وہم ہوگا۔۔۔رات ہوگئی ہے آپ آرام کریں۔” اس نے نرمی سے بات سمیٹ دی۔ وہ سر ہلا کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔ وہ وہیں کھڑا رہا۔————————-$$$$$$$$$$$———————-اگلی صبح کروز دبئی کی چمکتی ساحلی پٹی کے قریب آ چکا تھا۔ دور دور بلند عمارتیں سنہری دھند میں لپٹی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ سمندر کا رنگ ہلکے نیلے سے چاندی جیسا ہو رہا تھا اور ہوا میں عجیب تازگی تھی۔ناشتے کے وقت آج ماحول نسبتاً پرسکون تھا۔ کل رات کی نجی تقریب کے بعد سب تھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ناشتے کے بعد اعلان ہوا کہ شام تک سب لوگوں کو دبئی شہر گھمانے لے جایا جائے گا۔ یہ کمپنی کی طرف سے خصوصی سیر تھی۔پورے گروپ میں فوراً جوش پھیل گیا۔“میں برج خلیفہ ضرور دیکھوں گا!”“میں شاپنگ کروں گی۔”دوپہر تک سب لوگ دبئی شہر پہنچ چکے تھے۔چمکتی سڑکیں، بلند عمارتیں، شیشے سے بنی دیوہیکل عمارتیں، ہر طرف روشنی اور شان و شوکت۔۔۔مہ جبین مسلسل حیرت سے اردگرد دیکھ رہی تھی۔“یہ سب حقیقت لگ ہی نہیں رہا…”زین ہر دو منٹ بعد تصویر کھینچ رہا تھا۔ سب لوگ ایک بڑے شاپنگ مال میں داخل ہوئے۔وہاں روشنی، خوشبو اور لوگوں کا شور عجیب جادو پیدا کر رہا تھا۔ مہ جبین ایک دکان کے سامنے رک گئی جہاں ہاتھ سے بنے چھوٹے موسیقی کے ڈبے رکھے تھے۔ اس نے آہستگی سے ایک ڈبہ کھولا۔ مدھم دھن بجنے لگی۔ وہ چند لمحے خاموشی سے سنتی رہی۔“تمہیں پسند آیا؟” اچانک پیچھے سے شازم کی آواز آئی۔“آپ؟” مہ جبین چونکی۔“میرا یہاں آنا منع تھوڑی ہے۔” شازم ہلکا سا مسکرایا۔ اس نے موسیقی والا ڈبہ ہاتھ میں لیا۔“خوبصورت ہے۔”“جی…”مہ جبین کی نظریں اس دھن پر تھیں۔اسی لمحے ایک سیلز گرل قریب آئی۔”should I pack this?”“نہیں نہیں، میں بس دیکھ رہی تھی۔” مہ جبین فوراً بولی،“Pack it.”شازم نے حکم دیا۔ مہ جبین فوراً اس کی طرف مڑی۔“نہیں، میں نہیں لے سکتی۔”“کیوں؟”“بس ایسے ہی….” مہ جبین کا دل عجیب انداز میں دھڑکا۔ وہ فوراً نظریں ہٹا گئی۔اسی لمحے پیچھے سے فواد آ گیا۔ اس کی نظر شازم کے ہاتھ میں موجود باکس پر گئی۔“سب لوگ آگے جا رہے ہیں۔” فواد کی آواز ہموار تھی۔ مگر اندر دبی سختی واضح محسوس ہو رہی تھی۔“ہاں… ہم آ رہے تھے۔” مہ جبین فوراً بولی۔ شازم نے باکس واپس میز پر رکھ دیا۔“Keep it aside.”اس نے سیلز گرل سے کہا۔ پھر خاموشی سے وہاں سے ہٹ گیا۔فواد کافی دیر اس کی جاتی ہوئی پشت دیکھتا رہا۔۔پھر آہستگی سے بولا۔“تمہیں اس کے ساتھ اکیلا نہیں ہونا چاہیے۔”“فواد، پلیز…” مہ جبین فوراً تھک کر بولی۔ فواد خاموش ہوگیا۔————————-$$$$$$$$$$$———————- شام کے وقت سب لوگ شہر کے ایک مشہور صحرا ریزورٹ میں پہنچے۔چاروں طرف سنہری ریت پھیلی ہوئی تھی۔ دور اونٹوں کی گھنٹیاں بج رہی تھیں، عربی موسیقی چل رہی تھی اور غروب ہوتا سورج پورے صحرا کو سنہری آگ جیسا بنا رہا تھا۔مہ جبین جیپ سے اترتے ہی رک گئی۔ ہوا میں ریت کی خوشبو تھی۔سب لوگ مختلف سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔ کوئی تصویریں لے رہا تھا، کوئی اونٹوں کے ساتھ گھوم رہا تھا، کوئی عربی قہوہ پی رہا تھا۔مہ جبین تھوڑی دور اکیلی چلی گئی۔ وہ ریت پر آہستگی سے چل رہی تھی جب اچانک ہوا کا تیز جھونکا آیا۔ اس کے بال چہرے پر بکھر گئے۔ وہ انہیں ہٹانے لگی ہی تھی کہ کسی نے آہستگی سے کہا،“رکو۔” وہ پلٹی۔ وہاں شازم تھا۔اس نے بغیر کچھ کہے اس کے دوپٹے کا اڑتا ہوا کنارہ پکڑ کر آہستگی سے اس کے کندھے پر درست کیا۔ حرکت بہت معمولی تھی۔ مگر مہ جبین کا دل جیسے ایک لمحے کو رک گیا۔ دونوں بہت قریب کھڑے تھے۔ اتنے قریب کہ ماہی کو پہلی بار اپنی سانسیں بےترتیب محسوس ہوئیں۔شازم کی نظریں چند لمحے اس کے چہرے پر ٹھہری رہیں۔پھر دھیرے سے بولا۔“تمہیں اندازہ بھی ہے تم کتنی خوبصورت لگ رہی ہو؟” مہ جبین کی پلکیں لرز گئیں۔اور اسی لمحے زین کی آواز آئی۔”ماہی آؤ گروپ فوٹو۔۔۔”  ماحول کا جادو ٹوٹ گیا۔مہ جبین فوراً ایک قدم پیچھے ہٹی۔ اور شازم… وہ پہلی بار خود پر قابو پاتے ہوئے مشکل محسوس کر رہا تھا۔ بھلا وہ کیسے اتنا بے خود ہو کر بار بار اس کے قریب آرہا تھا ؟ ————————-$$$$$$$$$$$———————-صحرا کی رات آہستہ آہستہ اتر رہی تھی۔سنہری ریت اب ٹھنڈی پڑنے لگی تھی اور آسمان پر ایک ایک کرکے ستارے ظاہر ہو رہے تھے۔ دور عربی موسیقی کی مدھم دھنیں فضا میں تیر رہی تھیں۔ مشعلوں کی روشنی ریت پر لرزتی تو پورا منظر خواب جیسا محسوس ہوتا۔ریگستان کے بیچوں بیچ بڑے بڑے خیمے لگے تھے جہاں بیٹھنے کا انتظام تھا۔ قریب ہی عربی کھانوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔مہ جبین ابھی تک خود کو پوری طرح سنبھال نہیں پائی تھی۔ شازم کی قربت نے اس کے اندر عجیب ہلچل پیدا کر دی تھی۔وہ خود سے خفا تھی۔ کیونکہ وہ جانتی تھی اس کے دل میں فواد کیلئے جگہ موجود تھی۔ پھر یہ بےچینی کیوں؟“ماہی!”عائشہ نے اس کے سامنے ہاتھ ہلایا۔“زمین پر واپس آ جاؤ۔”مہ جبین چونکی۔“کہاں کھوئی ہوئی ہو؟”“کہیں نہیں۔” اس نے ٹال دیا لیکن زین فوراً بولا۔“یہ محبت کی ابتدائی علامات ہیں۔ انسان سامنے والے کی بات نہیں سنتا۔”“تم ایک منٹ سنجیدہ نہیں رہ سکتے؟” فواد نے فوراً اسے گھورا۔مہ جبین نے دھیان بھٹکانے کو آس پاس دیکھا۔ نظر پھر دور کھڑے شازم پر ٹھہر گئی جو کسی عرب تاجر سے بات کر رہا تھا۔ اس کے آس پاس ہمیشہ لوگوں کا ہجوم ہوتا تھا۔————————-$$$$$$$$$$$———————-

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *