Romantic Novels Web Special Novels

Sanam Sodagar Novel By Mehwish khan Episode 5

“مہ جبین… کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟”سمندر کی ٹھنڈی ہوا جیسے ایک لمحے کو رک گئی۔ مہ جبین ساکت کھڑی تھی۔ اس کی سانسیں بےترتیب تھیں، ہاتھ سرد پڑ چکے تھے اور دل اس شدت سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگ رہا تھا شازم بھی سن سکتا ہے۔شازم کی نظریں مسلسل اس پر تھیں۔ وہ انتظار کر رہا تھا۔ اور شاید زندگی میں پہلی بار… اسے انتظار مشکل لگ رہا تھا۔مہ جبین کے ہونٹ ہلے مگر آواز نہ نکلی۔ وہ صرف اسے دیکھتی رہ گئی۔ پھر اچانک اس نے نظریں جھکا لیں۔“مجھے… وقت چاہیے۔”شازم کے چہرے پر کوئی مایوسی نہیں آئی۔صرف ایک بہت ہلکی سی سانس اس کے ہونٹوں سے نکلی۔ جیسے وہ پہلے ہی یہ جواب سوچ چکا تھا۔“جتنا چاہیے لے لو۔” اس کی آواز نرم تھی۔“میں جلدی نہیں کر رہا۔”مہ جبین نے آہستگی سے سر ہلایا۔ پھر تقریباً بھاگتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔ اور شازم کافی دیر وہیں کھڑا سمندر دیکھتا رہا۔————————-$$$$$$$$$$$———————-کمرے میں واپس آتے ہی مہ جبین نے دروازہ بند کیا اور دیوار سے ٹیک لگا لی۔ اس کا دل اب بھی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ عائشہ بستر پر بیٹھی چپس کھاتی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ وہ اکثر مہ جبین کے کمرے میں ہی ملتی تھی۔”کیا ہوا ماہی؟” اس کے چہرے کو غور سے دیکھتی وہ سیدھی ہو کر بیٹھی۔”اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟”مہ جبین خاموشی سے اس کے قریب آ کر بیٹھ گئی۔ پھر چند لمحے بعد دھیمی آواز میں بولی۔”شازم نے مجھے شادی کیلئے پرپوز کیا ہے۔” اس نے بتا دیا۔“کیا؟” عائشہ واقعی چیخ پڑی۔“پھر؟ پھر تم نے کیا کہا؟” وہ مزید پوچھنے لگی۔“میں نے کہا… مجھے وقت چاہیے۔” دھیرے سے بتایا۔“میں واقعی بہت الجھن میں ہوں عائشہ۔” وہ تھک کر بولی۔“فواد کی وجہ سے؟” عائشہ بھی اب سنجیدہ ہوگئی۔مہ جبین خاموش رہی۔ اور یہی خاموشی جواب تھی۔————————-$$$$$$$$$$$———————- اگلی صبح پورے کروز پر غیر معمولی سکون تھا۔زیادہ تر مہمان پچھلی رات کی تقریب کے بعد آرام کر رہے تھے۔ مہ جبین ناشتہ کرنے نیچے آئی تو اسے عجیب سی گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ ہر طرف دیکھتے ہوئے اسے یوں لگ رہا تھا جیسے سب کو اس راز کا پتہ ہو۔“یہ لو، شہزادی تشریف لے آئیں۔” زین نے اسے دیکھتے ہی اعلان کیا۔ وہ چپ چاپ بیٹھ گئی۔اگلے ہی لمحے اس کی نظریں سامنے گئیں…اور وہ رک گئی۔ شازم اندر آ رہا تھا۔ ہمیشہ کی طرح پُرسکون۔مگر آج جب اس کی نظریں مہ جبین پر پڑیں…تو ان میں واضح نرمی تھی۔ اس کا دل ایک بار پھر بےترتیب دھڑکا۔ شازم ان کے قریب آ کر رکا۔“گڈ مارننگ۔۔۔۔۔”  سب نے وش کیا۔ مگر مہ جبین کی آواز سب سے دھیمی تھی۔شازم نے چند لمحے اسے دیکھا۔ پھر بالکل معمول کے انداز میں بولا۔“آج شام واپس روانگی سے پہلے ایک چھوٹی تقریب ہے۔ سب لوگ تیار رہیں۔” مہ جبین نے حیرت سے اسے دیکھا۔ اب کیسی تقریب؟————————-$$$$$$$$$$$———————- ناشتے کے بعد سب لوگ مختلف کاموں میں مصروف ہوگئے۔مہ جبین اکیلی کروز کے پچھلے حصے میں چلی آئی۔ اسے سوچنے کیلئے تنہائی چاہیے تھی۔ مگر اس کے ذہن میں مسلسل ایک ہی بات گھوم رہی تھی۔“کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟”وہ ریلنگ کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی۔ اسی لمحے پیچھے سے قدموں کی آواز آئی۔ وہ پلٹی۔ فواد اس کے قریب آ کر رکا۔مہ جبین کا دل ہلکا سا بیٹھ گیا۔ چند لمحے دونوں خاموش رہے۔ سمندر کی ہوا ان کے درمیان بہتی رہی۔“تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو؟” آخرکار فواد نے پوچھا۔مہ جبین کے گلے میں جیسے کچھ اٹک گیا۔ وہ جھوٹ نہیں بول سکتی تھی۔ مگر سچ بولنے سے بھی ڈر رہی تھی۔“فواد…” اس نے آہستگی سے کہا۔“میں خود بھی سب نہیں سمجھ پا رہی۔”فواد ہلکا سا مسکرایا۔ مگر اس مسکراہٹ میں تھکن تھی۔“میں سمجھ رہا ہوں۔”مہ جبین نے نظریں اٹھائیں۔ فواد کی آنکھوں میں تکلیف تھی…”مجھے شازم کی نظریں بہت کچھ سمجھا گئی ہیں ماہی۔۔۔۔بہتر ہے تم بھی بتا دو۔۔۔” وہ سنجیدہ تھا۔ مہ جبین کا دل دھڑکا۔ فرار کی راہ تنگ تھی۔”اس نے مجھے پرپوز کیا ہے۔” اس نے نظر جھکا کر بتا ڈالا۔فواد نے چند لمحے آنکھیں بند کیں۔ پھر آہستگی سے سر ہلایا۔“میں شروع سے جانتا تھا ایک دن ایسا ہوگا۔”“فواد…” اس نے کچھ کہنا چاہا۔“نہیں۔” اس نے نرمی سے بات کاٹ دی۔“ابھی کچھ مت کہو۔۔۔۔۔۔بس ایک بات سوچ لینا ماہی…” اس کی آواز دھیمی تھی۔“تم جس زندگی میں قدم رکھنے جا رہی ہو… وہ ہماری دنیا جیسی نہیں ہے۔” وہ بس اتنا کہہ کر چلا گیا۔ مہ جبین خاموش رہی۔————————-$$$$$$$$$$$———————- شام کے قریب موسم اچانک خراب ہونے لگا۔ ہوا پہلے سے تیز ہو گئی تھی۔ سمندر کی لہریں بھی بےچین محسوس ہو رہی تھیں۔ سمندر اب پہلے جیسا پرسکون نہیں رہا تھا۔ لہریں کروز کے کناروں سے ٹکرا کر بھاری آواز پیدا کر رہی تھیں اور ہوا میں نمی بڑھ گئی تھی۔مہ جبین اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کے ذہن میں مسلسل ایک ہی الجھن گھوم رہی تھی۔شازم۔۔۔۔۔۔فواد۔۔۔۔۔اور وہ زندگی…جو شاید اس کے سامنے کھڑی تھی۔“تم پھر وہی سوچ رہی ہو نا؟” عائشہ بستر پر الٹی لیٹی اسے دیکھ رہی تھی۔“کیا؟” مہ جبین چونکی۔“بنو مت۔۔۔۔تمہارا چہرہ صاف بتا رہا ہے۔” عائشہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ “مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔” مہ جبین نے گہری سانس لی۔“سمجھنا کیا ہے؟” عائشہ فوراً بولی۔“ایک طرف شازم ملک ہے اور دوسری طرف۔۔۔۔۔” وہ چپ کر گئی۔“دوسری طرف عادت ہے۔” عائشہ نے کہا۔“فواد عادت نہیں ہے۔” مہ جبین چونکی۔“ماہی کبھی کبھی انسان محبت اور عادت میں فرق نہیں کر پاتا۔” عائشہ نرم لہجے میں بولی۔مہ جبین خاموش ہوگئی۔ کیونکہ یہ بات اس کے دل میں کہیں چبھ گئی تھی۔اسی لمحے دروازہ زور سے کھلا۔ زین اندر آیا اور آتے ہی بولا “ہم سب مرنے والے ہیں۔”“بدتمیز! ایسے کون آتا ہے؟” عائشہ چیخ پڑی۔“سمندر میں طوفان آنے والا ہے۔ میں نے فلموں میں دیکھا ہے، ایسے ہی شروع ہوتا ہے۔” زین نے ڈرامائی انداز میں کہا۔“باہر نکلو!” عائشہ نے فوراً تکیہ مارا۔“میں اہم خبر دینے آیا تھا!” وہ اصل بات پر آیا۔“کون سی؟”“آج رات کھانا اوپری حصے میں رکھا گیا ہے کیونکہ نیچے والے حصے میں کچھ مسئلہ ہوا ہے۔” وہ اصل اطلاع دے کر چلا گیا۔————————-$$$$$$$$$$$———————-

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on