پاکستان کی زمین پر قدم رکھتے ہی جیسے ہر چیز بدل گئی تھی۔کروز کی چمکتی روشنیاں، سمندر کی نم ہوا، راتوں کی موسیقی اور وہ بےفکری…سب پیچھے رہ گیا تھا۔ اب سامنے پھر وہی شہر تھا۔۔۔وہی شور۔۔۔۔وہی سڑکیں۔۔۔۔وہی حقیقت۔۔۔۔ہوائی اڈے کے باہر غیر معمولی رش تھا۔ لوگ اپنے عزیزوں سے مل رہے تھے، کوئی سامان سنبھال رہا تھا، کوئی ڈرائیور کو ڈھونڈ رہا تھا۔“یا اللہ… آخرکار زمین!” زین نے باہر نکلتے ہی دونوں بازو پھیلا دیے۔“دو دن بعد پھر سمندر سمندر کرو گے۔” عائشہ فوراً بولی۔ اسی لمحے ایک لڑکا ان کے سامنے سے برگر کھاتا گزرا۔ “چلو پہلے کچھ کھا لیتے ہیں۔” زین فوراً رک گیا۔“تمہیں کوئی نہیں بدل سکتا۔” لائبہ نے ماتھا پکڑ لیا۔مہ جبین خاموشی سے سب دیکھ رہی تھی۔ مگر اس کے دل کے اندر عجیب سی بے چینی اب بھی موجود تھی۔ وہ اس رش میں بھی بار بار شازم کو ڈھونڈ رہی تھی۔ اور پھر اچانک اس کی نظر اس پر پڑی۔ کچھ فاصلے پر کھڑا شازم فون پر بات کر رہا تھا۔ مگر جیسے ہی اس نے فون بند کیا…اس کی نظریں سیدھی مہ جبین پر آ ٹھہریں۔ اور پھر وہ ہلکا سا مسکرایا۔ مہ جبین کے دل میں پھر وہی نرمی اتر گئی۔“میں چلتا ہوں۔” فواد نے آہستگی سے کہا۔“اتنی جلدی؟” عائشہ چونکی۔ “گھر والے انتظار کر رہے ہوں گے۔” اس کی نظریں ایک لمحے کیلئے مہ جبین پر گئیں۔ پھر فوراً ہٹ گئیں۔“خیال رکھنا سب لوگ۔” وہ سب سے مل کر وہاں سے چلا گیا۔ لائبہ کافی دیر اسے جاتا دیکھتی رہی۔————————-$$$$$$$$$$$———————- “ماہی۔۔۔تمہارا شہزادہ ادھر آرہا ہے۔” عائشہ نے اسے کہنی ماری۔“چپ کرو۔” مہ جبین فوراً گھبرا گئی۔ شازم واقعی ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے ساتھ حارث بھی تھا۔“گھر کیسے جاؤ گی؟” شازم نے قریب آتے ہی پوچھا۔“جی… ٹیکسی لے لوں گی۔””نہیں…ڈرائیور چھوڑے گا۔” شازم نے فوراً بھنویں چڑھائیں۔ مہ جبین کچھ بولنے ہی والی تھی کہ زین درمیان میں کود پڑا۔“اگر اضافی گاڑی ہو تو میں بھی۔۔۔۔۔”“تم پیدل جاؤ۔” حارث فوراً بولا۔ عائشہ زور سے ہنس پڑی۔“ڈرائیور باہر موجود ہے۔ وہ تم سب کو گھر چھوڑ دے گا۔” شازم نے مہ جبین کی طرف دیکھا۔ مہ جبین نے آہستگی سے سر ہلا دیا۔ نہ جانے کیوں اب اسے اس آدمی کی بات ماننے کی عادت ہونے لگی تھی۔————————-$$$$$$$$$$$———————- شازم کی گاڑی شہر کی مصروف سڑکوں سے گزر رہی تھی۔ مہ جبین کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اسلام آباد ہمیشہ کی طرح زندہ تھا۔ شور سے بھرا ہوا۔ دکانوں کی روشنیاں، رکشوں کے ہارن، سڑک کنارے چائے کے ہوٹل، ٹریفک میں الجھے لوگ…اور اس سب کے درمیان اسے کروز کی خاموش راتیں یاد آنے لگیں۔ فون اچانک بجا۔اس کا دل ایک لمحے کو زور سے دھڑکا۔ شازم کی کال تھی۔“گھر پہنچ گئیں؟”“نہیں ابھی راستے میں ہوں۔”“اچھا۔” چند لمحے خاموشی رہی۔ ڈرائیور نے ریئر ویو آئینے سے ایک نظر پیچھے ڈالی۔ اور فوراً نظریں ہٹا لیں۔ شاید وہ سمجھ گیا تھا یہ گفتگو عام نہیں ہے۔“گھر پہنچ کر آرام کرنا۔” شازم نے نرم لہجے میں کہا۔“جی۔”“اور ہاں…مجھے یاد کرنا مت بھولنا۔” مہ جبین کا دل عجیب انداز میں دھڑکا۔ اور کال ختم ہوگئی۔————————-$$$$$$$$$$$———————- تقریباً چالیس منٹ بعد گاڑی ایک نسبتاً پرانی گلی میں داخل ہوئی۔ یہ وہ دنیا تھی جو شازم کی دنیا سے بالکل مختلف تھی۔ چھوٹے چھوٹے مکان۔۔۔تنگ سڑکیں۔۔۔۔باہر کھیلتے بچے۔۔۔۔دروازوں سے جھانکتی عورتیں۔ گاڑی رکتے ہی کئی نظریں فوراً اس طرف اٹھ گئیں۔“ارے واہ…یہ کس کی گاڑی ہے؟” سامنے کھڑی ایک آنٹی فوراً بولیں۔ مہ جبین نے جلدی سے دروازہ کھولا۔“بی بی، سامان۔۔۔۔۔” ڈرائیور فوراً باہر نکلا۔“میں لے لوں گی۔” وہ جلدی سے بولی۔ کیونکہ وہ جانتی تھی اس گلی میں پانچ منٹ میں خبریں پورے علاقے میں پھیل جاتی ہیں۔ مہ جبین جلدی جلدی سامان اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھی۔ اسی لمحے دروازہ کھلا۔ مامی سامنے تھیں۔ اور اگلے ہی لمحے ان کی نظریں گاڑی پر جا ٹھہریں۔۔۔پھر مہ جبین پر۔۔۔۔پھر دوبارہ گاڑی پر۔۔۔“یہ کس کی گاڑی ہے؟”“کمپنی والوں کی۔۔۔۔” مہ جبین فوراً اندر داخل ہوگئی۔ مگر مامی کی آنکھوں میں تجسس واضح تھا۔————————-$$$$$$$$$$$———————-
Sanam Sodagar Novel By Mehwish khan Episode 6

