رشتہ طے ہونے کے بعد سے ہی دونوں طرف زور و شور سے شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں کیونکہ وقت کم تھا اور مقابلہ سخت! مہ جبین کے گھر میں بھی اب ہر وقت غیر معمولی رونق رہتی تھی۔ ابھی بھی چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں کپڑوں کے نمونے، دعوت ناموں کے ڈیزائن، مٹھائی والوں کے کارڈ اور مختلف دکانوں کے تھیلے پھیلے ہوئے تھے۔ مامی فرش پر بیٹھی ایک کاپی میں کچھ لکھ رہی تھیں جبکہ ماموں عینک ناک پر جمائے حساب لگانے میں مصروف تھے۔”کھانے میں ایک میٹھی چیز کافی ہے۔ پانچ پانچ ڈشوں کی ضرورت نہیں، بہت خرچہ ہو رہا ہے ہر چیز میں اتنا مت بڑھو۔” آخر کار اور انھوں نے ٹوک دیا۔“ارے اب اتنے بڑے لوگوں سے رشتہ ہوا ہے تو عزت بھی رکھنی ہے نا!”مہ جبین صوفے کے کونے پر بیٹھی دونوں کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔ اسے آج بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب حقیقت ہے۔صرف چند ہفتے پہلے تک وہ ایک عام سی لڑکی تھی جو ردم گروپ کے ساتھ چھوٹے موٹے پروگرام کرتی تھی۔اور آج…اس کی شادی شازم ملک سے طے ہو چکی تھی۔“ماہی۔۔۔۔ادھر آؤ۔” مامی کی آواز پر وہ چونکی۔ آہستہ سے ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔“یہ دیکھو۔۔۔مہندی کیلئے کون سا رنگ اچھا لگے گا؟ پیلا یا سبز؟” مامی نے کاپی اس کے سامنے کی۔“جو آپ کو اچھا لگے۔” مہ جبین نے بےدلی سے دونوں رنگ دیکھے۔“نہیں۔۔۔۔اب تمہاری شادی ہے۔ تم بتاؤ۔” مامی فوراً بولیں۔“سبز ٹھیک ہے۔”“میں نے بھی یہی سوچا تھا!” مامی فوراً خوش ہوگئیں۔ مہ جبین ہلکا سا مسکرا دی۔————————-$$$$$$$$$$$———————- دوسری طرف ملک ہاؤس میں بھی تقریباً یہی حال تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ وہاں ہر چیز کئی گنا بڑی اور مہنگی تھی۔ وسیع ہال کی میز پر درجنوں فائلیں، کپڑوں کے نمونے اور زیورات کے ڈبے رکھے تھے۔ رفعت بیگم آرام کرسی پر بیٹھی لسٹ بنا رہی تھیں جبکہ شازم سامنے صوفے پر پاؤں پھیلائے کافی پی رہا تھا۔“مہمانوں کی تعداد کتنی رکھی جائے؟”“جتنی آپ چاہیں۔”“یہ کوئی جواب نہیں۔”“مام، آپ پچھلے تین دن سے یہی پوچھ رہی ہیں۔” شازم ہلکا سا ہنسا۔“اور تم پچھلے تین دن سے سیدھا جواب نہیں دے رہے!”“سادہ رکھیں۔” شازم نے کپ میز پر رکھا۔“سادہ؟ بیٹا تمہاری شادی ہے۔ آدھا شہر آئے گا!” رفعت بیگم نے فوراً اسے دیکھا۔“مجھے فرق نہیں پڑتا۔” شازم نے بےپرواہی سے کندھے اچکائے۔ رفعت بیگم چند لمحے خاموش رہیں۔ پھر مسکرا دیں۔“تمہیں واقعی صرف لڑکی سے مطلب ہے نا؟” شازم کے چہرے پر بےاختیار نرمی آگئی۔ رفعت بیگم نے غور سے بیٹے کو دیکھا۔ وہ واقعی بدل رہا تھا۔ پہلے وہ کام کے علاوہ کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتا تھا۔اور اب…وہ روز مہ جبین کا ذکر کرتا تھا۔کبھی اس کی ہنسی۔۔۔۔کبھی اس کی گھبراہٹ۔۔۔۔کبھی اس کی سادگی۔“ویسے۔۔۔۔مہ جبین کیلئے زیورات تم پسند کرو گے یا میں؟” رفعت بیگم بولیں۔“آپ۔”“اور جوڑا؟”“وہ میں۔”“کیوں؟”“کیونکہ اپنی دلہن پر اتنا تو حق رکھتا ہوں۔” شازم ہلکا سا مسکرایا۔“اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔” رفعت بیگم کے چہرے پر بےاختیار ممتا اتر آئی۔————————-$$$$$$$$$$$———————-
Sanam Sodagar Novel By Mehwish khan Episode 7

