9ملک ہاؤس کے مرکزی دروازے پر روشنیوں کی قطاریں جگمگا رہی تھیں۔ رات کافی گزر چکی تھی مگر گھر کے اندر ابھی تک جاگتی ہوئی خوشیوں کا شور موجود تھا۔ جیسے ہی گاڑی اندر داخل ہوئی، دروازے کے قریب کھڑی ملازمائیں اور چند قریبی رشتہ دار متوجہ ہوگئے۔ رفعت بیگم تو جیسے کافی دیر سے اسی لمحے کا انتظار کر رہی تھیں۔ گاڑی رکتے ہی وہ اتر کر خود آگے بڑھ آئیں۔”آہستہ سے بیٹا…” انہوں نے گاڑی کا دروازہ کھلواتے ہوئے کہا۔مہ جبین نے بھاری لہنگا سنبھالتے ہوئے باہر قدم رکھا۔چند لمحوں کیلئے اس کی نظریں اس وسیع و عریض گھر پر جم گئیں۔ یہ گھر پہلے بھی وہ دیکھ چکی تھی۔ مگر آج بات مختلف تھی۔آج وہ مہمان بن کر نہیں آئی تھی۔ آج اسے یہیں رہنا تھا۔رفعت بیگم محبت سے اس کے قریب آئیں۔”خوش آمدید میری بچی۔”پھر انہوں نے اس کی پیشانی چومی۔ مہ جبین نے احترام سے ان کا ہاتھ تھام لیا۔ گھر کے اندر داخل ہوتے ہی ایک مختصر سی رسم ادا کی گئی۔ چند عورتوں نے دعائیں دیں۔ شازم صرف مسکراتا رہا۔ اس کی نظریں بار بار مہ جبین کی طرف اٹھ جاتی تھیں۔ کچھ دیر مزید ہنسی مذاق چلتا رہا۔پھر آخرکار رفعت بیگم مہ جبین کو اوپر لے گئیں۔ لمبی راہداری سے گزرتے ہوئے وہ ایک بڑے دروازے کے سامنے رکیں۔ دروازہ کھلا تو مہ جبین چند لمحوں کیلئے دنگ رہ گئی۔ پورا کمرہ پھولوں، نرم روشنیوں اور خوشبو سے سجا ہوا تھا۔ بستر پر سفید اور عنابی رنگ کے پھول بکھرے ہوئے تھے۔ پردے نئے لگے تھے۔ ہر چیز غیر معمولی احتیاط سے تیار کی گئی تھی۔ رفعت بیگم مسکرائیں۔”میں چلتی ہوں بیٹا۔۔۔۔کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا لینا۔” رفعت بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔دروازہ بند ہوگیا۔وہ اکیلی رہ گئی۔ کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔ مہ جبین آہستہ آہستہ بستر کے کنارے آ کر بیٹھ گئی۔ بھاری زیورات اب بوجھ محسوس ہونے لگے تھے۔ اس نے ایک گہری سانس لی۔ آج کا پورا دن اس کے ذہن میں گھومنے لگا۔نکاح۔۔۔۔۔رخصتی۔۔۔۔۔فواد۔۔۔۔شازم۔۔۔۔سب کچھ۔۔۔۔اسے اچانک فواد کی آواز یاد آئی۔”بس کچھ وقت کی بات ہے۔”وہی جملہ جو وہ خود کو بار بار یاد دلا رہی تھی۔ مگر نہ جانے کیوں دل مطمئن نہیں ہو رہا تھا۔ کمرے میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ پھولوں کی خوشبو فضا میں گھلی ہوئی تھی۔ مہ جبین بستر کے کنارے بیٹھی اپنے ہاتھوں میں سجی مہندی کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔ دل میں عجیب سی بےچینی تھی۔ آج اس کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا تھا۔ دروازہ آہستہ سے کھلا اور شازم اندر داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر دن بھر کی تھکن موجود تھی مگر آنکھوں میں خوشی کی چمک نمایاں تھی۔ چند لمحے وہ دروازے کے قریب کھڑا مہ جبین کو دیکھتا رہا۔ پھر دھیرے دھیرے اس کے قریب آ گیا۔”بہت تھک گئی ہو نا؟” مہ جبین نے ہلکا سا سر ہلا دیا۔”میں بھی۔” شازم مسکرایا۔اس کی بات سن کر مہ جبین کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔ کمرے کی فضا کچھ نرم سی ہوگئی۔ شازم نے میز سے پانی کا گلاس اٹھایا اور اس کی طرف بڑھایا۔”پانی پی لو۔” مہ جبین نے خاموشی سے گلاس لے لیا۔”آج کا دن شاید تمہارے لیے بہت مشکل تھا۔” اس نے نرمی سے کہا۔”نیا گھر۔۔۔نئے لوگ۔۔۔نئی زندگی۔۔۔” شازم اس کے برابر بیٹھ گیا۔ مہ جبین خاموش رہی۔”لیکن ایک بات یاد رکھنا۔۔۔۔تم یہاں اکیلی نہیں ہو۔” وہ آہستہ سے بولا۔ مہ جبین نے اس کی طرف دیکھا۔ شازم کی آنکھوں میں عجیب سی سچائی تھی۔”میں چاہتا ہوں تم اس گھر میں کبھی خود کو اجنبی محسوس نہ کرو۔”کمرے میں چند لمحوں کیلئے خاموشی چھا گئی۔ باہر کہیں دور رات کے سناٹے میں ہلکی ہوا چل رہی تھی۔شازم نے دھیرے سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ اس کے لمس پر مہ جبین کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ وہ جھجک گئی۔ شازم نے فوراً اس کے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھا تو مسکرا دیا۔”اتنا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔” اس کی آواز میں محبت تھی، زبردستی نہیں۔ مہ جبین نے نظریں جھکا لیں۔شازم کافی دیر تک اس سے مختلف باتیں کرتا رہا۔۔۔بچپن کی یادیں۔۔۔اپنی ماں کی باتیں۔۔۔۔مستقبل کے خواب۔۔۔۔وہ مسلسل کوشش کر رہا تھا کہ مہ جبین کی جھجک کم ہو جائے۔وقت گزرتا گیا۔باتوں کے درمیان فاصلے کم ہوتے گئے۔ مہ جبین کو محسوس ہوا کہ شازم اس سے صرف متاثر نہیں بلکہ واقعی دل سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔اور شازم۔۔۔۔وہ اپنی نئی دلہن کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اسے دنیا کی سب سے قیمتی نعمت مل گئی ہو۔رات آہستہ آہستہ گہری ہوتی گئی۔کمرے کی روشنیاں مزید مدھم لگنے لگیں۔ وہ دونوں اب ایک دوسرے کے پہلو میں لیٹ چکے تھے۔ دونوں اپنی نئی زندگی کے پہلے سفر میں ایک دوسرے کو سمجھنے، جاننے اور قریب آنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس رات شازم کے دل میں صرف ایک خواہش تھی۔ کہ مہ جبین اس کی زندگی میں ہمیشہ اسی طرح موجود رہے۔اور مہ جبین…وہ ابھی بھی اپنے دل کے اندر چلنے والی کشمکش کے ساتھ ایک نئے رشتے کی حقیقت کو قبول کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔شازم نے اس کی طرف کروٹ لے کر آہستہ سے کمر پر ہاتھ رکھا۔ آنکھیں اجازت مانگ رہی تھیں۔ مہ جبین نے کچھ کہے بنا نظریں جھکا دیں۔ شازم نے اسے اپنے قریب کھینچتے ہوئے آغوش میں بھینچ لیا۔ اس کے ہاتھ اور ہونٹ مہ جبین کے وجود حقِ ملکیت جتانے لگے تھے۔ اور وہ بس سانس روکے سب ہونے دے رہی تھی۔رات گزرتی رہی۔ اور نئی شادی کے اس پہلے سفر میں مہ جبین اپنے ہی خیالات، الجھنوں اور آنے والے دنوں کے اندیشوں کے ساتھ خاموشی سے بہتی چلی گئی۔————————-$$$$$$$$$$$———————-
Sanam Sodagar Novel By Mehwish khan Episode 9

