Uncategorized

Sanam Sodagar Novel By Mehwish khan Episode Last

فواد کو ہمیشہ لگتا تھا کہ وہ سب سے زیادہ ذہین ہے۔ لوگ جذبات میں فیصلے کرتے ہیں، جبکہ وہ فائدے میں۔لوگ رشتوں کو اہمیت دیتے ہیں، جبکہ وہ موقعوں کو۔لوگ وفاداری پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ وہ کامیابی پر۔اور ایک لمبے عرصے تک واقعی ایسا ہی لگتا رہا تھا جیسے دنیا اسی کے حساب سے چل رہی ہو۔ہر مشکل سے نکل جاتا تھا۔ہر جھوٹ چھپا لیتا تھا۔ہر نقصان کو فائدے میں بدل لیتا تھا۔مگر اسے کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ بعض اوقات انسان اپنی سب سے بڑی شکست خود اپنے ہاتھوں سے تیار کرتا ہے۔ماہی سے تعلق ختم ہونے کے بعد فواد نے ایک دن بھی ضائع نہیں کیا تھا۔کچھ دن اداسی ضرور رہی تھی۔لیکن جلد ہی اس کی توجہ دوبارہ پیسے اور ترقی پر مرکوز ہو گئی۔ردم گروپ اب پہلے سے کہیں زیادہ مشہور ہو چکا تھا۔بڑے بڑے پروگرام۔زیادہ معاوضے۔نئے رابطے۔اور مسلسل بڑھتی ہوئی شہرت۔فواد کی آنکھوں میں اب پہلے سے بھی بڑے خواب تھے۔ ایک دوپہر وہ اپنے آفس نما کمرے میں بیٹھا کچھ کاغذات دیکھ رہا تھا۔سامنے دو آدمی بیٹھے تھے۔”اگر یہ معاہدہ ہو گیا تو اگلے سال تک ہم تین گنا اوپر جا سکتے ہیں۔” ایک شخص نے کہا۔فواد کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔”ہو جائے گا۔” اس نے پراعتماد لہجے میں جواب دیا۔”میں کسی بھی قیمت پر یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دوں گا۔””کسی بھی قیمت پر؟” وہ شخص ہلکا سا مسکرایا۔”کامیابی قیمت نہیں دیکھتی۔” فواد نے فوراً جواب دیا۔ یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ وہ واقعی یہ بات ماننے لگا تھا۔اسی دوران چند ممبرز کو محسوس ہونے لگا کہ فواد کچھ معاملات ان سے چھپا رہا ہے۔ حساب کتاب واضح نہیں تھا۔ کچھ پروگراموں کی آمدنی کم ظاہر کی جا رہی تھی۔اور کچھ فیصلے صرف فواد خود کر رہا تھا۔پہلے کسی نے زیادہ توجہ نہیں دی۔کیونکہ سب اس پر اعتماد کرتے تھے۔ مگر اب سوالات بڑھنے لگے تھے۔ ایک شام زین نے براہ راست پوچھ لیا۔”یہ پچھلے تین پروگراموں کا مکمل حساب کہاں ہے؟””میرے پاس ہے۔” فواد نے بے زاری سے سر اٹھایا۔”تو ہمیں کیوں نہیں دکھا رہے؟””کیونکہ ہر چیز کا جواب دینا ضروری نہیں۔” فواد کا چہرہ سخت ہو گیا۔ “ضروری ہے، ہم سب گروپ میں شریک ہیں۔” زین نے حیرت سے اسے دیکھا۔”صرف نام کے۔” فواد بے دھیانی میں بول گیا۔ پھر فوراً خاموش ہو گیا۔مگر دیر ہو چکی تھی۔سب سن چکے تھے۔ وہ جملہ سب کے دل میں اتر گیا۔ صرف نام کے۔یعنی وہ واقعی خود کو باقی سب سے الگ سمجھنے لگا تھا۔اسی دوران اس بڑے معاہدے پر کام تیزی سے چل رہا تھا۔ فواد نے کچھ ایسے وعدے کر دیے تھے جو پورے کرنا ممکن نہیں تھے۔مگر اسے یقین تھا کہ بعد میں کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔ہمیشہ کی طرح۔مگر اس بار قسمت اس کے ساتھ نہیں تھی۔ چند ہفتوں بعد ایک اہم میٹنگ رکھی گئی۔تمام متعلقہ لوگ موجود تھے۔ ردم گروپ کے چند ممبرز بھی۔ اور وہ سرمایہ کار بھی جن سے فواد نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے۔شروع میں سب معمول کے مطابق چلتا رہا۔مگر اچانک ایک شخص نے کچھ کاغذات میز پر رکھ دیے۔”اس کی وضاحت کریں۔”فواد نے بے فکری سے کاغذات اٹھائے۔اور اگلے ہی لمحے اس کا رنگ بدل گیا۔ یہ وہی ریکارڈ تھا جسے وہ چھپا رہا تھا۔ اصل آمدنی۔ اصل معاہدے۔ اور وہ رقم جو اس نے الگ راستوں سے منتقل کی تھی۔کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔سب کی نظریں اس پر جم گئیں۔”یہ فیک ہے۔” فواد فوراً بولا۔مگر دوسری طرف سے مزید ثبوت سامنے آ گئے۔ ایک نہیں۔ دو نہیں۔ کئی۔ اور اب انکار ممکن نہیں رہا تھا۔ زین کی آنکھوں میں ناقابلِ یقین حیرت تھی۔لائبہ کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔ باقی لوگ بھی سکتے میں تھے۔فواد نے ایک لمحے کیلئے سب کو دیکھا۔ پھر اسے احساس ہوا کہ شاید وہ واقعی پھنس چکا ہے۔ مگر اس کے باوجود غرور باقی تھا۔”میں نے یہ سب گروپ کیلئے کیا۔” اس نے سنبھل کر کہا۔ مگر اس بار کوئی یقین کرنے کیلئے تیار نہیں تھا۔ کیونکہ حقیقت بہت واضح تھی۔اس نے گروپ کیلئے نہیں۔خود کیلئے کیا تھا۔ میٹنگ وہیں ختم ہو گئی۔معاہدہ منسوخ کر دیا گیا۔اور فواد کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔جو لوگ کل تک اس کے ساتھ تھے، اب دور ہونے لگے۔کسی کو دھوکے باز پسند نہیں آتا۔خاص طور پر کامیابی کی دنیا میں۔ چند دن بعد ردم گروپ کا ماحول مکمل بدل چکا تھا۔ لائبہ اب اس سے بات تک نہیں کرتی تھی۔ زین صرف ضرورت کے تحت گفتگو کرتا۔ باقی لوگ بھی فاصلے پر رہنے لگے۔فواد پہلی بار اکیلا محسوس کرنے لگا۔ مگر پھر بھی وہ اپنی غلطی ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔ ایک شام وہ تنہا اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ خاموشی تھی۔ فون خاموش تھا۔ کوئی پیغام نہیں۔ کوئی کال نہیں۔کوئی ایسا شخص نہیں جو اس سے ملنے آنا چاہتا ہو۔تبھی اس کی نظر ایک پرانی تصویر پر پڑی۔ردم گروپ کی تصویر۔جب سب ایک ساتھ تھے۔ جب ماہی بھی موجود تھی۔ جب لائبہ صرف ایک عام ممبر تھی۔ جب زین ہر مشکل میں اس کے ساتھ کھڑا رہتا تھا۔اور جب لوگ اس پر اعتماد کرتے تھے۔فواد نے تصویر کو چند لمحے دیکھا۔پھر نظریں ہٹا لیں۔کیونکہ اب وہ سب ختم ہو چکا تھا۔کسی نے اس سے نہیں چھینا تھا۔اس نے خود کھویا تھا۔اپنے لالچ کی وجہ سے۔اپنی خود غرضی کی وجہ سے۔ اپنی انا کی وجہ سے۔ رات گہری ہوتی گئی۔کھڑکی کے باہر شہر کی روشنیاں چمک رہی تھیں۔ مگر فواد کی زندگی میں اندھیرا اتر آیا تھا۔ وہ کامیابی کے پیچھے بھاگتا رہا۔ اور آخر میں کامیابی بھی گئی۔ اعتماد بھی گیا۔ رشتے بھی گئے۔اور لوگ بھی۔اب اس کے پاس صرف وہی چیز باقی تھی جس کیلئے اس نے سب کچھ قربان کیا تھا۔ اپنی انا۔اور انا کبھی تنہائی کا ساتھ نہیں چھوڑتی۔مگر تنہائی کا بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے۔ اور آج پہلی بار فواد اس بوجھ کے نیچے دبنا شروع ہو گیا تھا۔————————-$$$$$$$$$$$———————-

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on